Image Source : Naibaat Mag

اللہ کی نگاہ میں سب سے زیادہ عزت والا کون ؟
02 اپریل 2019 (19:35) 2019-04-02

خوابِ غفلت سے بیداری کے تقاضے

اللہ کی نگاہ میں تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جس کے پاس تقویٰ زیادہ ہے“

قائد تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی روزنامہ نئی بات کےلئے خصوصی تحریر

تقویٰ کا حصول

چوتھا فائدہ آپ کی صحبت سے یہ حاصل ہوا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اس دنیا میں عزت طلب کرتے ہیں۔ کچھ لوگ مال و دولت اور ثروت کے ذریعے عزت کے طالب ہوتے ہیں، کچھ لوگ کثرت اولاد سے عزت طلب کرتے ہیں اور کچھ جاہ و منصب سے عزت طلب کرتے ہیں، یہ سب چیزیں ان کے لئے وجہ افتخار ہوتی ہیں۔ میں نے دیکھا وہ ساری چیزیں جن سے وہ عزت طلب کرتے ہیں، ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ کے ہاں عزت دلانے والی نہیں ہے۔ میں نے باری تعالیٰ سے پوچھا کون سی ایسی چیز ہے جس کی تیری نگاہ میں اتنی قدرو منزلت ہو کہ اس کو اختیار کرنے سے تیری بارگاہ میں بندہ عزت پا جائے۔ اللہ پاک نے فرمایا:

اللہ کی نگاہ میں تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جس کے پاس تقویٰ زیادہ ہے“۔±۔ (الحجرات:۳۱)

جو زیادہ متقی ہے، جو اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہے، جوہر حرام سے پرہیز کرنے والا اور ورع و تقویٰ کی راہ پر چلنے والا ہے، جو اللہ کو ناراض نہیں بلکہ ہر عمل میں اللہ کو راضی کرنے والا ہے وہی اللہ کے ہاں زیادہ عزت والا ہے۔ پس قرآن کے اس وعدے پر میں نے یقین کیا اور تقویٰ اختیار کیا اور یہی تقویٰ مجھے کافی ہوگیا۔

اللہ کی تقسیم پر راضی

پانچواں فائدہ آپ کی ہم نشینی سے یہ پایا کہ لوگوں کو دیکھا کہ ایک دوسرے کی مذمت، غیبت، چغلی اور شکایت کرتے ہیں۔ میں نے غور کیا کہ یہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ یہ سب کچھ کیوں کرتے ہیں؟ ایک دوسرے کی برائی کی ٹوہ میں کیوں لگے رہتے ہیں؟ ایک دوسرے کی غیبت کیوں کرتے ہیں؟ ایک دوسرے کے عیب کیوں اچھالتے ہیں؟ میں ان تمام امور پر غوروفکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ ان تمام گناہوں کی جڑ حسد ہے۔ حسد کی وجہ سے لوگ غیبت اور ایک دوسرے کی مذمت کرتے ہیں۔ پھر میں نے یہ جاننا چاہا کہ یہ حسد کیوں ہے؟ تو میں نے دیکھا کہ حسد کے 3 اسباب ہیں۔

۱۔ مال کی کثرت میں بڑھ جانے پر حسد۔

۲۔ عزت اور جاہ و منصب کی مسابقت میں حسد ۔

۳۔ علم کی مسابقت میں حسد ۔

علماءدوسرے علماءسے حسد کرتے ہیں، وہ گوارہ نہیں کرتے کہ ان سے بڑھ کر کوئی اور صاحب علم ہوجائے، ان سے بڑھ کر کسی کو اعلیٰ عالم تصور کیا جائے، وہ دعویدار ہیں کہ وہ سب سے بڑے عالم ہیں لہذا ان کے پاس ہی علم سب سے زیادہ ہو۔ علم کی کثرت، مسابقت اور مقابلہ میں دوسرے عالموں سے حسد کرتے ہیں۔

