Image Source : File Photo

بھارتی انتخابات 2019ئ۔۔۔مودی مشکل میں ۔۔۔کس کا پلڑا بھاری؟
02 اپریل 2019 (19:45) 2019-04-02

لوک سبھا کی 543 نشستوں پر بھارت میں 11 اپریل سے 19مئی 2019ءتک الیکشن کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ 272 یا زائد نشستیں جیتنے والی پارٹی فاتح قرار پائے گی۔ لوک سبھا کا یہ 17واں الیکشن سات مراحل میں ہوگا، 23 مئی کو گنتی ہوگی اور اسی دن نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا یعنی 24 مئی کا سورج بھارت میں فاتح پارٹی دیکھے گی۔ اصل مقابلہ بی جے پی کے نریندر مودی اور اس کی اتحادی پارٹی این ڈی اے (نیشنل ڈیموکریٹک الائنس) اور انڈین نیشنل کانگریس کے راہول گاندھی اور اس کی اتحادی پارٹی یو۔پی۔اے (یونائیٹڈ پراگریسو الائنس) کے درمیان ہو گا۔ اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کا بھارت کا رہائشی جس کا اس کے حلقے میں بطور ووٹر اندراج ہو وہ ووٹ ڈالنے کااہل ہے۔ آننت ناگ (جموں وکشمیر) میں الیکشن تین مراحل میں ہونگے جبکہ مغربی بنگال، بہار اور اُترپردیش میں الیکشن سات مراحل میں ہونگے۔

11اپریل کو الیکشن کا آغاز آسام، بہار، چھتیس گڑھ، میٹرورام، منی پور، میگھالیہ، اروناچل پردیش، اُترپردیش، جموں وکشمیر، مہاراشٹر، ناگالینڈ، تلنگانہ، اندھراپردیش، اُڑیسہ، سکم، تری پورہ، اُترکھنڈ لکشدویپ، جزائرانڈیمان، جزائر نکوبار، مغربی بنگال سے ہو گا جبکہ آخری ووٹنگ 19مئی کو پنجاب، مغربی بنگال، چندی گڑھ، مدھیہ پردیش، جھاڑکھنڈ، ہماچل پردیش، اُترپردیش، بہار میں ہو گی۔ 12جنوری سے نریندر مودی نے اپنی الیکشن مہم کا آغاز کر دیا ہے جبکہ 12جنوری کو ہی اُترپردیش میں بہوجن سماج پارٹی کی مایاوتی اور سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو نے آپس میں اتحاد کیا ہے۔ اُترپردیش کی کُل نشستیں 80 ہیں جبکہ یہ اتحاد 76 نشستوں پر ہوا ہے۔ اُترپردیش کی دو اہم نشستیں امیٹھی اور رائے بریلی کی ہیں۔ یہاں سے راہول گاندھی اور سونیا گاندھی الیکشن لڑرہی ہیں جبکہ مایاولی اکھلیش اتحاد یہاں سے اپنے کسی اُمیدوار کو کھڑا نہیں کررہے ہیں تاکہ سونیا اور راہول کے ووٹ تقسیم نہ ہوں لیکن مایاوتی اکھلیش اتحاد کانگریس کے ساتھ بھی نہیں ہے۔ 2014ءکے لوک سبھا کے انتخابات میں مودی سرکار کے پاس 282 نشستیں تھیں۔ حکومت سازی کے لیے 272 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ 10سیٹوں کی جو اکثریت تھی وہ کم ہوتے ہوتے 274 پر آگئی تھیں یعنی مودی حکومت محض 2 سے 3سیٹوں کی اکثریت سے حکومت کررہی تھی۔ مہاراشٹر میں جب شیوسینا نے حکومتی اتحاد سے خود کو نکالنے کا بیان دیا تو مودی سرکار کو جان کے لالے پڑ گئے تھے۔ شیوسینا اس دفعہ مہاراشٹر سے 23نشستوں پر الیکشن لڑرہی ہے۔

11اپریل کو ملک بھر کی 543 نشستوں میں سے 91 نشستوں پر الیکشن ہو گا۔ یہ الیکشن 20ریاستوں میں ہو گا۔ 18اپریل کو 13 ریاستوں میں 97 نشستوں پر الیکشن ہو گا۔ 23اپریل کو 14 ریاستوں میں 115 نشستوں پر، 29اپریل کو 9ریاستوں میں 71 نشستوں پر۔ 6مئی کو 7ریاستوں میں 51 نشستوں پر، 12مئی کو 7ریاستوں میں 59 نشستوں پر اور آخری 19مئی کو 8ریاستوں میں 59 نشستوں پر الیکشن ہو گا۔

