کپتان جی !غربت کا خاتمہ ”احساس“سے ممکن نہیں
02 اپریل 2019 2019-04-02

کئی غربت مٹاو¿ پروگرام آئے ، خود مٹ گئے لیکن غربت نہ مٹا سکے ۔ بدگمانی سے بچنے کا حکم ہے لیکن ماضی کے تجربات کو دیکھ کر خوش گمان بھی کیسے رہا جائے ؟ خوشی کی بات ہے ، وزیراعظم کو عوام کی غربت کا " احساس "ہے۔ ریاست ، کمزور طبقات کی" کفالت "کرنا چاہتی ہے ، لیکن جیسے کپتان چاہتے ہیں ، تاریخ انسانی بتاتی ہے ، غربت ایسے دور نہیں ہوتی۔ غربت مٹاو¿ پروگرام کیلئے بنائی جانے والی 120 ارب روپے کی نئی وزارت پر ابھی سے انگلیاں اٹھ رہی ہیں کہ ایک وفاقی وزیر نے ایک خاتون کا "احساس "کرتے ہوئے یہ وزارت بنوائی۔ آغاز یہ ہے تو ایسی وزارت کا انجام تو حبیب جالب کب کا بتا چکے۔ 

وہی حالات ہیں فقیروں کے 

دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے 

تاریخ بتاتی ہے ، مدینہ کی ریاست میں ایسا بھی دور آیا۔ جب صدقہ ، خیرات دینے کیلئے لوگ گھر سے نکلتے ، شام ہوجاتی کوئی محتاج نہ ملتا۔ فراوانی کی یہ مثال سن کر ہم خوشحال ریاست کے تصور میں کھو جاتے ہیں۔ اور یہ بھول جاتے ہیں۔ یہ وہی دور تھا ، جب وہ ہاتھ پھیلانے کے بجائے فاقہ کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اسے خودداری کہتے ہیں۔ عزت نفس جس سے جنم لیتی ہے۔ ایک اور مثال بھی ہے اسی دور کی ، ایک خاندان نے ہمسائے کو ضرورت مند جان کر کھانا بھجوایا۔ کچھ دیر بعد وہ کھانا ایک سے دوسرے گھر سے ہوتا ہوا پورے محلے میں گھوم کر وہیں پہنچ گیا ، جہا ں سے چلا تھا۔اپنی بھوک کو نظرانداز کرکے سب چاہتے تھے ، اس کا ہمسایہ بھوکا نہ ہو۔ اسے احساس اور معاشرتی ذمہ داری کہتے ہیں۔ یعنی غربت کو ختم کرنے کیلئے امداد کافی نہیں ، امداد باہمی کا جذبہ بھی چاہیے۔ خودداری ،احساس ذمہ داری اور عزت نفس بتائے گی۔ آپ سخی بننا چاہتے ہیں یا فقیر۔ یہ تصوراتی گفتگو نہیں ۔ ہمارے ہی دیس میں خودداری ، ذمہ داری اور عزت نفس کی ایک روشن مثال اخوت تنظیم رقم کررہی ہے۔ جو بلاسود قرض لیتا ہے ، وہ قسط کے ساتھ کچھ روپے خود بھی دان کرتا ہے۔ لینے والا ہاتھ ، دینے والا ہاتھ بن جاتا ہے۔ بے مثال "اخوت " کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب اس تبدیلی کا جب جب ذکر کرتے ہیں ، ان کی آنکھیں چمکنے لگتی ہیں۔ 

کپتان کی مشاورتی ٹیم نے بھی معاشرے کے بنیادی فیبرک کو نظرانداز کیا تو ماضی کی طرح یہ منصوبہ بھی ناکامی کی داستان کو منہ چڑائے گا۔ وقت کی ضرورت ہے۔ غربت کی نئے سرے سے ہمہ جہت تعریف کی جائے ۔ہر سطح پر غربت کا خاتمہ کیا جائے ، اس کیلئے یاد رکھنا ہوگا۔ غربت سیاسی ، سماجی ، اخلاقی اور معاشی پرتیں رکھتی ہے۔ سیاسی غربت دور کرنی ہے تو دیکھنا ہوگا۔ سب کو سیاسی حقوق مل رہے ہیں یا نہیں ؟ سماجی غربت یہ ہے کہ مصلی امیر بھی ہوجائے تو عزت دار نہیں سمجھا جاتا۔معاشی غربت بتاتی ہے ، وسائل تک سب کی رسائی نہیں ۔ اخلاقی غربت یہ ہے ، تاجر کم تولتے ہیں ، ہم جھوٹ بولتے ہیں ، وعدوں کی بات آئے تو صاف کہہ دیتے ہیں ، وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوگیا۔ یعنی نہ خودداری ، نہ ذمہ داری اور نہ ہی کوئی عزت نفس۔

رومانویت کا شکار عمران خان چاہیں تو ایک تجربہ کرلیں۔ پورے پاکستان کی دولت جبراًایک جگہ جمع کرلیں اور سب میں برابر بانٹ دیں۔ وقتی طور پر سب امیر ہوجائیں گے۔ کیا سال بعد بھی سب امیر رہیں گے ؟ جواب نفی میں ملے گا۔ ہوگا کیا ؟وقتی صدمے کے بعد تاجر اور سرمایہ دار بچی کھچی رقم سے دوبارہ کاروبار شروع کردیں گے۔ جیسے بھٹو دور میں قومیاتی پالیسی کے بعد ہوا۔ متوسط اور غریب طبقہ اس رقم سے کچھ دن اچھا کھالے گا۔ بیٹی بیاہ لے گا۔ حج عمرہ کرلے گا۔ فکسڈ ڈیپازٹ کردے گا۔ آخرکار سال بعد کچھ اضافے کے ساتھ امارت اور غربت کا معیار پہلے جیسا ہی نظر آئے گا۔ کیونکہ غربت ایک مائنڈ سیٹ کا نام ہے۔ جو طے کرلیتا ہے ، وہ امیر ہونہ ہو ، کم ازکم غریب نہیں رہتا۔         (جاری ہے )


ای پیپر