وَباکی صورت میں لاک ڈاﺅن کا حکم حضور نے دیا تھا
02 اپریل 2020 2020-04-02

قول وفعل، تحریر وتقریر بیان وعمل میں معمولی سا بھی تضاد، ودراڑ کی جھلک نظر آئے، تو کروڑوں عوام کے آنسو چھلک چھلک کر آہ وبکا کی صورت میں فلک پہ جا پہنچتے ہیں، اور عرش والا، عزت وذلت عطا کرنے والے کو اسی کو ”حوالہ“ سمجھتا ہے ۔ قارئین، آج میں ایک دفعہ پھر سے اپنے سابقہ موضوع تعلیم و تعلم پر قلم برداشتہ ہونے کی بجائے دل برداشتہ ہوکر، مایوسی کفر ہے پہ اعتماد کامل رکھتے ہوئے رقم طراز ہوں، آپ بھی ذرا غور سے پڑھیے گا، کہ حضور کے دور پرنورریاست مدینہ میں آپ نے درس و تدریس پہ کتنا زیادہ زور دیا تھا ، حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں، کہ ایک دفعہ حضور مسجد نبوی میں تشریف لائے، اور مسلمانوں کو حکم دیا ، کہ یہودیوں سے جنگ لڑنے کے لیے فوراً روانہ ہو جاﺅ، ہم لوگ مدینہ سے نکل کر یہود کی آبادی کی طرف چل پڑے حتیٰ کہ بیت المدارس تک پہنچ گئے، میں یہ حوالہ صحیح بخاری میں سے پڑھ کر دے رہا ہوں۔ علامہ کرمانی ؒ فرماتے ہیں، کہ المدارس اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں یہودی اپنی کتاب، جیسے مسلمانوں کا قرآن پاک ہے، اس کی تعلیم دیتے تھے، مگر ابتدائے اسلام میں سعد بن عبادہ، مندربن عمر، ابی بن کعب، زید بن ثابت ، رافع بن مالک، اسید بن حضر، معین بن ربیع، اوس بن خولی ، عبداللہ بن ابی (منافق) سوید بن الصاعت اور حفیرالکتائب ، علاموہ ازیں سیدنا کعب بن مالک اور سید نا انس بن مالک رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین بھی لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ اور عمروبن سعید، ابی بن وہب اور نبی امی کو سب سے پہلا جو خدائی حکم ملا، جس سے وحی خداوندی کا آغاز ہوا وہ تعلیم و حکمت جیسے عظیم المرتبت موضوع پر مبنی تھا ۔ کیونکہ تعلیم ہی معرفت الٰہی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، اور تعلیم ہی دراصل انسان کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے، ارشاد ربانی ہوا کہ

”اپنے رب کے نام سے پڑھ، آدمی کو پیدا کیا جمے ہوئے لہوسے پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے، جس نے علم سکھایا قلم سے آدمی کو وہ کچھ سکھایا، جو وہ نہ جانتا تھا

پڑھنے کے حکم سے تعلیم کی اہمیت اجاگر کرتا ہے، اور قلم ہی علم کا واسطہ ہے جو تعلیم حاصل کرنے کی عام طورپر دوہی صورتیں ہیں جو انسانی تہذیب وتمدن کا ضامن ہے، ایک زبانی اور دوسری بذریعہ قلم تحریر وکتابت کی صورت میں ان کا ذکر کردیا گیا۔

