نسلوں نے سزا پائی
02 اپریل 2018 2018-04-02

اگرچہ تقسیمِ پاکستان (بنگلہ دیش کے قیام) کا جانکاہ سانحہ ۱۹۷۱ء میں ظہور پذیر ہوالیکن اس کا درد ہر اس شخص کے سینے میں دھڑکتا ہے جو اس ملک سے جذباتی وابستگی رکھتا ہے یا تاقیامت رکھتا رہے گا۔کسی بھی قوم کے تصورِ تاریخ پر ’’اداراتی اثرات‘‘ کا جبر ہوتا ہے۔کوئی بھی تاریخی واقعہ جب مختلف النوع متون کارز ق بنتا ہے تو اس کی معنویت بوجوہ تبدیل کردی جاتی ہے یا پھر ہوجاتی ہے۔تاریخی واقعات کی صحافیانہ جہت ہو ، یا ادبی نمائندگی ، تاریخی دستاویزیت ہو یا بصری شواہد ان سب اظہاریوں پر مبنی ’’اداراتی اثرات‘‘ اور ’ ’ ثقافتی بوجھ ‘‘ سے آزاد ہوکر Archival Continuum کی روشنی میں ایک متوازی مطالعے کی ضرورت ہے، جس کا مقصد غیر اختراع شدہ حقائق سے الگ حقیقت تک پہنچنا ہو تاکہ مستقبل کے لیے سانحاتی کرب سے نہ صرف بچا جا سکے بلکہ فکشن کے دروبست سے جو غلط نمائندگی قارئین کے اذہان میں رسائی حاصل کرچکی ہوتی ہے اس کا منطقی جواب بھی حاصل ہو پائے ۔اس ضمن میں برٹش لائبریری کی طرف سے تقسیمِ ہند سے قبل کی سرکاری دستاویزات جن میں مقامی ہندوستانی قیادت کے اجلاسوں کے سرکاری منٹس اور دیگر تفاصیل موجود ہیں ، پبلک کی جا چکی ہیں ۔ جن سے تقسیمِ ہند سے متعلق پاکستانی ، ہندوستانی ، بنگلہ دیشی اور برطانوی بیانیوں کی روشنی میں معترض اکائیوں کی طرف سے اٹھائے گئے سوالوں کے جواب تلاش کرنے میں آسانی رہے گی۔بنگلہ دیش کے قیام یعنی (تقسیمِ پاکستان) کے بارے میں ادبی اور غیر ادبی متون کی سرحد کے دونوں طرف سے بہت کچھ لکھا گیا اور ظاہر ہے کہ ان متون کی اکثریت پر ’’ اداراتی اثرات‘‘ حاوی رہے۔ قوموں کو اپنے بیانیوں کی رگوں میں خون کی آبیاری کے لیے بہر حال مختلف اطوار سے متون کو استعمال کرنا ہوتا ہے ۔ جیسے کہ دنیا کی ہر بڑی طاقت صحافت ، ادب اور بصری بیانیوں کو طاقت کے استعمال کے حق میں بطور دلائل استعمال کرتی رہی ہے اور اب بھی انہی کا استعمال جاری ہے۔ دنیا میں کیے جانے والے

