یہ بازی عشق کی بازی ہے
02 اپریل 2020 2020-04-02

انسانیت کو اس وقت کرونا سے بقاء کی جنگ کا چیلنج در پیش ہے۔ اس موقع پر ہر شخص کو مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ذہنی تناؤ سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ ہمیں مثبت توانائیوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں راہ عمل اپنانا ہو گی۔ اس موقع پر شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کی ایک فارسی نظم یاد آ رہی ہے۔ نئی نسل تو اس سے قطعی واقف نہیں پرانی نسل نے کبھی غور نہیں کیا یہ نظم موجودہ عالمی حالات میں اس وقت سب سے بڑی Motivation ہے۔ علامہ صاحب اپنے خالق دو جہاں اور مالک ارضی و سماوی سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں:

تو شب آفریدی چراغ آفریدم

سفال آفریدی ایاغ آفریدم

بیابان و کوہسار و داغ آفریدی

خیابان و گلزار و باغ آفریدم

من آنم کہ از سنگ آئینہ سازم

من آنم کہ از زہر نوشینہ سازم

تو دریا و بحر و سحاب آفریدی

سفینہ و لہر و سراغ آفریدم

ترجمہ: (اے مالک) تو نے رات بنائی تو (تاریکیٔ شب کو دور کرنے کی خاطر) میں نے چراغ بنا لیا۔ تو نے خاک پیدا کی تو (میری ہنر مندی دیکھ) میں نے مٹی سے پیالہ تخلیق کر دیا۔ اے اللہ! تو نے بیانان بنجر پہاڑ اور ریگستان بنائے جبکہ میں نے ان کو چراہ گاہوں ، لالہ زاروں اور باغات کی شکل دے دی۔ (اے رب تو میری کاریگری تو دیکھ) میں نے تیرے بنائے ہوئے پتھر سے شیشہ تشکیل کر دیا اور وہ میں ہی ہوں جس نے زہر کو امرت یا شہد میں تحلیل کر ڈالا۔ اے اللہ! آپ نے دریا سمندر اور بادل بنائے جبکہ میں نے بحری جہاز بنا کر لہروں پر حکمرانی اور منزل پر پہنچنے کا ذریعہ بنا لیا۔

انسانیت نے ہر دور اور ہر مقام پر شکوۂ تقدیر کی بجائے اپنی بقا اور سہولت کا سامان پیدا کیا ہے۔ ہم جس لمحہ میں زندہ ہیں اور جس بحران سے دو چار ہیں اس میں بھی بالآخر جیت انسانیت کی ہو گی کرونا جیسا نادیدہ دشمن جب تک اپنے انجام تک نہیں پہنچ جاتا تب تک انسانیت کا سارا زور اس نقطہ پر ہے کہ خود کو کیسے بچایا جائے یا اس مصیبت میں مبتلا ہونے والوں کی کیسے مدد کی جائے۔ یہ

کام دنیا بھر میں جاری ہے۔ اس میں ڈاکٹر اور پیرا میڈکس اور دیگر عملہ ہراول دستے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس موقع پر Saving the Saviours یا بچانے والوں کو بچانا سب سے بڑا چیلنج ہے کہ ان مسیحاؤں کو ان کی زندگی بارے پیش خطرات سے کیسے بچایا جائے انہیں پروٹیکٹو لباس دستانے ماسک وغیرہ کی فراہمی بہت بڑا سوال ہے۔

لاہور میں فرینڈز آف میو ہسپتال (FOMH) ٹرسٹ ایک غیر سرکاری ، غیر سیاسی اور غیر منافع بخش ادارہ ہے جس نے گزشتہ چند سالوں میں ہسپتال میں مریضوں کی فلاح و بہبود اور ڈاکٹروں اور عملے کی سہولت کاری کے لیے تقریباً اب تک 18 کروڑ روپے کی لاگت سے ہسپتال کے مختلف شعبوں کی بحالی کا کام کیا ہے۔ موجودہ بحران کے موقع پر FOMH شروع دن سے ہی اپنی بساط کے مطابق کرونا وارڈ میں سہولتوں کی فراہمی کے لیے کام کررہا ہے۔

اس ٹرسٹ کی چیئرپرسن محترمہ فاطمہ فضل ہیں۔ میں نے فون پر بات کر کے ٹرسٹ کی حالیہ کاوشوں کے بارے میں بات کی تو پہلے تو انہوں نے تفصیلات سے معذوری ظاہر کی ان کا مؤقف تھا کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں اس کا دکھاوا نہیں کرنا چاہتے مگر میں نے انہیں کہا کہ بھلائی کی تشہیر اگر اس نیت سے کی جائے کہ اس سے دیگر لوگوں کو بھی ایسا کرنے کی تحریک ملے تو حرج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ دلوں میں چھپے ہوئے بھید جانتا ہے کہ کون خدمت کے جذبے کے تحت کر رہا ہے اور کون دکھاوے کے لیے کر رہا ہے۔