جو لوگ جاہ و منصب والے ہیں، عزت والے ہیں وہ اوروں کی عزت اور جاہ و منصب پر حسد کرتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ کسی اور کی عزت زیادہ ہو، کسی اور کی تکریم زیادہ ہو، دنیا میں کسی اور کی چاہت زیادہ ہو۔ وہ دوسروں کی قدر ومنزلت اور عزت دیکھ کر حسد کرتے ہیں۔

کچھ لوگ مال کی وجہ سے حسد کرتے ہیں کہ اس کو مال زیادہ کیوں مل گیا؟ اس نے زیادہ کیوں کمالیا؟ یہ زیادہ آسائش میں کیوں ہے؟ اس کا گھر اونچا کیوں ہے؟ گاڑی اعلیٰ کیوں ہے؟ اس کے پاس پیسوں کی ریل پیل کیوں ہے؟ گویا مذمت، غیبت اور چغلی کی بنیاد حسد ہے۔ اس حوالے سے اللہ رب العزت کی رہنمائی چاہی تو میری نگاہ اللہ رب العزت کے اس فرمان پر پڑی:

”ہم اِن کے درمیان دنیوی زندگی میں ان کے (اسبابِ) معیشت کو تقسیم کرتے ہیں“۔ (الزخرف:۲۳)

لوگو! اس دنیا میں اگر کسی کو عزت کا رزق ملا ہے وہ بھی اللہ نے ہی کسی کو کم اور کسی کو زیادہ دیا ہے۔۔۔ کسی کو مال و دولت کا رزق ملا ہے تو وہ بھی اللہ نے ہی کسی کو کم اورکسی کو زیادہ دیا ہے۔۔۔ کسی کو اس دنیا میں جاہ و منصب اور علم کا رزق ملا ہے تو وہ بھی اللہ نے ہی دیا ہے، کسی کو علم کا سمندر دیا، کسی کو دو قطرے دیئے۔ اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ نعمتوں کی تقسیم ہم کرتے ہیں، تم نہیں کرتے۔ اگر بندہ کسی کی عزت زیادہ دیکھے اور حسد کرنے لگے، تو درحقیقت اس صاحب عزت سے حسد نہیں کررہا بلکہ اللہ کے فیصلے پر طعن کررہا ہے، اللہ کے فیصلے پر اعتراض کررہا ہے، اللہ سے ٹکراﺅ کررہا ہے کہ اللہ نے اس کو عزت کیوں زیادہ دی؟ اللہ نے اس کو مال کیوں زیادہ دیا؟ اللہ نے اس کو جاہ و منصب کیوں زیادہ دیا؟ پس میں نے اس دن سے یہ سوچا کہ یہ حسد بندے سے نہیں بلکہ دراصل اللہ کے فیصلے کے خلاف بغاوت ہے۔ پس میں نے اس دن سے حسد سے توبہ کی اور اللہ کی تقسیم پر راضی ہوگیا۔ اللہ جس کو زیادہ دے اس پر راضی ہوں مجھے کم دیا اس پر بھی راضی ہوں۔

دشمنی صرف شیطان کے ساتھ

چھٹا فائدہ آپ کی مجلسوں کے فیضان سے یہ حاصل کیا ہے کہ جب میں نے دنیا میں لوگوں کو دیکھا ہر شخص تھوڑی یا زیادہ کسی نہ کسی سے عداوت اور دشمنی رکھتا ہے۔ ساس ہے تو بہو کے ساتھ کچھ نہ کچھ عداوت ہے، اسی طرح بہو کا بھی یہی حال ہے۔ رشتہ داروں کی آپس میں عداوت ہے، کسی کی پڑوسی کے ساتھ عداوت ہے، کسی کی ساتھ کام کرنے والے کے ساتھ عداوت ہے، کسی کو افسر کے ساتھ اور افسر کو اپنے ماتحت کے ساتھ عداوت ہے۔