مظالم کی دستاویزی توجیہات کا ایک وسیع ذریعہ بہر حال موجود ہے جو معذرت خواہانہ کی بجائے منطقی اور دلیل آفریں نوعیت کا ہے اور ہر دو فریقین کے دلائل بین وقت درست یا لادرست دکھائی دیتے ہیں ۔ تاریخی حوالے سے ایسے مبہم منظر نامے سے حقائق کی درست شکل تک پہنچنا ایک بہت بڑا تحقیقی کام ہے ۔ سقوط ڈھاکہ پر بہت سی کتب ہمارے ادبی اور تاریخی سرمائے میں موجود ہیں ۔ سقوطِ ڈھاکہ کو تاریخی طور پر سقوطِ بغداداور سقوطِ دہلی جیسی اہمیت حاصل ہے۔ عام طور پر سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب میں سے دونوں حصوں میں موجود ۱۶۰۰کلومیٹر طویل فاصلے کا ہونا، مغربی پاکستان کی طرف سے مشرقی پاکستان کے عوام کا استحصال کرنا اور شیخ مجیب الرحمٰن اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان اقتدار کی جنگ کو ہی بیانیوں کو حصہ بنایا جاتاہے۔ حالانکہ بھارتی حکومتی سطح پر مکتی باہنی کی سرپرستی اور بھارتی شرپسندی کو تسلیم کرنے کے باوجود سرحدوں کے دو اطراف میں ادبی اور غیر ادبی متون خاموش ہیں ۔سقوطِ ڈھاکہ پر عمومی طور پر دستیاب متون کی اکثریت عسکری نمائندوں نے تحریر کی ہیں اس کی ایک وجہ تو یہ ہے فوج براہِ راست اس سارے سانحے کی شاہد تھی اور ان شواہد میں سیکڑوں میل دور بیٹھے ایک ادیب اور صحافی نے جو فکشن کے عناصر شامل کردیے ہیں ان کی بہر حال ’’ نوتاریخی‘‘ تناظر میں تفتیش کی ضرورت ہمیشہ سے تھی۔ اس ضمن میں تحریر شدہ سینکڑوں کتب میں سے ایک انتہائی اہم کتاب Tragedy of Erros: East Pakistan Crisis 1968-1971 ہے جس کے مصنف اور محقق لیفٹیننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) کمال متین الدین ( ہلالِ امتیاز ملٹری ، ستارہِ بسالت) ہیں۔ انگریزی میں تحریر شدہ کتب کے مقامی سطح پر قارئین محدود ہوتے ہیں ۔ ایسی کتب کی عمومی Readership بین الاقوامی سطح پر زیادہ ہوتی ہے لہٰذا مقامی سطح پر قارئین کی ایک بڑی تعداد ایسی تاریخی اور دستاویزی کتب کے مطالعہ سے نہ صرف محروم رہ جاتی ہے بلکہ تفہیم کا مسئلہ بھی درپیش ہوتا ہے۔ ایسے میں کسی ایسی کتاب کا اگر شاندار اردو ترجمہ دستیاب ہوجائے تو تاریخی متون کی تفہیم عوامی سطح پر بہت آسان ہوجاتی ہے ۔ مذکورہ بالا کتاب کا اردو ترجمہ’’ نسلوں نے سزا پائی ‘‘ کے نام سے عکس پبلی کیشنز لاہور نے شائع کیا ہے ۔ اردو کے قالب میں اسے پروفیسر ڈاکٹر محمد شیراز دستی نے ڈھالاہے جو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہِ انگریزی میں استاد ہیں اور انگریزی اوراردو دونوں زبانوں میں یکساں مہارت اور مشاقی رکھتے ہیں ۔ اس کتاب کا ترجمہ یقیناًایک مشکل امر تھا جیسا کہ وہ خود لکھتے ہیں کہ ’’ ترجمہ ، تقلید اور تخلیق کا وہ عمل ہے جس میں ترازو ایک کی بجائے دو ہاتھوں میں ہوتا ہے: ایک مصنف کا اور دوسرا مترجم کا ۔ یہ عمل اس وقت بہت ہی مشکل ہوجاتا ہے اگر دو میں سے ایک ہاتھ کسی فوجی جرنیل کا ہو اور دوسرا مترجم کا ۔ترجمہ پیغام کو ایک پیرہن سے دوسرے پیرہن میں سمو کر قاری تک پہنچانے کاعمل ہے۔ ترسیل برقرار رکھنا بہت ہی مشکل ہوجاتا جب ایک پیرہن انگریزی اور دوسرا اردو کا ہو۔ تاہم مصنف اور مترجم کی پیشہ ورانہ ہم آہنگی ہو ، زبانوں میں ربط ہو اور لفظ ؛ لفظ کی جگہ معانی کی بکل مار کر بیٹھ جانے کو تیار ہو تو یہ عمل سہل ہوجاتا ہے‘‘۔ڈاکٹر شیراز کے اس اظہاریے سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک ایسے نازک موضوع پر جس پرایک تفہیمِ غلط آپ کو مرکز سے حاشیے پر دھکیل سکتی ہے ، ایک رواں ، سہل اور مرکزی پوزیشن کو بعینہِ متن کرنے والا ترجمہ پیش کرنا یقیناًایک مشکل مگر لائقِ تحسین عمل ہے۔ترجمہ کرنا ایک نہایت مشکل امر ہے اور اگر آپ ایک تخلیق کار بھی ہوں تو ترجمہ کرنا دہری اذیت میں مبتلا ہونے کا نام ہے ، گویا آپ کے ہاتھ باندھ دیے جائیں اور آپ سے کہا جائے کہ آپ ان بندھے ہوئے ہاتھوں سے عبارت تحریر کریں ۔اس کتاب کا مطالعہ معاصرسیاسی منظر نامے میں بہت ہی ضروری ہوگیا جب آپ کے چاروں طرف میڈیا ہاؤسز معاشرتی اکائیوں کو لخت لخت کرنے پر جتے ہوئے ہیں ۔ اس کتاب پر بہت کچھ تحریر کیا جاسکتا ہے اور اس کے محاسن بیان کیے جاسکتے ہیں لیکن قارئین اس کو خرید کر پڑھیں تو جس خود آگاہی کا حظ میں نے اٹھایا ہے وہ بھی اٹھاپائیں گے۔ اس کتاب کی قیمت ہے ۱۰۰۰ روپے۔


ای پیپر