کرونا وائرس: تاخیر کی قیمت ( پانچویں قسط)
02 اپریل 2020 2020-04-02

یہ تحریر عالمگیر وباءبننے والے کرونا وائرس کے پاکستان میں پھیلاو¿، اس کے اسباب اور سنگین حکومتی غلطیوں سے متعلق ہے۔ جس میں عالمی ادارہ صحت، یورپی یونین کے وباو¿ں کی روک تھام کے ادارے (یورپین سنٹر فار ڈیزیز پر یوینشن اینڈ کنٹرول) ورلڈ ان ڈیٹا، جان ہاپکنز یونیورسٹی، ڈبلیو ایچ او اور چائنا سمیت 25 ممالک کے جوائنٹ مشن کی تازہ ترین ریسرچ اور اعداد و شمار سے استفادہ حاصل کیا گیا ہے۔ پاکستان کی بقاءسے متعلق اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر یہ تحریر ایک سے زائد اقساط پر مشتمل ہے۔

                                                                                                                   عالمی محققین نے کرونا وائرس سے اب تک متاثر ہونے والے دنیا بھر کے ممالک کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک میں وہ ممالک شامل ہیں جنھوں نے عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق پہلے دن سے سماجی دوری کو تسلیم کیا اور لاک ڈاو¿ن پالیسی اختیار کی ۔ دوسری قسم میں پاکستان سمیت وہ ممالک شامل ہیں جنھوں نے ایک تو سماجی دوری کو تسلیم نہیں کیا اور دوسرا لاک ڈاو¿ن کی پالیسی کو اپنانے میں تاخیر کی ۔ دوسری قسم میں شامل ممالک بروقت فیصلہ کرنے کی بجائے انتظار کرتے رہے کہ شاید حالات خراب نہ ہوں۔ احتیاطی تدابیر ماننے یا نہ ماننے کا نتیجہ بھی کوئی دور نہیں ہے بلکہ اب تک بہت سے ممالک کے سامنے آچکا ہے۔ عالمی سطح پر اس کا جائزہ لیں تو ظاہر ہو جائے گا کہ جب وائرس دوگنا رفتار سے پھیل رہا ہو تو سماجی دوری، لاک ڈاو¿ن اور دیگر اقدامات میں وقت کی بالخصوص ایک دن کی بھی کتنی اہمیت ہو جاتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بار بار ایمرجنسی الرٹ جاری کئے جاتے رہے کہ اگر وائرس کسی ملک میں پہنچنے کی صورت میں بروقت لاک ڈاو¿ن سمیت دیگر اقدامات نہ کئے گئے تو آبادی کا بڑا حصہ یا پھر پورا ملک متاثر ہو سکتا ہے۔ دن اور وقت کی اہمیت سمجھنے کے لئے ہم چین کی ایک فرضی تعداد کے ساتھ مثال سے کام لے سکتے ہیں۔ جس نے اپنے صوبہ ہوبی میں چھ ہزار (فرضی تعداد) کیسز سامنے آنے پر 23 جنوری کو مکمل لاک ڈاو¿ن کر دیا۔ تحقیق کے مطابق اگر چائنا یہ لاک ڈاو¿ن 23 کی بجائے 22 جنوری کو کرتا تو وہاں مجموعی کیسز کی تعداد 20 ہزار کم ہو سکتی تھی۔ لیکن ایک دن کی تاخیر سے چائنا کو مجموعی کیسز میں 40 فیصد اضافہ کی شکل میں قیمت چکانا پڑی اور اموات کی شرح میں بھی اضافہ ہوا۔ ایک دن کی تاخیر سے بڑھنے والے مجموعی کیسز کی وجہ سے چائنا کا نظام صحت مزید متاثر ہوا اور بالآخر اموات میں دس گنا اضافہ ہوا۔ اس کا مطب یہ ہوا کہ اگر کسی ملک میں حفاظتی اقدامات میں ایک روز کی بھی تاخیر ہوئی تو اس کا نتیجہ مجموعی کیسز اور اموات کی شرح میں اضافے کی شکل میں نکلے گا۔ وائرس کے پھیلاو¿ کی شرح دوگنا ہونے کے باعث سماجی دوری اور لاک ڈاو¿ن کے فیصلے میں ایک دن کی تاخیر کا نتیجہ درجنوں یا سینکڑوں نہیں ہزاروں مریضوں کی جان کو خطرے میں ڈالنے کی شکل میں نکل سکتا ہے۔ اب اگر فرانس کی صورت حال کا جائزہ لیں تو دیکھا جا سکتا ہے کہ فرانس میں 25 جنوری کو تین کیسز سے وائرس کا پھیلاو¿ شروع ہوا اور 28 فروری تک 34 روز تک وائرس کے بظاہر اکا دکا کیس آئے۔ لیکن 6 سے 12 مارچ کے دوران دوگنا کیسز سامنے آنا شروع ہوگئے جبکہ 13 مارچ سے اب تک تقریباً پانچ ہزار کیسز اور دو سے تین سو اموات روزانہ ہو رہی ہیں۔ فرانس میں لاک ڈاو¿ن کا فیصلہ 19 مارچ کو کیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ فرانس کی حکومت نے فیصلہ کرنے میں 40 سے 50 دن کی تاخیر کی اور اب اس کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ شدید متاثرہ ملک اٹلی کی مثال بھی سامنے ہے جہاں31 جنوری کو تین کیسز سامنے آئے اور پھر 22 روز تک وائرس خاموشی سے پھیلتا رہا۔پھر 14 مزید کیسز سامنے آئے۔ 7 مارچ سے 1000 اور اب یہ سلسلہ 6 ہزار کیسز اور 1000 اموات روزانہ تک جا چکا ہے۔ اٹلی نے لاک ڈاو¿ن کا فیصلہ 9 مارچ کو کیا۔ اس طرح کہا جس سکتا ہے کہ اٹلی فیصلہ کرنے میں 37 روز کی تاخیر کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں 4 مارچ کو دو کیسز سے وائرس کا آغاز ہوا، تیسرے دن 22 اور اب گزشتہ دو روز سے انڈیا میں بالترتیب 146 اور 180 کیسز سامنے آ رہے ہیں اور اموات کا سلسلہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ بھارتی حکومت نے 24 مارچ کو لاک ڈاو¿ن کا فیصلہ کیا، یعنی اب انڈیا فیصلہ کرنے میں 20 روز تاخیر کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ ہمارے ہاں 27 فروری کو دو کیسز سامنے آئے جو مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ دو روز میں یعنی یکم اپریل کو 414 کیسز اور 8 اموات جبکہ 31 مارچ کو 99 کیسز اور 5 اموات ہو چکی ہیں۔ قابل فکر بات یہ ہے کہ گزشتہ چار روز میں ملک بھر میں وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 211 سے بڑھ کر 414 پر آئی ہے جبکہ اموات بھی اسی رفتار سے بڑھ کر دو سے آٹھ ہو گئی ہے۔ ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ مریضوں اور اموات کی تعداد میں یہ اضافہ وائرس کے دوگنا رفتار سے پھیلنے کو بھی ظاہر کر رہا ہے۔ عالمی اداروں کی سماجی دوری اور لاک ڈاو¿ن پالیسی پر عمل کرنے کی تاکید کے باوجود وائرس ظاہر ہونے کے 23 روز بعد حکومتِ پاکستان نے ائیر پورٹس بند کئے۔ اسی