راقم اکثر سوچتا ہے کہ ہم جو لوگ قلمکار ہیں، کس قدر خوش نصیب ہیں کہ علم کو عمل کی صورت کے قابل تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بنادیا ہے، اور حکمران وقت کی فراخ دلی، سخاوت، ہمدردی کی بدولت، ہم اور ہمارے جریدے نبی امت کی سنت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں، جو فرماتے تھے کہ میں تم سے کسی چیز کا معاوضہ تو نہیں کرتا۔ حضرت قتادہؓ نے فرمایا، کہ قلم اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، اگر قلم نہ ہوتا تو کوئی دین بھی قائم نہ رہتا اور دنیا کے کاروبار زندگی بھی درست نہ ہو پاتے سیدناعلی المرتضیٰؓ فرماتے ہیں، کہ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑااحسان ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو ان چیزوں کا علم دیا ، جنہیں وہ نہیں جانتے تھے، انہیں جہالت کے اندھیروں سے نکال کر نورعلم سے منور کردیا، اور علم و کتاب کی ترغیب دی، کیونکہ اس میں بے شمار منافع ہیں جن کا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور احاطہ نہیں کرسکتا اگر قلم نہ ہوتا، تو دین ودنیا کے سارے کام معطل ومختل ہوجاتے حضور نے فرمایا، کہ علم طلب کرنا فرض ہے، اور اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی معرفت سے نوازتے ہیں آپ نے مزید فرمایا کہ علماءانبیاءکے خلفاءہیں۔ لیکن قارئین محترم، مجھے آپ کے خیالات و نظریات کا تو اندازہ نہیں، لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے، میں آج کل کے مشہور عالمی عالم دین کا بہت بڑا پرستار ہوں اور ان کی جب بھی تقریر کسی بھی چینل پر لگی ہو، تو میں اسے تبدیل نہیں کرتا، حتیٰ کہ ایک ہی تقریر کو متعدد بار بھی سنتا رہتا ہوں، کہ اس میں میرے آقا ومولیٰ کا ذکر کرم ہوتا ہے، مگر مجھے ان کی زبان سے حکمران کے حق میں ووٹ تک مانگ لینا، کچھ مناسب اس لیے نہیں لگتا کہ وہ خود فرماتے ہیں، کہ منبر نبوی سے ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے، مگر وہ ہرحاکم کے حق میں بیان دے کر کس کا بھلا چاہتے ہیں، پاکستان کو بنے ہوئے پون صدی گزرگئی ، مگر کیا کسی حکمران نے آج تک سود کے خلاف، ایک دھیلے کا بھی کام کیا ہے یا کسی بھی طرح اس حوالے سے رتی برابر کوئی پیش قدمی ہوئی؟ تو پھر حکمرانوں کی تعریف کیسے، واقعہ کربلاتو بیان فرماتے ہیں، اسباق ایثار وقربانی کا ذکر بھی فراموش نہ کیا کریں۔

حضور کا فرمان ہے، کہ ایک ”عالم“ زمین پر خدا کا امین ہے، اور فرمایا کہ علما باران رحمت ہیں، جہاں بھی ہوں گے نفع پہنچائیں گے اور فرمایا کہ عالم اور طالب علم دونوں اجرالٰہی میں شریک ہوتے ہیں۔ کیونکہ جو بھی شخص علم حاصل کرنے کے لیے سفر کرتا ہے، اللہ پاک اس کے لیے جنت کا راستہ آسان بنادیتے ہیں اگر کوئی قوم کہیں مسجد میں تلاوت قرآن مجید اور تعلیم و تعلم کے لیے جمع ہوتی ہے، تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان پر سکنیت نازل فرمادیتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رحمت انہیں ڈھال لیتی ہے۔ اور فرشتے ان پر اپنے پر بچھا لیتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر فرشتوں میں بڑے فخر سے فرماتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ جس طرح آسمان میں ستارے چمک رہے ہیں زمین میں علما کی مثال بھی ستاروں کی طرح ہے، قارئین آج سے چودہ سوسال قبل حضور نے ایسے تو نہیں فرمادیا تھا ، کہ علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے، اب اس کا اطلاق اگر ہم موجودہ حالت کرونا وائرس پر کریں، تو آپ کا قول دوبارہ بار بار یاد آتا ہے، اس وقت، آپ نے نہ تو اٹلی کا ذکر فرمایا تھا ، نہ برطانیہ کا اب چین ہی ہے، کہ جس نے وائرس کا نہ صرف حل ڈھونڈا ہے بلکہ اس پر قابو بھی پا لیا ہے، حضور نے تو تب بھی فرمادیا تھا ، کہ وباءکہیں پھیل جائے، تو وہاں نہ جاﺅ، اور اگر وہیں ہو، تو وہاں سے نکلو نہیں، اس کا مطلب سیدھا سادھا ہے کہ ” لاک ڈاﺅن “ جس کے بارے میں ہمارے وزیراعظم نے کل تک کہا تھا کہ میں کسی صورت پاکستان میں لاک ڈاﺅن نہیں کروں گا، جبکہ دھرنے میں فرماتے تھے، کہ میں پورا پاکستان بند کردوں گا۔


ای پیپر