وزیراعظم پلّے سے پہل کریں!
02 اپریل 2020 2020-04-02

یہ درست ہے لوگوں نے وزیراعظم عمران خان سے جو اُمیدیں وابستہ کی تھیں وہ پوری نہیں ہوسکیں۔ اِس سے بھی بڑھ کر المیہ یہ ہے پونے دوبرسوں میں مختلف شعبوں میں اُنہوں نے خصوصاً اُن کی ٹیم نے جس نااہلی کا مسلسل مظاہرہ کیا، اُس کے بعد لوگوں کو ان سے کوئی توقع بھی نہیں رہی، اصل میں یہ اُمیدیں خان صاحب کی طرف سے زبردستی وابستہ کروائی گئی تھیں، ورنہ ہم یہ سمجھتے تھے پاکستان کے برسوں سے بگڑے ہوئے حالات پوری کوشش کے باوجود وہ پانچ سالہ دور اقتدار بغیر کسی روایتی خفیہ مداخلت کے بھی پورا کرلیں یہ گندگی مکمل طورپر صاف نہیں کرسکیں گے۔ پر کیا کریں وہ ضد کے پکے ہیں، کاش اِسی طرح وہ زبان کے بھی پکے ہوتے، ہمارے بے پناہ اصرار کے باوجود وہ سودنوں میں سب کچھ ٹھیک کرلینے کی ضِد پر اڑے رہے، اُن کا مو¿قف یہ ہوتا تھا ”حکمران نیک نیت ہو، دیانتدار ہو، تو سارے خراب معاملات کی درستگی کے لیے سودن تو میں بہت زیادہ دے رہا ہوں، سوگھنٹے بھی بہت ہیں“ ،....میں اُن کے بارے میں بارہا لکھ چکا ہوں اُنہیں ہوشیاری بہت آتی ہے، چالاکی نہیں آتی، اقتدار میں آنے کے بعد جس قسم کے حالات اور مداخلتوں کا وہ شکار ہوگئے، مجھے یقین ہے ہوشیاری بھی پہلے جیسی اب اُنہیں نہیں آتی ہوگی ورنہ اپنی اس عادت پر وہ قابو پا چکے ہوتے کہ ان کے جو جی میں آئے، جو زبان پر آئے، بغیر سوچے سمجھے کہہ دیتے ہیں، پھر اُس کے نتائج مختلف کمزوریوں کی صورت میں صرف خود ہی نہیں ملک اور عوام بھی بھگتتے ہیں ۔ہوشیاری کے ایک تقاضے کے مطابق بہت سے معاملات میں مصلحتاً زبان بند رکھنی پڑتی ہے، ....شکر ہے کورونا وائرس کے حوالے سے اُنہیں اِس قسم کی روایتی ہوشیاری نہیں آئی، ورنہ سچ پوچھیں ہم یہ توقع کررہے تھے وہ اپنی پہلی تقریر میں ہی فرمادیں گے کہ ”کورونا کی وباءپر اگلے آٹھ دس گھنٹوں میں ہم مکمل قابو پالیں گے “ ....بلکہ پنجاب میں تو اِس سے بھی پہلے پالیں گے، کیونکہ وزیراعلیٰ بزدار کی ”انتظامی صلاحیتوں“ پر مجھے کوئی شک نہیں، اور اس کی واحد وجہ یہ ہے اُنہیں بھی میری انتظامی صلاحیتوں پر کوئی شک نہیں۔ بلکہ میں تو یہ سمجھتا ہوں میڈیا اگر غیرضروری طورپر ان پر تنقید نہ کرتا ہوتا ممکن ہے ایسی صورت میں وہ کورونا کو پنجاب میں داخل ہی نہ ہونے دیتے، سو ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو پنجاب میں کورونا کے پھیلنے کا سب سے بڑا ذمہ دار وہ میڈیا ہے جو اقتدار میں آنے سے پہلے دوست تھا اب سب سے بڑا دشمن ہے.... مجھے اچھا لگا کورونا کے حوالے سے خان صاحب نے عوام کو جھوٹے دلاسے نہیں دیئے، اُنہوں نے بالکل درست فرمایا ” ہمیں حالات کا مِل جُل کر مقابلہ کرنا ہوگا“۔ اللہ کرے مل جل کر مقابلہ کرنے سے اُن کی مراد یہ نہ ہو سب کچھ عوام کو ہی کرنا ہوگا، ہمیں بس تقریریں وغیرہ ہی کرنی ہوں گی، جیسے ایک خاتون نے چھٹی کے روز اپنے شوہر سے کہا تھا ” آﺅ آج گھر کے کام مِل جُل کر ختم کرلیں، تم ذرا برتن دھولو، میں ذرا میک اپ کرلوں“ ....اکیلی حکومت واقعی کچھ نہیں کرسکتی، ویسے بھی ہمارے ہاں حکومتیں کرنے کے لیے ہوتی ہیں کچھ کرنے کے لیے نہیں ہوتیں، .... میرے خیال میں پی ٹی آئی یا خان صاحب کی ”اکیلی حکومت“ ایک کام ضرور کرسکتی ہے، اپنے اخراجات میں مزید کمی کرکے ان وسائل کا رخ ان کی جانب موڑ دیں جو اس وباءکے نتیجے میں شدید ترین مالی و جسمانی مشکلات کا شکار ہیں۔ اُن کی تعداد بلا مبالغہ لاکھوں میں ہے۔ اور بڑھتی جارہی ہے۔ اُن پر ہم سب نے مِل کر توجہ نہ دی ہم کورونا سے بڑھ کر کسی عذاب کا شکار ہوسکتے ہیں، جہاں تک ”اکیلی حکومت“ کا تعلق ہے وہ فی الحال یہ کرے وزیراعظم اپنی جماعت سے تعلق رکھنے والے تمام ارکان پارلیمنٹ، وزیروں، مشیروں، اور خود پر بھی یہ پابندی عائد کردیں، جب تک اِس وباءسے مالی مشکلات کا شکار ہونے والے ایک ایک فرد کو ریلیف نہیں مل جاتا کوئی تنخواہ وصول نہیں کرے گا، یہ ساری رقم اِس وباءکا شکار ہونے والوں میں بانٹ دی جائے گی .... یہ بات میں اِس لیے کہہ رہاہوں ہمارے تقریباً سارے ارکان پارلیمنٹ ، سارے وزیروں شذیروں نے تقریباً ہردور میں جائز ناجائز طریقوں سے اتنا کمایا ہوا ہے، وہ اگر اپنی دو چار مہینوں کی تنخواہیں اِس وباءکے نتیجے میں بُری طرح مالی مشکلات کا شکار ہونے والوں کی نذر کربھی دیں گے اُنہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا، بلکہ اُن کی، اُن کی جماعت کی اور اُن کی حکومت کی عزت بنے گی، جو ویسے شاید پانچ برس اقتدار کے پورے کرلینے کے باوجود نہ بن سکے۔ وزیراعظم خان