فیصلے کی تاخیر وہ سب سے پہلا سبب ہے جس نے پاکستان بالخصوص پنجاب اور کراچی سے اس وباءکے پھیلنے کی راہ ہموار کی ۔ بروقت بین الاقوامی پروازیں بند نہ کرنے کی وجہ سے وائرس زدہ لوگ جوق در جوق پاکستان آتے رہے۔ بالآخر حکومت نے 21 مارچ کو بین الاقوامی فلائٹ آپریشن معطل کرنے کا اعلان کیا اور بیرونی ممالک سے مزید وائرس زدہ افراد کی آمد کا سلسلہ رک گیا۔اسی طرح صوبائی حکومتوں نے بھی وائرس پھیلنے کا انتظار کیا، سندھ حکومت نے 25 دن ضائع کئے اور 23 مارچ سے مکمل لاک ڈاو¿ن کا اعلان کیا۔ پاکستان ریلوے نے سب سے آخر میں 24 مارچ سے ملک گیر ٹرین سروس بند کی ، یہ اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں کہ ہماری ٹرین سروس نے بھی پاکستان بھر میں وائرس پھیلانے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے بھی 24 مارچ سے صوبے بھر میں لاک ڈاو¿ن کا فیصلہ کیا۔ اسی دوران بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں نے بھی جزوی لاک ڈاو¿ن کر دیا۔ تاہم اس تمام صورتحال کا سب سے زیادہ دباو¿ ہمارے نظام صحت پر آنے والا ہے۔ ریسرچ یہ بتاتی ہے کہ جتنی بری کسی ملک کی صورتحال ہوتی جائے گی ، اتنی ہی سخت سماجی دوری اور دیگر اقدامات اختیار کرنا پڑیں گے۔ عالمی تحقیق کی روشنی میں یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ حکومت کے بروقت اقدامات کرنے میں 23 روز تاخیر کی قیمت اب پاکستان اور اس کے عوام کو ادا کرنا پڑے گی۔ (جاری ہے)


ای پیپر