Image Source : Twitter

پاکستان میں ’’سپر فلڈ‘‘! وزیرا عظم کو بڑے خطرے سے آگاہ کر دیا گیا
02 اپریل 2019 (18:29) 2019-04-02

اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل میں چیئرمین فیڈرل فلڈ کمیشن نے انکشاف کیاہے کہ اس سال ملک میں سپر فلڈ آسکتاہے، مون سون کی وجہ سے پنجاب اور صوبہ خیبر پختون خوا کے 25اضلاع متاثر ہو سکتے ہیں جن میں پنجاب کے 14اور صوبہ خیبر پختون خوا کے 11اضلاع شامل ہیں .

گذشتہ دو سال سے نہ تو انڈس کمشنر تعینات ہے اور نہ ہی واپڈا کے ممبر پاور اور ممبر واٹر تعینات ہیں، اگر ہمیں بھارت سے مذاکرات کرنے پڑے تومستقل کمشنر کے بغیر کیسے کریں گے۔ قائمہ کمیٹی نے سیکرٹری ایر گیشن اور سیکرٹری ارسا کا اجلاس میں غیر حاضری پر شدیدبرہمی کا اظہار کیا اور معاملے پر مشترکہ مفادات کونسل ، سپیکر قومی اسمبلی اور وزیر اعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ۔ منگل کو قائمہ کمیٹی آبی وسائل کا اجلاس چیئر مین نواب یوسف تالپور کی سربراہی میں ہوا۔ اجلاس میں علی نواز اعوان ، شوکت علی بھٹی ، فاروق اعظم ، جاوید اقبال وڑائچ، مریم اورنگزیب ، کنول شوزیب ،منیر خاں اورکزئی کے علاوہ چئیرمین فیڈرل فلڈ کمیشن اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔

چیئرمین کمیٹی نواب یوسف تالپور نے سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دن ارسا کی ٹیکنیکل کمیٹی کا اجلاس کیوں رکھا گیا ارسا کے اجلاس کے حوالے سے سپیکر قومی اسمبلی کو لکھیں گے چیف سیکرٹریز کو خط لکھیں کہ انکے سیکرٹری آبپاشی اجلاس میں شرکت نہیں کررہے کل کسی معاملے پر چیف سیکرٹریز کمیٹی سے گلہ نہ کریں ، اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین فیڈرل فلڈ کمشنر احمد کمال نے بتایا کہ فلڈ مینجمنٹ پلان منظوری کیلئے منصوبہ بندی کمیشن کو بھجوایا ہوا ہے منظوری کی صورت میں پلان کا رواں سال سے اطلاق کر دیا جائے گا ۔

انہوں نے کہاکہ امسال بارشین اور برفباری زیادہ ہوئی ملک میں زیادہ برف اور بارش کے باعث فلڈ کمیشن کا اجلاس مارچ میں ہوا محکمہ موسمیات کا خیال ہے اس دفعہ مون سون میں زیادہ بارشیں نہیں ہوں گی واپڈا نے مون سون کے دوران کے لئے ڈیموں کا ایس او پی بہتر کرلیا ہے مون سون کی وجہ سے پنجاب اور صوبہ خیبر پختون خواہ کے 25اضلاع متاثر ہو سکتے ہیں جن میں پنجاب کے 14اور صوبہ خیبر پختون خواہ کے 11اضلاع متاثر ہو ں گے۔چیئرمین فیڈرل کمیشن نے اجلاس کو بتایا کہاگر 2010 جیسا سیلاب آیا تو یہ اضلاع متاثر ہو سکتے ہیں اس چیز کی نشاندہی ایک خصوصی طور پر کروائی گئی اسٹڈی میں سامنے آئی ہے محکمہ موسمیات اپریل مئی اور جون کا جائزہ لے کر جولائی کی پیشن گوئی کرتا ہے تمام صوبائی محکمہ آبپاشی سے دریائوں کے کمزور پشتوں کی نشاندہی کی ہدایت کی ہے فلڈ کمشن کے ملک بھر کے 69 ٹیلی میٹر اسٹیشن میں سے 24 خراب تھے ان کو ٹھیک کر دیا گیا ہے۔

ٹیلی میٹری سسٹم اب مکمل طور پر فعال ہے ،انہوں نے الزام عائد کیاکہ صوبائی اداروں کو سیلاب سے بچاو کے لئے فنڈز نہیں دیئے جاتے صوبائی حکومتوں کی جانب سے پیشگی اقدامات کے لئے فنڈنگ نہیں کی جاتی۔ انہوں نے بتایا کہ 2010 تک سیلاب سے ملک میں 19ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو 2015تک سیلاب سے مجموعی طورپر38 ارب ڈالرسے زیادہ کا نقصان ہوچکاہے گزشتہ دو سال کی مون سون کم تھیں، آنیوالی مون سون بہتر متوقع ہیں، اراکین کمیٹی کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ تمام صوبائی محکمہ آبپاشی سمیت محکمہ موسمیات سے مکمل رابطے میں ہوتے ہیں،مون سون سے متعلق محکمہ موسمیات مئی میں اپنی پیشگوئی بتائے گا اراکین کمیٹی کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سیلاب سے بچاو کے لئے دو فیز میں کام مکمل کی اجائے گا جس پر 332بلین روپے خرچ ہو ں گے فیز ون میں 177.661بلین روپے جبکہ فیز ٹو 154.585بلین روپے میں مکمل ہو ں گے ۔

رکن کمیٹی مریم اورنگزیب نے کہا کہ پوری دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کیخلاف پیشگی اقدامات لئے جاتے ہیںفلڈ کمیشن کا ڈیٹا کافی پرانا ہے جب سیلاب کی تیاری کا پوچھا جاتا ہے تو جواب نہیں دیا جاتا مجھے تو پتا نہیں کہ فیڈرل فلڈ کمیشن کرتا کیا ہے جب سیلاب آتا ہے تو اس وقت صرف فوج مددکے لئے کھڑی ہوتی ہے اتنے سارے ادارے ہیں یہ سیلاب کے دوران کوئی زمہ داری نہیں لیتا فیڈرل فلڈ کمیشن کے ماتحت اداروں کو بلا کر ان سے انکی زمہ داریاں پوچھی جائیں یہ تو تمام اداروں کی پرفارمنس بتا رہے ہیںحالانکہ وہ تمام ادارے ان کے ماتحت نہیں یہ بتایا جائے کہ جب سیلاب آ جائے تو یہ کیا کریں گےرکن کمیٹی علی نواز اعوان نے کہا کہ اسلام آباد کو دریائے سندھ سے پا نی کا معاملہ طے ہوچکامگرپانی نہیں مل رہا جس چیئرمین کمیٹی نواب یوسف تالپور نے کہاکہ سندھ حکومت نے منظور بھی دی تھی اپنے حصے کے اس معاملے پرعملدرآمد نہ کرنے پراظہار ناپسندیدگی کامراسلہ لکھیں گے، آئندہ اجلاس میں ارسا اور سی ڈی اے حکام کو بھی طلب کیا جائے۔


ای پیپر