مقبوضہ کشمیر: غاصب افواج کا انخلاء ناگزیر ہے
02 اپریل 2018

بھارت کی جانب سے پاکستان کی خارجی و داخلی سرحدوں پر ترکتازیوں کے عمل میں گزشتہ22برسوں سے انتہائی شدت آئی ہے ۔ ایک تواتر اور تسلسل کے ساتھ بھارتی افواج پاکستان کے مختلف بین الاقوامی بارڈرز پر اندھا دھند جارحانہ فائرنگ اور بمبنگ کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے ۔ گویا بھارتی حکمران مستقبل قریب یا بعید میں پاکستان کے خلاف ایک بڑی جارحانہ جنگ کی ریہرسل کر رہے ہیں۔ بھارت پاکستان کی داخلی سرحدوں میں اپنی ایجنسیوں کے ذریعے مختلف ریشہ دوانیاں کر رہا ہے ۔ اس امر کے واضح ثبوت اور شواہد مل چکے ہیں کہ بلوچستان، کراچی، اندرون سندھ، جنوبی پنجاب ، سوات اور فاٹا کے علاقوں میں بھارتی ایجنسی را کے ایجنٹ مختلف بہروپوں میں پاکستان کی قومی سلامتی اور داخلی خود مختاری کیلئے ایک بڑا خطرہ بنے ہوئے تھے۔ اس پر طرہ یہ کہ بھارتی مداخلت کاروں کو امریکا، برطانیہ، اسرائیل ، روس، افغانستان اور دیگر پاکستان مخالف ممالک کی مالی و اسلحی معاونت بھی حاصل ہے ۔ یادش بہ خیر 23جنوری 2010ء کوبینظیر شہید میڈیا یونیورسٹی پراجیکٹ میں شریک صحافیوں کے دورہ آئی ایس پی آر کے موقع پر بریفنگ کے دوران ایک سوال پرآئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل اطہر عباس کا یہ جواب عام پاکستانی شہریوں کے مؤقف اور نقطہ نظر کی تائید کر رہا تھا : ’’بلوچستان میں ایک نہیں کئی ملکوں کے ادارے مداخلت کررہے ہیں جن کاہمارے پاس ثبوت موجود ہے ، پہلے امریکا ہمارا یہ مؤقف تسلیم نہیں کرتاتھا لیکن جب کوئٹہ سے اقوام متحدہ کے اہلکار جان سولیکی کو اغوا کیاگیا اوراسکی رہائی کے لیے امریکیوں نے ہم سے مدد چاہی تو ہم نے ٹرانسمیٹرلگوا کر بیرون ملک سے ہونیوالی ٹیلیفون ٹیپ کروائے اور اس معاملے میں براہمدغ بگٹی کے ملوث ہونے کاثبوت دیا اور یہاں تک بتایا کہ وہ کابل کی کس گلی اور کس گھر میں رہتے ہیں توامریکیوں کویقین ہوا کہ براہمدغ بگٹی کابل میں ہیں، ممبئی حملوں کے بعد بھارتی میڈیا نے انتہائی غیر ذمہ داری کامظاہرہ کیا اور دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کی فضا بنادی تھی‘‘۔بہتر ہو گا کہ بھارت کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کروائی جائے کہ اس کی ایجنسی ’’را‘‘ پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کیلئے دہشت گردی اور تخریب کاری کی وارداتوں کی پلاننگ سے باز آ جائے۔گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کی دعوت دینے کے لیے اربابِ حکومت نے انتہائی دلکش اور پرکشش ترغیباتی پیکجز پیش کئے۔ جونہی بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے سلسلہ جنبانی شروع کی ،پاکستان کے طول و عرض میں اور خصوصاً بڑے شہروں میں مذکورہ ایجنسی کی جانب سے دہشت گردانہ وارداتوں کا ایک طولانی اور غیر مختتم سلسلہ شروع کر دیا۔ واضح رہے کہ بھارت کی یہ خفیہ ایجنسی صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بنگلہ دیش، سری لنکا، برما ،بھوٹان اور اب ما لدیپ کے داخلی معاملات میں بھی در اندازی کی مرتکب ہو رہی ہے ۔ یہ در اندازی در حقیقت بھارت کی جانب سے ہمسایہ ممالک میں سرحد پار دہشتگردی کا ایک مذموم عمل ہے ۔ جب تک بھارت سرکار اپنے ہمسایہ ملک پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور در اندازی سے باز آنے کی حتمی ضمانت دینے کے لیے ’’را‘‘ کے تخریب کارانہ ایجنڈے کو رول بیک نہیں کرتی، دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے کسی بھی شعبے میں با معنی اور جامع پیشرفت نہیں ہو سکتی۔