بھارتی جنتا کو مودی کی کارگزاریوں کا علم تو سال چھ ماہ میں ہی ہو گیا تھا جب گورکھپور کے خوشی نگر مندر کا کرتا دھرتا اور یوپی کا وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اپنی ہی چھوڑی ہوئی سیٹ سے الیکشن ہار گیا تھا۔ بھاجپا اس دفعہ اندھراپردیش سے 25 نشستوں پر الیکشن لڑرہی ہے اور یہ ممکنات میں سے ہے کہ وہ شاید یہاں سے الیکشن جیت لے جبکہ گجرات کی 26 نشستوں پر اپنے مضبوط امیدوار کھڑے کرنے کی بدولت بھاجپا کی پوزیشن گجرات میں بھی مضبوط دکھائی دیتی ہے کیونکہ گجرات مودی کا آبائی گاﺅں بھی ہے اور اس نے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز بھی گجرات سے ہی کیا تھا جس کا تذکرہ مودی اپنی کتاب ”سنگھارش یا گجرات“ میں بھی کرتے نظر آتے ہیں، یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ مودی ویدنگر سٹیشن کا چائے فروش ہی نہیں بلکہ مصنف بھی ہے تاہم یہ ”مصنف“ (منصف) نہیں ہے۔ اقتدار کے مرکز دہلی کی سات کی سات نشستوں پر اپنے امیدوار BJP نے کھڑے کیے ہیں جبکہ یہاں سے ”عآپ“ (عام آدمی پارٹی) پہلے بھی نشستیں جیت چکی ہے اور اُمید کی جارہی ہے کہ عآپ کا تحاد کانگریس سے ہو گا۔ تبدیلی کی ہوا گزشتہ سال دسمبر میں واضح طور پر محسوس ہوئی۔ جب ہندی بیلٹ سے مودی سرکار الیکشن ہارنے لگی، وسطی بھارت کو ہندی بیلٹ میں خاص اہمیت حاصل ہے اور یہاں کی ریاست چھتیس گڑھ تو خصوصی طور پر سادھوﺅں، جوگیوں، پروہتوں، فقیروں، یوگیوں سے بھری پڑی ہے اور ان کا گڑھ سمجھی جاتی ہے چونکہ یہ ریاست ہریالی اور جنگلات سے بھی اٹی پڑی اور سادھوﺅں سنتوں کے لیے ایسی جگہیں بڑی پُرکشش ہوتی ہیں لہٰذا وہ اپنے ڈیرے ڈالے یہاں بیٹھے ہوتے ہیں اسی ریاست چھتیس گڑھ سے جو کہ مودی کا گڑھ سمجھی جاتی تھی۔ مودی سرکار گزشتہ سال دسمبر میں ہونے والے چند ریاستوں کے الیکشن میں اس پر بُری طرح ہار گئی۔ یہاں کی کُل 90 نشستیں ہیں جن میں 68 کانگریس نے جیت لیں جبکہ مودی سرکار کے حصے میں 15نشستیں آئیں حالانکہ یہاں کانگریس کے ساتھ بھاجپا نے ہاتھ بھی کیا یعنی اجیت جوگی عین وقت پر دھوکا دے گیا اور کانگریس کا ساتھ چھوڑ گیا۔ پندرہ سال سے یہ ریاست بھاجپا کے پاس تھی جو کہ چھن گئی اور یہ تبدیلی کا پتہ دیتی ہے۔ بھاجپا کا کرتا دھرتا امیت شاہ پھر سے مودی سرکار کے لیے ہاتھ پاﺅں مار رہا ہے اور گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے بالی وڈ اداکارہ مادھوری ڈکشٹ کو ”پُونے“ سے الیکشن لڑانے کے لئے تیار کیا جارہا ہے تاہم امیت شاہ کی ملاقات تو گزشتہ سال جون میں ہی مادھوری کے گھر واقع ممبئی میں ہوگئی تھی، اب توصرف فیصلہ باقی ہے۔ اجیت جوگی نے کانگریس کا ساتھ چھوڑ کر چھتیس گڑھ سے کانگریس کو نقصان پہنچایا تو ریاست تلنگانہ سے چندرا بابو نائیڈو نے کانگریس کے ساتھ ہوتے ہوئے کانگریس کا نقصان کیا اور ٹی آر ایس یعنی تلنگانہ راشٹریہ سمبتھی کو 88 نشستوں تک پہنچا دیا جس سے چندرا شیکھر نے یہاں میدان مار لیا۔ تلنگانہ کی کُل 119 نشستیں ہیں۔ اکھلیش یادو اور مایاوتی (سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے رہنما) نے 2019ءکا الیکشن مل کر لڑنے کا اعلان کیا ہے۔