الغرض کسی نہ کسی شکل میں ظاہری یا چھپی ہوئی، بڑی یا چھوٹی، کم یازیادہ عداوت ہر ایک سے کسی نہ کسی کی ہوئی ہے۔ یہ عداوت بندے کو راہ حق، اعتدال، تقویٰ، خدا خوفی اور نیکی سے ہٹا دیتی ہے۔ میں نے سوچا کہ ہر شخص کو کسی نہ کسی سے عداوت ہے تو میں بھی کسی نہ کسی سے عداوت کروں۔ اس بارے میں پھر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوا تو اس نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ ساری عداوتیں انسان کو ہلاک و برباد کرتی ہیں مگر ایک دشمن ایسا ہے کہ اگر تو اس سے دشمنی کرے تو تجھے نجات اور فلاح مل جائے گی اور یہ دشمنی بندے کو ہلاک نہیں کرتی بلکہ نجات دیتی ہے۔

جان لو کہ وہ شیطان سے دشمنی ہے۔ پس اب اس دشمنی کا تقاضا یہ ہے کہ شیطان جو چاہے اس کی مخالفت کروں۔۔۔ شیطان جدھر لگانا چاہے اس کے برعکس دوسری راہ پر چلوں۔۔۔ شیطان جو ترغیب دے، اسے رد کردوں۔۔۔ شیطان میرے دل میں جو خیال ابھارے، اسے ٹھکراﺅں۔۔۔ لہذا میں نے نفس اور شیطان سے مخالفت اور دشمنی کرلی، جس دن شیطان سے دشمنی کرلی دنیا کی ساری دشمنیوں سے مجھے نجات مل گئی۔ اللہ پاک نے فرمایا:

”بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے سو تم بھی (اس کی مخالفت کی شکل میں) اسے دشمن ہی بنائے رکھو“۔ ۔ (فاطر:۶)

وہ لوگ جنہوں نے دشمنی کا Targetشیطان کو بنادیا، انہوں نے دنیا کے سارے لوگوں کی دشمنیوں سے نجات پالی۔

حرص، لالچ سے احتراز

حضرت حاتم اصمؒ بیان فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت شقیق بلخیؒ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے کے دوران ساتواں درس یہ ملا کہ جب میں نے دیکھا ہر ایک شخص کے اندر کوئی نہ کوئی طمع، کوئی نہ کوئی حرص، کوئی نہ کوئی لالچ اور کوئی نہ کوئی خواہش ہے اور یہ لالچ، طمع اور خواہشات بندے کو حرام کی طرف اور ناجائز کی طرف بھی لے جانے کا باعث بنتی ہیں، انہی کی وجہ سے بندہ گناہ اور فسق کی طرف جاتا ہے۔ اس طمع و لالچ کے باعث کثرتِ رزق کے لئے بندہ حرام ذرائع بھی اپناتا ہے۔ رزق حلال سے محروم رہتا ہے۔ میں نے چاہا کہ اللہ ر ب العزت کی رہنمائی لی جائے کہ اس صورت حال میں کیا کیا جائے؟ اللہ پاک کے اس فرمان نے میری رہنمائی فرمائی:

”اور زمین میں کوئی چلنے پھرنے والا (جاندار) نہیں ہے مگر (یہ کہ) اس کا رزق اﷲ (کے ذمہ¿ کرم) پر ہے“۔ (ھود:۶)

پس میں جان گیا کہ میرے رزق کی ذمہ داری اللہ پر ہے۔ تب سے میں نے طمع اور حرص و لالچ کی جڑ کاٹ دی اور توکل میں مشغول ہوگیا، اللہ پر اعتماد اور یقین قائم کرلیا اور ہر ذمہ سے اپنے آپ کو منقطع کردیا۔

توکل علی اللہ

آٹھواں سبق مجھے آپ کی ہم نشینی کے فیض سے یہ ملا میں کہ جب نے دیکھا کہ ہر شخص دنیا میں کسی نہ کسی شے پر بھروسہ کرتا ہے، کسی کو اپنی جسمانی طاقت پر بھروسہ، کسی کو اپنے علم پر بھروسہ، کسی کو اپنے عہد و منصب (اتھارٹی) پر بھروسہ، کسی کو اپنے مال و دولت پر بھروسہ، کسی کو علم و فن پر بھروسہ، کسی کو اولاد اور رشتہ داروں پر بھروسہ ہے۔ الغرض ہر شخص کو دنیا کی کسی نہ کسی شے پر بھروسہ ہے۔ میں نے غور کیا کہ اللہ رب العزت اس حوالے سے ہمیں کیا حکم دیتا ہے کہ کس پر بھروسا کیا جائے۔ اللہ پاک کے اس فرمان نے میری اس الجھن کو حل کردیا:

”اور جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے تو وہ ( اللہ ) اسے کافی ہے“۔ (ھود:۳)

میں نے دیکھا کہ جس نے دنیا کی جس شے پر بھروسہ کیا وہ اوندھے منہ جاگرا، اس چیز نے اس کو دھوکہ دیا۔ میں جان گیا کہ کوئی چیز حقیقی بھروسہ کے قابل نہیں، جس پر تکیہ کیا اسی نے دھوکہ دیا، جس پر اعتماد کیا اسی نے دھوکہ دیا۔ اللہ پاک نے فرمایا: بندے تو ناپائیدار چیزوں پر اور ناقابل اعتبار چیزوں پر بھروسہ کیوں کرتا ہے، آ،مجھ پر بھروسہ کر، جو مجھ پر بھروسہ کرتا ہے میں اس کو کافی ہوتا ہوں۔ پس میںنے اللہ رب العزت پر بھروسہ کیا۔

۔ سو اللہ میرے لئے کافی ہوگیا اور وہی میرا دنیامیں وکیل بن گیا۔

زندگی کا لائحہ عمل اور حضور غوث الاعظم کی چند نصیحتیں

اس موقع پر میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کے کلمات جو خطبات الفتح الربانی کی شکل میں ہیں، ان سے چند کلمات و نصیحتیں بھی آپ کے گوش گزار کرتا چلوں تاکہ ہمیںان اولیاءاللہ کی حیات وسیرت سے زندگی گزارنے کا مکمل ڈھنگ مل سکے اور ہم ان بابرکات لمحات میںان پر عمل کرنے کا عہد کریں۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ

٭ تقویٰ اختیار کرو اور شریعت کی حدود، احکام اور عوامل اپنے اوپر لازم کرلو۔

٭ ترک شریعت اور مخالفت شریعت سے توبہ کرلو۔ اتباع شہوات سے توبہ کرلو۔

٭ انسان کے چار دشمن ہیں۔

۱۔ نفس ۲۔ خواہش

۳۔شیطان ۴۔ برے ہم نشین و بری صحبتیں

کچھ لوگ نفس کے ہاتھوں تباہ ہوگئے۔۔۔ کچھ لوگ اپنی خواہشات اور ترجیحات کے پیچھے تباہ ہوگئے۔۔۔ کچھ لوگ شیطانی وسوسوں اور کاموں میں تباہ ہوگئے۔۔۔ اور کچھ لوگ اپنے برے دوست احباب کی سنگتوں میں بیٹھتے تھے، وہ بری صحبتیں، سنگتیں، دوستیاں اور یاریاں انہیں تباہ کرگئیں۔۔۔ ان تمام کو ترک کردو۔

٭ ہر وقت اپنے ایمان کی محافظت کرو۔ ایمان کی حفاظت سے ایک لمحہ کے لئے غافل نہ بنو۔

٭ اپنی محنت کی تلوار نیام میں مت داخل کرو اور ریاضت اور مجاہدے کے گھوڑے کی پیٹھ پر رہو، اس سے نہ اترو۔

ان تمام مقاصد کے حصول کا طریقہ کیا ہے؟

اس سمت بھی آپؓ نے درج ذیل رہنمائی فرمائی:

٭ سونا اس وقت اختیار کرو جب نیند کا غلبہ ہو۔

٭ کھانا اس وقت کھاﺅ جب بھوک کا غلبہ ہو، اتنا کھاﺅ کہ کچھ بھوک رہ جائے۔

٭ کلام اس وقت کرو جب ضرورت ہو۔ خاموش رہنا اچھے اور نیک لوگوں کی عادت ہوتی ہے۔

٭ تقویٰ کی بہترین اکیڈمی یا بہترین سکول جہاں تقویٰ کی ٹریننگ اور تربیت ہوتی ہے، وہ خلوت ہے۔ بندہ جب خلوت و تنہائی میں ہوتا ہے تو یہ وقت اس کے لئے بہترین موقع ہے کہ اس وقت جائزہ لے کہ تنہائی میں اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ کیا ہے۔