صاحب اِس کام کی بسم اللہ خودسے اور اپنی پارٹی کے ارکان اسمبلی سے کریں ، مجھے یقین ہے اُس کے بعد شرم وشرمی یہ کارخیر دیگر سیاسی جماعتوں کو اور ان کے ارکان پارلیمنٹ کو بھی کرنا پڑ جائے گا، بلکہ ہوسکتا ہے اس کا دائرہ بعد میں کچھ ایسے ججوں، جرنیلوں جرنلسٹوں اور افسروں تک بھی وسیع ہو جائے جنہوں نے وزیروں شذیروں اور ارکان اسمبلی سے زیادہ بنایا یا کمایا ہوا ہے۔ .... ہماری زندگیوں میں شاید پہلی بار ایسا کڑا وقت آیاہے جب اپنی روایت بلکہ خصوصی شناخت کے مطابق ہم غیروں یا غیر ملکیوں سے بھیگ مانگنے یا امداد مانگنے کی پوزیشن میں اس لیے نہیں کہ وہ تقریباً سارے ممالک خود اِس وباءکا شکار ہیں جو ہرمشکل وقت میں کسی نہ کسی شکل میں دل کھول کر ہماری مدد کردیا کرتے تھے....اِس صورت میں وہ اپنے حالات بہتر کریں گے۔ اِس وباءکے نتیجے میں جومالی خسارے اُنہیں ہوئے اُس پر قابو پائیں گے، .... ہمارے پاس اپنے حالات بہتر کرنے کا سب سے بڑا طریقہ یہ ہے اپنی توفیق سے بڑھ کر اپنے لوگوں کی ہم مدد کریں ۔ وزیراعظم نے کورونا ریلیف فنڈقائم کرکے اچھا کیا یا بُرا؟ یہ الگ بحث ہے۔ پر یہ حقیقت ہے پچھلے ڈیڑھ پونے دوبرسوں سے یہ حکومت عوام کو کوئی بڑا ریلیف نہیں دے سکی، تو ان حالات میں ایک تو اپنی اوقات سے بڑھ کر مستحقین کی مدد کرنے والے مالی مشکلات کا شکار ہیں، دوسرے خان صاحب پر اُن کا اعتماد بھی پہلے جیسا نہیں رہا، یہ نہیں کہ اُنہوں نے خان صاحب کو کرپٹ سمجھنا شروع کردیا ہے، اِس کی وجہ صرف یہ ہے وہ کسی شعبے میں کسی اہلیت کا مظاہرہ نہیں کرسکے، جس کے نتیجے میں ہرشعبہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ .... سو میرے خیال میں وزیراعظم نے اپنے کروناریلیف فنڈ سے جو توقعات اندرون وبیرون ملک مقیم لوگوں سے وابستہ کی ہیں وہ ان کے یقین کے مطابق صرف اِسی صورت میں پوری ہوسکتی ہیںکہ پہلے وہ اس میںاپنی پارٹی اور پلّے سے حصہ ڈالیں۔ ورنہ تو لوگ وزیراعظم ریلیف فنڈ میں پیسہ دینے کے بجائے مستحقین کی خود مدد کرنے کو ترجیح دیں گے، جوکہ وہ کربھی رہے ہیں، ....گوکہ عمران خان کامعاملہ مختلف ہے مگرماضی میں مختلف حکمرانوں جن میں ایک آدھا عدالتی حکمران بھی شامل ہے نے مستحقین یاملک کی مدد کے نام پرلوگوں کو اتنا بے وقوف بنایاکہ اب اس معاملہ میںحکمرانوں سے لوگوں کا اعتماد مکمل طورپر اٹھ گیا ہے۔ کوروناکے عذاب سے نجات کے لیے لوگ توبہ کریں ، نمازیں اور وظیفے پڑھیں، چھتوں پر چڑھ کر اذانیں بھی دیں۔ پر میرے نزدیک یہ وباءیہ آزمائش یایہ عذاب صرف اسی صورت میں ٹل سکتا ہے مستحقین کی مدد کرنے میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہم پہل کریں !!


ای پیپر