محترمہ فاطمہ فضل نے بتایا کہ پہلے تو ہم اکیلے ہی کرونا وارڈ پرسنل پروٹیکٹو ایکوپمنٹس (PPE) پہنچا رہے تھے جن میں گاؤن، N95 ماسک، دستانے وغیرہ شامل ہیں۔ اب آہستہ آہستہ ہمارے ساتھ کچھ اور ہمخیال افراد اور گروپ اور تنظیمیں شامل ہو رہی ہیں جس نے ہاسپٹل سپلائی چین کی شکل اختیار کر لی ہے ہم نے اس کا آغاز میو ہسپتال سے کیا تھا مگر اب اس میں جناح ہسپتال، گنگارام ہسپتال ، سروسز ہسپتال اور جنرل ہسپتال کو بھی شامل کر لیا ہے۔ ہمارے اس گروپ میں اب فرینڈز آف میو ہسپتال کے ساتھ بالی میموریل، زمان فاؤنڈیشن اور پراگریسو ایجوکیشن نیٹ ورک (PEN) اور ڈاکٹر تنظیمیں اور گروپ شامل ہیں کیونکہ ڈاکٹروں کو بچانا ناگزیر ہے۔

فرینڈز آف میو ٹرسٹ کے کو آرڈینیٹر جنرل عثمان تارڑ نے بتایا کہ شروع میں ہم نے میو اسپتال کے ذریعے سپلائی دینا شروع کی پھر ہمیں یہ شکایات آ رہی تھیں کہ فیلڈ میں موجود ینگ ڈاکٹرز تک یہ چیزیں نہیں پہنچ رہیں تو ہم نے مقامی ڈاکٹر کمیونٹی کے اندر رابطے بڑھائے کہ ہمیں پتہ چلے کہ ان اشیاء کی کہاں کہاں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ مثلاً جناح اسپتال میں ہمارے ساتھ ڈاکٹر آسیہ ہیں اسی طرح ڈاکٹر عنبریں زبیر اور ڈاکٹر فائزہ سروسز اسپتال میں ہے ہمارے ساتھ منسلک ہیں جبکہ میو اسپتال میں داکٹر اسامہ تارڑ اور ڈاکٹر عائشہ ہیں۔

عثمان تارڑ نے بتایا کہ صرف میو اسپتال ،ایکسپو سنٹر فیلڈ اسپتال اور پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (PKLI) میں روزانہ 500 گاؤن، 500 N95 ماسک، 500 گلاس گوگل مخصوص عینک، 1000 دستانے، سرجیکل گلوز5000، 1000 شوکور اور 1000 ڈسپوزیبل کیپس کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ جس حد تک ہو سکے ہم یہ سپلائز ان کو دستیاب کر سکیں۔

محترمہ فاطمہ فضل کا کہنا تھا کہ میو اسپتال کے کرونا وارڈ کے پاس سے بھی کوئی نہیں گزر سکتا کیونکہ اس بیماری کا خوف اتنا زیادہ ہے لیکن ان مشکلات کے باوجود ہمارے والنٹیر ڈاکٹرز اور عملے کی ضروریات کے ساتھ ساتھ روزانہ کی بنیاد پر کرونا مریضوں کو واٹر بوتل، فروٹ اور بسکٹ مہیا کر رہے ہیں جو کرونا مریض کو پہنچ رہا ہے۔

یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جتنے بڑے پیمانے پر یہ وبا ساری دنیا میںپھیلی ہے دنیا کا امیر ترین ملک امریکا جس کا ہیلتھ بجٹ 3.5 ٹریلین سالانہ ہے وہاں بھی حکومت کہہ رہی ہے کہ ہم ہر ایک کا ٹیسٹ نہیں کر سکتے اور نہ ہر مریض کو وینٹی لیٹر مہیا کر سکتے ہیں، ان حالات میںپاکستان جیسے غریب ملک میں مخیر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اس پس منظر میں جو تنظیمیں اور ادارے رضاکارانہ خدمات انجام دے رہے ہیں ان کی خدمات اور جذبات کا اعتراف نہ کرنا زیادتی ہے۔

نہیں ہے نا امید اقبالؒ اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی


ای پیپر