اُترپردیش (UP) کے یہ دونوں رہنما اگر 2014ءکا الیکشن بھی مل کر لڑتے تو بھاجپا (BJP) یہاں کی 80 نشستوں میں سے 73 پر کبھی بھی کامیاب نہ ہوتی کیونکہ سماوادی بہوجن سماج اور کانگریس کے کئی اُمیدواروں نے بھاجپا کے مقابلے میں زیادہ ووٹ حاصل کیے مثلاً یوپی سے شفیق الرحمان برق کو 3لاکھ 55ہزار ووٹ پڑے تو اس کے مقابلے پر بہوجن سماج پارٹی کے عتیق الرحمان کو ڈھائی لاکھ ووٹ پڑے۔ شفیق الرحمان برق سماج وادی پارٹی کے امیدوار تھے جبکہ بھاجپا کے ستیہ پال سنگھ سینی کو 3لاکھ 60ہزار ووٹ پڑے۔ اگر ایس پی اور بی۔ ایس۔پی گزشتہ الیکشن بھی اکٹھے لڑتے تو یوپی کی یہ اہم سیٹ بھاجپا کو کبھی نہ ملتی۔ ایسی ہی صورتحال امروہہ میں بھی رہی۔ یہاں سے سماج وادی پارٹی کی اُمیدوار حمیرہ اختر کو تقریباً پونے چار لاکھ ووٹ پڑے اور فرحت حسین (سماج وادی پارٹی) کو ایک لاکھ 62ہزار ووٹ پڑے جبکہ بھاجپا کے امیدوار کنور سنگھ کو 5لاکھ سے زائد ووٹ پڑے۔ 2014ءکی ایک حیران کُن بات یہ ہے کہ مودی سرکار کو 31فیصد ووٹ پڑے جبکہ باقی اپوزیشن کو 69 فیصد ووٹ پڑے۔ محض 31فیصد ووٹوں سے انڈیا پر پانچ سال حکمرانی کرنا مودی کی قسمت اور 69فیصد سے حکومت نہ بننا بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے؟