اس لئے اولیاءاور صوفیاءنے کہا ہے کہ اے اللہ کے بندے! اس طرح کا ہوجا جس طرح کا تو اپنا آپ لوگوں کو دکھاتا ہے۔ جو کچھ اپنا عمل لوگوں پر ظاہر کرتا ہے اسی طرح ہوجا۔ اگر اس طرح نہیں ہوسکتا تو پھر وہ کچھ ہوجا اور وہی دکھا جو تو اندر سے ہے اور حقیقت میں ہے۔

اے انسان! خلوت کو اپنی روحانی تربیت کی ٹریننگ اور اکیڈمی بنا، خلوت میں تربیت والے جلوت میں اچھے ہوجاتے ہیں۔

٭ اپنے نفس کا ساتھ نہ دو، نفس تجھے ہلاکت کی وادی میں گرادے گا۔ دنیا کا ساتھ نہ دو وہ تجھے راستے سے متزلزل کرکے ہٹادے گی۔ آخرت کی طرف سفر کرواور دل کا چہرہ مولا کی طرف رکھو۔ ان پر عمل سے اللہ پاک ایسا خزانہ دے گا جو کبھی ختم نہ ہوگا۔

قلب و باطن کی فکر

ہم اپنی پوری زندگی میں ہر وقت صرف دنیا ہی کی فکر میں رہتے ہیں۔ رمضان کی راتوں میں دعائیں کرتے ہیں۔۔۔ شب قدر میں دعائیں کریں گے۔۔۔ نیک مجالس میں آتے ہیں وہاں بھی دعائیں کرتے ہیں۔۔۔ اولیاءصلحاءسے جب ملتے ہیں تو دعاﺅں کا کہتے ہیں۔۔۔ مجلس ختم الصلوة علی النبی۔۔۔ جمعہ کے دن، اعتکاف۔۔۔ الغرض ہر ایک روحانی موقع پر ہم دعائیں کرتے ہیں اور ان دعاﺅں میں ہر شخص دنیاوی فکر اور مشکلات کے ازالہ کے لئے دعائیں کرتا ہے۔ یہ سارے فکر جن میں ہم سب ڈوبے ہوئے ہیں یہ نفس اور طبیعت کے فکر ہیں۔

ذرا سوچیں! قلب و باطن کے فکر کہاں گئے۔۔۔؟ روحوں کے فکر کہاں گئے۔۔۔؟ باطن اور روح کا فکر فقط ایک ہے کہ اللہ رب العزت کی رضا طلب کی جائے کہ اللہ مجھ سے راضی ہوا یا نہیں۔۔۔ میں اللہ کے قریب ہوں یا دور ہوتا جارہا ہوں۔۔۔ اللہ کی رضا مل رہی ہے یا نہیں مل رہی۔۔۔ اللہ کی بارگاہ میںمقرب، برگزیدہ اور مقبول ہورہا ہوں یا نہیں۔۔۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے کے قابل بنوں گا یا نہیں۔۔۔ اللہ پاک کی رحمت مجھے قبول کرے گیا یا دھتکار دے گی۔۔۔ آخرت میں کیا ہوگا۔۔۔؟