یہاں اس امر کا ذکر بھی از بس ضروری ہے کہ مقبوضہ وادی کے مسلم عوام کے ساتھ بھارتی افواج نے 12 ستمبر 1948 ء سے وحشیانہ اور بہیمانہ تشدد کا جو سلسلہ شروع کیا تھا وہ 1988ء میں کشمیر میں ایمر جنسی ، ہنگامی حالات اور کالے قوانین کے نفاذ کے بعد انتہا کو پہنچ چکا تھا۔ تب وہ کشمیری عوام جو 1850 ء سے غلامی کی سیاہ رات کا سامنا کر رہے تھے، تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق سروں پر کفن باندھ کر میدانِ عمل میں اُتر پڑے۔انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں قائم دہلی کی کٹھ پتلی حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک شروع کی اور وادی کے طول و عرض میں ظلم و تشدد کا بازار گرم کرنے والے بھارت کے درندہ فوجیوں کی چھاؤنیوں اور کانوائز پر مسلح حملوں کی تحریک کی داغ بیل ڈال دی۔ مقبوضہ وادی سے بھارتی غاصب افواج کے قدم اکھڑتے ہوئے دکھائی دیے۔ کشمیری مجاہدین کی تحریک آزادی 1998ء تک بامِ عروج تک پہنچ چکی تھی۔ 1999ء میں وہ لمحہ قریب آ چکا تھا کہ اگر عالمی دباؤ قبول نہ کیا جاتا تو مجاہدین مقبوضہ کشمیر کو آزادی کی دولت سے ہمکنار کروا چکے ہوتے۔ جدو جہدِ آزادی کشمیر کے رہنما سید علی گیلانی آج بھی کہہ رہے ہیں کہ :’’ ہم کٹے پھٹے زخمی دلوں کے ساتھ اپنا گھر بار لٹا نے اپنے بچوں بچیوں کی قربانیاں دینے کے باوجود اپنا جان مال اور بہت کچھ پاکستان کے استحکام پر لٹانے کیلئے تیار ہیں،ہم سمجھتے ہیں کہ سرنڈر کی پالیسی قوموں اور ملکوں کو بالآخر ایسے گڑھے تک لے جاتی ہے جس سے نکلنا مشکل ہوتا ہے ، ہمارے دل پاکستان کے لیے دھڑکتے ہیں ،ہماری منزل پاکستان ہے ، بین الاقوامی ایجنڈا خواہ کچھ ہو ا لیکن تاہم کشمیرکے اندر جدو جہد جاری تھی، جاری ہے اورجاری رہے گی‘‘۔
عالمی برادری بخوبی یہ جان چکی ہے کہ جنوب مشرقی ایشیاء میں اُس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا اور نہ ہی پاکستان اور بھارت کے مابین نام نہاد جامع مذاکرات کی کوششیں بار آور ہو سکتی ہیں ،جب تک کشمیری عوام کو اقوام متحدہ اور سلامتی کی منظور شدہ قرار دادوں کے مطابق حقِ خود ارادیت اور حقِ رائے شماری نہیں دیا جاتا۔ استصواب رائے کے بغیر کشمیری عوام کا مینڈیٹ واضح اور شفاف انداز میں ابھر کر دنیا کے سامنے نہیں آ سکتا۔ واضح رہے کہ تنازع کشمیر کوئی معمولی سرحدی تنازع نہیں بلکہ یہ کشمیری عوام کی آزادی کا اہم اور حساس ترین مسئلہ اور معاملہ ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ اہم اور حساس ترین معاملات اور حصول آزادی کیلئے کوشاں قوم کے تنازعات کو کبھی بھی در پردہ مذاکرات (بیک چینل ڈپلومیسی) کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ ایک مدت سے کشمیری رہنما پاک بھارت ٹریک ٹو ڈپلومیسی پر بھی اظہار تشویش کر رہے ہیں۔2004 ء سے2010ء تک جاری ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے بارے میں بھی یہ انکشاف ہوا کہ اُس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ۔ ایسے میں بس سروس اور سفارتی تعلقات کی بحالی سے مظلوم کشمیریوں کے زحموں پر کیسے مرہم رکھا جا سکتا تھا۔ مسئلہ کشمیر کے آبرومندانہ حل اور مقبوضہ وادی کے شہریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دیئے بغیر بحالی امن کے لیے بھارت کی کسی کوشش کو مبنی بر اخلاص خیز قرار دینا قرین انصاف نہیں۔ سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے مابین تمام تنازعات کی اصل بنیاد مسئلہ کشمیر ہے ۔ اس مسئلہ کو خطے میں نیوکلیئر فلیش پوائنٹ کی حیثیت حاصل ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے ایک لاکھ سے زائد حریت پسند شہری وادی پر بھارت کے غاصبانہ اور ناجائز قبضہ کے خلاف جدوجہدکرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرچکے ہیں۔ اس جدوجہد کے دوران 50ہزار سے زائد کشمیری نوجوان وادی میں قائم مختلف ٹارچر سیلوں میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بننے کے باعث مختلف جسمانی معذوریوں میں مبتلا ہیں۔ اس ضمن میں پاکستانی دفتر خارجہ کو موثر اور ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے اور بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمان کے حق خودارادیت کے حق میں آواز بلند کرنے کے عمل کو بدستور جاری رکھنا ہوگا۔
کشمیری حریت پسند آج بھی برملا خبردارکر رہے ہیں کہ بھارت کی جانب سے مسئلہ کو متنازع تسلیم کرناعالمی برادری کو سراسردھوکہ دینے کے مترادف ہے ۔ جب تک مقبوضہ وادی جموں و کشمیر سے ساڑھے آٹھ لاکھ بھارتی غاصب فوجیوں میں سے آخری فوجی تک وہاں سے نکل نہیں جاتا، دہلی سرکاری کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو متنازع تسلیم کرنا محض ایک آئی واش ہے ۔ جب تک مقبوضہ وادی میں بھارتی غاصب اور جارح فوج کا تسلط قائم ہے ، اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آزادی پسند اور حریت خواہ کشمیریوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم رہے گا ۔ یہ ناممکن ہے کہ ظلم و ستم کی ارزانی بھی ہو اور امن کا قیام بھی زمینی حقیقت بن جائے۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان شروع ہی سے مقبوضہ وادی کے حریت پسندوں کے حق خود ارادیت کا غیر مشروط حامی ہے اور مقبوضہ وادی کے ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد مسلم اکثریتی عوام آج بھی کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگا رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ بھارت اپنی 8 لاکھ سے زائد غاصب اور قابض افواج کو مقبوضہ وادی جموں کشمیر سے جب تک نکال باہر نہیں کرتا وہ اپنی تحریک مزاحمت ، تحریک حق خود ارادیت اورتحریک آزادی جاری رکھیں گے۔
ماضی کا تلخ تجربہ تو یہی ہے کہ بھارت سرکار کے گہرے عناد اور تضاد کی وجہ سے اب تک پاک بھارت مذاکرات کی حیثیت سانپ اور سیڑھی کے کھیل سے زیادہ وقعت حاصل نہیں کر سکی۔بھارتی حکمرانوں کو تسلیم کرنا ہو گا کہ دونوں ممالک کے مابین موجود سرحدیں اور کھینچی گئی لکیریں ایک اٹل حقیقت ہیں۔ یہ سرحدیں اور لکیریں ایک ایسی ہمالہ قامت دیوار ہیں جوبھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کے باوجودابد تک قائم رہیں گی۔ آج تک پاکستان اور بھارت کے مابین مذاکرات کی ناکامی کا بنیادی سبب مسئلہ کشمیر کو معرض التواء میں ڈالتے چلے جانے کی روش ہے ۔ اس حوالے سے بھارت کو اپنے بنیادی مؤقف میں لچک پیدا کرنا ہو گی اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے مقبوضہ وادی جموں و کشمیر سے اپنی غاصب افواج کو نکال باہر کرنا ہو گا۔ بالکل اُسی طرح جس طرح بھارت کا جوہری اتحادی امریکا، عراق اور سے اپنی افواج کا انخلاء کرچکا ہے ۔ اب مقبوضہ کشمیر سے غاصب بھارتی افواج کے انخلاء کے لیے بھارت کو ڈیڈ لائن دینا ہو گی۔
