ڈائری قرنطینہ سے
02 اپریل 2020 2020-04-02

کورونا کی وبا کے بارے میں پڑھ پڑھ کر اور سن سن کر حال یہ ہے کہ فارغ بیٹھے ہوئے کبھی تھکاوٹ ہونے لگتی ہے اور کبھی اٹھتے بیٹھتے کورونا کی کوئی نہ کوئی علامات محسوس ہوتی رہتی ہیں۔تحقیق و تحریر کے دوران قرنطینہ اور سماجی فاصلوں کے بارے میں پتہ چلا تو سوچا کیوں نہ ہم بھی 1 ہفتے کا قرنطینہ کر لیں؟اس طرح دفتر سے چھٹیاں کر لیں اور گھر سے کام کرنے کا تجربہ کرنے کی ٹھان لی۔ پورا ایک ہفتہ سلائی کے منتظر نئے جوڑے دینے نہ درزی کے لیے گھر سے نکلے، نہ کوئی خریداری کی اور نہ ہی چہل قدمی کے بارے میں گھر سے باہر نکلنے کا سوچنے کی بھی جسارت کی لیکن دفتر کا کام پورا رکھا۔ ایک ہفتہ گھریلو قرنطینہ میں گزارنے کے بعد پتہ چلا کے رات کو سونا پھر صبح سونا اور پھر دوپہر کو بھی سونا کسے کہتے ہیں؟ قرنطینہ کے دوران گھر کی چھت پر بیٹھنے کا وقت ملا تو لگا کہ پرندے بھی ہماری دنیا میں رہتے ہیں۔ گھر کے عقب میں سبزہ دیکھا، بغیر پتوں کے درختوں کی خوبصورتی اور تو اور ایک درخت پر کسی نایاب پرندے کا گھونسلا اور بچے بھی دیکھے۔رات کو محسوس کیا تو تارے گننے والی باتیں بھی سمجھ آئیں۔ پہلی مرتبہ شہر کے آسمان پر تاروں کے جھرمٹ میں گھرا چاند دیکھا تو لگا کسی شمالی علاقے میں موجود ہوں۔ قدرت کے نظام کو توازن پکڑتے یوں دیکھا تو چند لمحوں کے لیے وزیر اعظم کی بات سمجھ آنے لگی کہ شاید وہ اسی لیے کہتے ہیں آپ نے گھبرانا نہیںہے ۔موبائل، ٹیکنالوجی اور تیز رفتاری کے اس دور میں کورونا کی وبا نے جہاں دنیا کا نظام روک دیا ہے وہاں ہی اس کے مثبت پہلو بھی ہیں۔ ایسی بہت سے چیزیں ہمارے ارد گرد ہی موجود ہیں جن سے بے نیاز ہم موبائل و ٹیکنالوجی کی دنیا میں مگن رہتے ہیں۔ سنا ہے حکومت مکمل لاک ڈاؤن پر

غور کر رہی ہے۔ سوچتی ہوں کیا صورتحال ہو اگر 14 دن کے لیے موبائل فون، انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن سب بند ہو جائیں؟ مجھے تو لگتا ہے ایسا ہوا تو محض 14 دنوں میں 1400 سال پیچھے کی دنیا میں بھی جا سکتے ہیں،پیغام رسانی کے لیے کبوتر اور قاصد کا دور واپس آ جائے تو ہم تیز رفتار دور کے پنچھی بھلا کہاں برداشت کر سکیں گے؟ لیکن قدرت تو قدرت ہے انسان جتنی مرضی ترقی کر لے، ایجادات کر لے، پانیوں اور ہواؤں کو ہی کیوں نہ تسخیر کر لے، قدرت اپنے اندر بہت سے ایسے راز سموئے ہوئے ہے جو انسان کو قیامت تک مصروف عمل رکھنے کے لیے کافی ہیں۔لگتا ہے رب نے بھی انسان کی فطرت کو دیکھتے ہوئے ہی اپنی کائنات میں اتنے اسرار رکھے ہیں۔ آج جب انسان نے یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ دنیا پر قدرت رکھتا ہے تو رب نے ایک نظر تک نہ آنے والے وائرس کے ذریعے بتایا کہ بتایا کہ کائنات کا اصل حاکم کون ہے؟اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی سورۃ المومنین میں مشرکین کا حال کچھ یوں بیان فرماتا ہے:

" ان سے پوچھو یہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے کس کا ہے، اگر تم جانتے ہو؟

وہ فوراً کہیں گے اللہ کاہے۔

کہہ دو پھر تم کیوں نہیں سمجھتے ؟

ان سے پوچھو کہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے؟

وہ فوراً کہیں گے اللہ ہے۔

کہہ دوکیاپھر تم اللہ سے نہیں ڈرتے۔

ان سے پوچھو کہ ہر چیز کی حکومت کس کے ہاتھ میں ہے اور وہ بچا لیتا ہے اور اسے کوئی نہیں بچا سکتا اگر تم جانتے ہو؟

وہ فوراً کہیں گے اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔

کہہ دو پھرتم کیسے دیوانے ہو رہے ہو؟ (سورۃ المومنون،آیت 84-89)"

بلاشبہ سوچنے، سمجھنے اور غور کرنے والوں کے لیے بہت سے نشانیاں موجود ہیں مگر ہم شاید غور کرنے والوں میں سے ہی نہیںہیں ۔قدرتی وسائل کے غیر منصفانہ اور بے جا استعمال نے ہمیںکبھی گلوبل وارمنگ اور اور کبھی سموگ جیسے خطرات سے دو چار کیا ۔ ہم نے اس زمین پر صرف اپنے سے کمزور انسانوں کا حق ہی نہیں مارا بلکہ چرند پرند اور ہریالی کوبھی نیست و نابود کر دیا ۔ ذاتی فوائد کے لئے اور خاص طور پر سرمایہ داری نظام کو فائدہ پہنچانے کے لئے قدرت کے توازن کو بگاڑنے کے جرم انسان کے سر ہی جاتا ہے ۔ کورونا کی وبا کے ان مشکل دنوں میں جہاں ہمیں قدرت کے نظام کا توازن سمجھنے کا موقع مل رہا ہے وہاں ہی ہماری اجتماعی اور انفرادی ذمہ داریاں بھی موجود ہیں جو نبھائی نہ گئیں تو مزید نقصان برداشت کرنا ہو گا۔ بہت سے رضا کاروں کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری تنظیموں کا کردار بھی قابل تحسین ہے ۔ الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق 18 ہزار رضا کار اب تک 1 لاکھ خاندانوں کو راشن بیگز پہنچا چکے ہیں جبکہ تیار کھانا، فیس ماسک، صابن، ہینڈ سینیٹائزرز تقسیم کرنے اورسپرے کرنے کاسلسلہ بھی جاری ہے ۔ سرکاری کورونا ٹائیگر فورس ، الخدمت کورونا ٹاسک فور س اور سرکاری ریلف فنڈ حاصل کرنے کے بہت سے طریق کار وضع کر دئیے گئے ہیں لیکن ہماری اجتماعی اور انفرادی ذمہ داری اب بھی موجود ہے ۔ اپنے ارد گرد سفید پوش ، ضرورت مند اور بے سہارا افراد کی ذمہ داری صرف حکومت یا مخیر حضرات کی نہیں ہے ۔ آئیں آگے بڑھیں انفرادی سطح پر ممکن ہے تو انفرادی سطح پر اور اگر آپ صاحب حیثیت ہیں اور ارد گرد کوئی ضرورت مند نہیں توالخدمت جیسے کسی ادارے یا وزیر اعلیٰ و وزیر اعظم کورونا فنڈ کے ذریعے اس مشکل سے نکلنے میں اپنا حصہ ڈالیں۔ قرنطنیہ کی ڈائری سے ایک شعربھی …

چشم سے مخفی اک کورونا نے تو خدا یاد دلا دیا دنیا کو

نہ جانے خلق خدا پر ظلم کیوں یاد نہیں رہتا اہل زمیں کو


ای پیپر