فرمایا: اے بندے! اس دنیا میں تیرا فکر آخرت کے حوالے سے ہونا چاہئے۔

لوگو! اس فکر میں مشغول ہوجاﺅ۔ غم ہونا چاہئے مگر غمِ دنیا نہیں بلکہ آخرت کا غم ہو۔ غم لوگوں کو ہوتے ہیں مگر اس دنیا کا نہ ہو بلکہ مولا کا غم ہو۔ اللہ کی محبت، رضا اور اس کی قربت کا غم ہو کہ کہیں میرا مولا مجھ سے ناراض تو نہیں ہوگیا۔ جس بندے کو اللہ کا فکر ہوگیا، جس کا غم اللہ کا ہوگیا، اس کی دنیا اور آخرت بدل گئی۔ یاد رکھ لیں کہ جتنے غم ہم دنیا کے کرتے ہیں ان سارے غموں کا نعم البدل آخرت کا غم ہے۔ مخلوق اور ہر شے کا بدل ہے مگر ایک ہستی جس کا کوئی بدل نہیں وہ ذات باری تعالیٰ ہے۔ اس کا نہ کوئی عوض اور نہ اس کا کوئی بدل ہے۔ اس لئے بندے تو اللہ کی بندگی میں اپنی زندگی صرف کر اور ہر روز اس طرح بسر کر کہ یہ زندگی کا آخری دن ہے۔

دنیا کی حقیقت

حضور سیدنا غوث الاعظمؓ نے فرمایا: لوگو! یہ دنیا ایک بازار ہے اور عنقریب تھوڑی دیر کے بعد یہ بازار بند ہوجائے گا۔ دکانیں کھلی ہیں، خریداری ہورہی ہے، آخر کار خریدوفروخت کا سلسلہ ختم ہوجائے گا۔ انسان کی زندگی کا خاتمہ قریب ہے۔ طرح طرح کی دکانیں لگی ہوئی ہیں اس (دنیا) بازار کے بند ہونے کے بعد اے بندو! ایک اور بازار، بازار آخرت کھلنے والا ہے۔

دنیا کے بازار ”سوق الدنیا“ اور آخرت کے بازار ”سوق الاخرہ“ میں فرق یہ ہے کہ دنیا کے بازار میں صرف خرید ہی خرید ہے جبکہ آخرت کے بازار میں خرید نہیں فقط فروخت ہی فروخت ہوگی۔ یہاں سودا خریدا جارہا ہے، کوئی حرص کے بازار میں چلا جائے تو وہاں سے حرص خرید رہا ہے۔۔۔ کوئی لالچ، تکبر، مال و دولت، رعونت، زندگی کے آسائش و آرام، سکھ چین کے سودے اور جاہ و منصب کے سودے خرید رہا ہے۔۔۔ طلبِ دنیا کی ہزارہا دکانیں بازار میں لگی ہیں اور ہم سودے خرید رہے ہیں۔ بندو! یاد رکھو یہ بازار بند ہونے والا ہے سو جس نے جو سودا خرید لیا وہی مال اس کے پاس رہ جائے گا اور پھر آخرت کے بازار میں کوئی نئی خرید نہیں ہوگی۔ جو مال اس دنیا سے خرید کر لے کر گئے ہوگے وہ مال وہاں بیچا جائے گا۔ یہاں خریدار ہم اور آپ ہیں، وہاں خریدار اللہ ہوگا۔

لہذا اس دنیا کا مال خریدتے وقت وہ مال خریدو جس کا خریدار اللہ بنے۔ جس کی طلب آخرت کے بازار میں ہو اسی کو یہاں سے خرید کر لے جاﺅ۔ حرص، لالچ، تکبر، عناد، عداوت، مال و دولت، جاہ ومنصب، دنیا کے سارے مال، گناہ، غفلت اور نافرمانی کے جو سودے ہم خریدتے پھرتے ہیں ان کا خریدار اللہ نہیں ہے، یہ سارا مال یہیں رہ جائے گا۔ جب آخرت کے بازار میں پہنچو گے تو اللہ تعالیٰ خریدار بن کر صدا دے گا کہ اے سوداگر! کیا مال تمہارے پاس ہیں تاکہ میں خریدار بنوں؟ تم کہو گے کہ میں اولاد کا مال لایا ہوں، آواز آئے گی میں اسکا خریدار نہیں ہوں۔۔۔ تم کہو گے کہ جاہ و منصب کا مال لایا ہوں، کہا جائے گا میں ان کا خریدار نہیں ہوں۔۔۔ میں دنیا کے زیب و زینت کا مال لایا ہوں، فرمائے گا میں اس کا بھی خریدار نہیں ہوں۔۔۔ الغرض جو مال خرید کر لے گئے ہوں گے وہ وہاں دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اور مولا اس کا خریدار نہ ہوگا۔


ای پیپر