بھارت سرکار کا ہر وزیر پاکستان مخالف بیان جاری کرنے کی دوڑ میں ایک دوسرے سے گوئے سبقت لے جانے کیلئے ماہ�ئ بے آب کی طرح بے تاب اور کباب سیخ کی طرح کروٹیں بدلتا رہتا ہے ۔ جارحانہ بیانات کی چاند ماری سے تو ہرگز یہ ظاہر نہیں ہو تاکہ بھارت پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر اور پانی ایسے اہم مسائل کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ ہے ۔ بھارت پانی کے معاملہ میں سندھ طاس معاہدے کی دھجیاں اُڑا رہا ہے ۔ کشن گنگا ڈیم کی تعمیر بھی بلا توقف جاری ہے ۔ کسی بھی قسم کے مذاکرات اُسی وقت کامیاب ہوں گے جب بھارت پاکستان کے خلاف ابلاغیاتی اور آبی جارحیت دونوں کا سلسلہ بند نہیں کرتا۔
یہ ایک حقیقت ثابتہ ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی متناز ع مسئلہ ہے ۔بین الاقوامی غیر جانبدار حلقے یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج بدترین قسم کے مظالم کو روا رکھے ہوئے ہیں۔ وادئ کشمیر کے اکثر گلی کوچے اور در و دیوار نہتے، مظلوم اور معصوم کشمیری عوام کے لہو سے گلنار ہیں۔ کشمیری عوام کا بجز اس کے اور کوئی قصور نہیں کہ وہ اپنے وطن کو بھارتی غاصب افواج کے تسلط سے آزاد دیکھنا چاہتے ہیں۔ مقبوضہ وادی کے عوام کے نزدیک کشمیر میں مزاحمت کا آغاز 1948ء میں اس دن ہوا تھا جب کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے بھارتی افواج ہوائی جہازوں ، ہیلی کاپٹروں اور پیرا شوٹس کے ذریعے وادی کے مختلف شہروں میں داخل ہوئی تھیں۔ عالمی برادری جان چکی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں موجود ایک لاکھ کے قریب شہدا کی قبریں اس امر کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی خالصتاً ایک داخلی اور مقامی تحریک ہے ۔ کشمیری دنیا کی ان اقوام میں شمار کئے جاتے ہیں، امن جن کی گھٹی میں رچا بسا ہے ۔ بھارتی غاصب افوا ج کی چیرہ دستیوں، خوں آشامیوں اور سفاکانہ و بہیمانہ کارروائیوں نے کشمیریوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے شاخِ زیتون پھینک کر بندوق اٹھا کر حالات کے جبر کا مقابلہ کریں۔ انہیں ایسا کرنے کا حق سلامتی کونسل کی قراردادیں دیتی ہیں۔ مقبوضہ وادی کے کشمیری حریت پسند اپنے اسی بنیادی حق کے حصول کے لئے جنگ لڑتے ہوئے گذشتہ 7 عشروں میں ایک لاکھ 25 ہزار کے قریب جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں ۔ بڈگام، سری نگر، گاندر بل،شوپیاں، اسلام آباد، با رہمولہ، بٹ گام ، حضرت بل،جوڑیاں اور دیگر ان گنت شہروں اور قصبوں کے قبرستانوں میں شہداء کی قبروں کے الگ احاطے اس امر کی شہادت دیتے ہی کہ کشمیر میں جاری تحریک کو کشمیری عوام ہی اپنے وسائل سے آگے بڑھانے کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ کشمیری عوام کی یہ تحریکِ مزاحمت در حقیقت مقبوضہ وادی کے عوام کا مقبوضہ وادی میں بھارتی غاصب افواج کے بہیمانہ مظالم کے خلاف فطری رد عمل ہے ۔ بھارت ایسا کوئی بھی غاصب جارح اور توسیع پسندملک افواج اور اسلحہ کے خلاف تو جنگ لڑ سکتا ہے لیکن فطرت کے خلاف نبرد آزما نہیں ہو سکتا۔ مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کے حوالے سے حکومتِ پاکستان کو اپنے اصولی مؤقف میں لچک نہیں پیدا کرنا چاہیے اور عالمی برادری کو واضح طور پر بتا دینا چاہیے کہ اس مسئلہ کے بنیادی طور پر تین فریق ہیں۔ بھارت، کشمیری عوام اور پاکستان۔ کشمیر کے موضوع پر مذاکرات سہ فریقی ہونا چاہیں۔ دو طرفہ مذاکرات کبھی نتائج خیز نہیں ہو سکتے۔


ای پیپر