کہا جاسکتا ہے کہ مودی گجراتی چائے فروش قسمت کا دھنی نکلا۔ اب یہ مودی بنارس کے حلقے سے الیکشن لڑ رہا ہے جبکہ اس کا وزیرداخلہ راج ناتھ لکھنو¿ سے الیکشن لڑرہا ہے اور بھاجپا کا صدر امیت شاہ نگر سے انتخاب میں حصہ لے رہا ہے۔ بھارت میں ویسے تو سینکڑوں پارٹیاں ہیں لیکن کچھ بڑی پارٹیاں جو انتخابات میں مختلف جگہوں سے الیکشن لڑرہی ہیں اُن کی کچھ تھوڑی سی تفصیل درج کردی جائے تاکہ آئندہ قارئین کے ذہن میں رہے ”شیوسینا“ مہاراشٹر سے 23 نشستوں پر، جنتادل (متحدہ) بہار سے 17 نشستوں پر، ”لوک جان شکتی پارٹی“ بہار سے 6نشستوں پر، ”آل انڈیا آنّا رواویہا منیترا کازھاگام“ تامل ناڈو سے 7نشستوں پر، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی مہاراشٹر سے 24 نشستوں پر، جنتادل (سیکولر) کرناٹک سے 8 نشستوں پر، راشٹریہ جنتادل بہار سے 20 نشستوں پر، ”دراویدا منیترا کازھاگام“ تامل ناڈو سے 20 نشستوں پر، آل انڈیا ترنمول کانگریس مغربی بنگال سے 42، اُڑیسہ سے 10، تامل ناڈو سے 7 اور آسام سے 6 نشستوں پر، بہوجن سماج پارٹی (BSP) اُترپردیش سے 38، بہار سے 40، کرناٹک سے 28، راجستھان سے 25، ہریانہ سے 8 (کُل 168) نشستوں پر بشمول دوسرے علاقے، سماج وادی پارٹی (SP) اُترپردیش سے 37 نشستوں پر، پنجابی ایکتاپارٹی پنجاب سے 3، لوک انصاف پارٹی پنجاب سے 3پر، ”وائی ایس آر کانگریس پارٹی“ آندھراپردیش سے 25پر، آمہ مکال منیترا کازھاگام تامل ناڈو سے 38پر، تلیگودیشم پارٹی آندھرا پردیش سے 25پر، ”مکال نیتھی مایام“ تامل ناڈو سے 39پر، ”بیجوجنتادل“ اُڑیسہ سے 21پر، ”تلنگانہ راشٹریہ سمتھی“ تلنگانہ سے 16پر، ”نام تاملرکچی“ تامل ناڈو سے 39پر، عام آدمی پارٹی (عآپ) دہلی سے 7نشستوں پر الیکشن لڑرہی ہے۔ اپوزیشن مودی سرکار سے بہت سے باتوں پر واویلا کرتی رہی ہے کہ وہ جمہوری ادارے تباہ کررہی ہے جیسے کہ پارلیمنٹ، عدلیہ اور میڈیا جبکہ ریزرو بینک آف انڈیا کو بھی نہ چاہتے ہوئے بہت سے قوانین کے خلاف احکامات ماننے پڑے مثلاً کسان قرضہ، نوٹ بدلو پالیسی وغیرہ۔ اسی طرح سی بی آئی یعنی سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کو بھی اپنے ہاتھ میں لیا گیا۔ جی ایس ٹی پر بڑی لے دے ہوئی۔ مسلمانوں کے ساتھ بہت سے معاملات غلط کیے گئے مثلاً گﺅرکھشا، تین طلاق کا بل، ذبیحہ پر پابندی، گھرواپسی کی تحریک وغیرہ۔ رافیل طیاروں کا معاملہ مودی کی گرتی ہوئی ساکھ کو اور بھی کم کرگیا جبکہ سرجیکل سٹرائیک اور پاکستان پر فضائی حملہ پر تو مودی سرکار کو باقاعدہ شرمندگی اٹھانا پڑی۔

لنجنگ اور سبری ملا معاملات پر اٹھنے والے سوالات ابھی تک جواب طلب ہیں۔ دلت، اوبی۔سی، نیچ جاتی معاملات، جموں کشمیر بربریت ایشو اور پیلٹ گنز (Ak47رائفل) کا استعمال جو کہ خلاف قانون ہے۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس کا کہنا بنا؟ اقلیتوں کے معاملات، فوج کی بے سروسامانی اور اسلحہ کی کمی اور بہت سے ایسے ہی گھمبیر معاملات جن پر مودی سرکار نے کوئی توجہ نہ دی۔ امریکی اور بھارتی عوام پر بڑی حیرت ہوتی ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ عوام نے اپنے اوپر ٹرمپ اور مودی جیسے لوگوں کو مسلط کیا۔ یہی مودی تھا جسے امریکہ ویزا دینے کے لیے تیار نہ تھا جبکہ یہی مودی ہے جس کے ساتھ امریکی صدر ”جپھیاں“ ڈال رہا تھا۔ دُنیا نے بڑی حیرت سے یہ مناظر دیکھے اور زیرلب مسکرائے۔ پاکستان کے ساتھ مخاصمانہ رویے ہوائی حملے پلوامہ حملے کی بنا پر دُنیا اب بھی مسکرا رہی ہے۔ یہ طنزیہ مسکراہٹ بھارت کے سنجیدہ طبقے کے ہونٹوں پر بھی ہے کیونکہ اس سنجیدہ طبقے نے یہ پانچ سال ذہنی اذیت میں گزارے ہیں۔ یہ سوچتے ہوئے کہ بھارت کو ویرساورکر کا ہندوتوا کا آئین چاہیے یا اس کے نجات دہندہ گاندھی جی کا، یہی فیصلہ اب بھارتی جنتا نے ان انتخابات میں کرنا ہے۔

٭٭٭


ای پیپر