خدمتِ خلق کے مشن پر رواں دواں ۔۔۔ الشفاء ٹرسٹ!
02 اپریل 2018 2018-04-02

ہفتے کو الشفاء ٹرسٹ جس کے زیر اہتمام راولپنڈی میں جہلم روڈ پر آنکھوں کی بیماریوں کے مشہور ہسپتال الشفاء ٹرسٹ آئی ہاسپٹل کے علاوہ سکھر، کوہاٹ اور مظفر آباد میں بھی الشفاء ٹرسٹ آئی ہاسپٹلز قائم ہیں کے 27 ویں سالانہ دن کی تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیر اعظم پاکستان جناب شاہد خاقان عباسی نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ ایک دن قبل معروف کالم نگار ، سینئیر صحافی اور الشفاء ٹرسٹ کے اعزازی میڈیا کوآرڈینیٹر جناب بیگ راج نے مجھے اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی تو میں نے اس میں شرکت کی کچھ کچھ ہامی بھر لی۔ میرا خیال تھا کہ بیگ راج صاحب کچھ کنفرمیشن کے بعد دوبارہ رابطہ کریں گے تو میں شرکت کا پکا فیصلہ کر لوں گا لیکن ہفتہ صبح 9 بجے بیگ راج صاحب کا فون آیا تو نجی اور منصبی مصروفیات کا ایک پہاڑ میرے سامنے کھڑا تھا۔ مجبوراً مجھے بیگ راج صاحب سے معذر ت کرنی پڑی۔ شام کو وزیر اعظم جناب شاہد خاقان عباسی کی الشفاء ٹرسٹ کے 27 ویں سالانہ دن کی تقریب میں شرکت اور وہاں اُن کے سادہ لیکن پُر کشش اور خوبصورت خطاب کی جھلکیاں اور اُن کی طرف سے الشفاء ٹرسٹ کیلئے 20 کروڑ روپے کے عطیے کے اعلان کی خبر دیکھی تو افسوس ہوا کہ میں اس تقریب میں کیوں موجود نہیں تھا۔ اسے تعلی نہ سمجھا جائے کہ الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال جس طرح خدمت خلق کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہے اور الشفاء ٹرسٹ کے بانی صدر لیفٹیننٹ جنرل جہانداد مرحوم نے اس ٹرسٹ کے تحت اعلیٰ تعلیم یافتہ، تربیت یافتہ اور آنکھوں کی بیماریوں اور اندھے پن کے علاج کے ماہرین اور جدید ترین مشینوں اور دوسری سہولیات سے مزین ایک اعلیٰ معیار کا آئی ہسپتال قائم کرنے کے لیے بے لوث خدمات سرانجام دیں اور الشفاء ٹرسٹ کے موجودہ صدر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ حامد جاوید اُن کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے شاندار اور بے لوث خدمات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اس کی میرے دل میں بڑی ہی قدرو منزلت ہے۔ میرے جیسے کم مائعہ شخص کا کسی تقریب میں جانا یا نہ جانا کوئی معنی نہیں رکھتا لیکن دل سے کسی بات کی قدر کرنا بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ الشفاء ٹرسٹ اور اس کے ذمہ داروں اور کار پردازوں اور اس کے زیر اہتمام چلنے والے اداروں (آئی ہاسپٹلز اور دیگر متعلقہ اداروں) کی کارکردگی اور خدمتِ خلق کے مشن کو آگے بڑھانے کے حوالے سے قابلِ قدر خدمات کی میرے دل میں بڑی ہی قدرومنزلت ہے۔
الشفاء ٹرسٹ کے 27ویں سالانہ دن کی تقریب میں شریک تو نہ ہو سکا لیکن میں اس ادارے کے قیام کے پس منظر ، پیش منظر اور اس کی خدمات کے دائرہ کار اور اس کی کارکردگی کے حوالے سے کچھ باتوں کا ضرور تذکرہ کرنا چاہوں گا۔ اس ضمن میں 12 جون 2017 کو’’نئی بات‘‘ میں چھپنے والے اپنے کالم کے چند اقتباسات کا حوالہ
دوں گا۔ میں نے اپنے کالم کا آغاز اس طرح کیا تھا ’’راولپنڈی میں جہلم روڈ (جی ٹی روڈ ) پر ایوب پارک کے آخری سرے سے کچھ آگے بائیں جانب درختوں میں گھری کئی بلاکوں پر مشتمل سُرخ رنگ کی ایک عمارت جھلکتی نظر آتی ہے ۔ اس عمارت کو دیکھ کرمجھے ہمیشہ حکیم الامت حضرت علامہ اقبال ؒ کی شہرہ آفاق نظم ’’مسجدِ قرطبہ‘‘ یاد آتی ہے جس کے دوسرے بند میں حضرت علامہ فرماتے ہیں ؂ہے مگر اس نقش میں رنگ ثباتِ دوام ۔۔۔جس کو کیا ہو کسی مردِ خدا نے تمام
یقیناًیہ عمارت میرے نزدیک رنگِ ثباتِ دوام کی حامل ہے کہ اس کی منصوبہ بندی ، اس کی تعمیر و تکمیل اور انتظام و انصرام میں ایک نہیں کئی مردانِ خدا کی کاوشیں، کوششیں، ریاضتیں اور خونِ جگر شامل ہے۔ یہ عمارت 250 بستروں پر مشتمل الشفاء آئی ٹرسٹ ہسپتال کی ہے جو الشفاء ٹرسٹ کے زیر اہتمام پچھلے چھبیس سالوں (اب ستائیس سالوں) سے اندھے پن کی روک تھام اور بے نور آنکھوں میں نور لوٹانے کی بھرپور اور کامیاب کوشش کر رہا ہے۔ الشفاء ٹرسٹ کے زیر اہتمام اب تک الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال راولپنڈی اور الشفاء ٹرسٹ آئی ہاسپٹلز سکھر، کوہاٹ اور مظفر آباد میں امراضِ چشم میں مبتلا 70 لاکھ سے زائد مریضوں کا کامیاب علاج کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے 70 فیصد مریض ایسے ہیں جن کو مفت علاج معالجے کی سہولت حاصل رہی ہے۔
الشفاء ٹرسٹ کے قیام کو دیوانے کا خواب یا جنون قرار دیا جائے تو کچھ ایسا غلط نہیں ہو گا۔ 1984 ء میں اُس وقت کے صدرِ مملکت جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے بااعتماد اور قریبی ساتھی اور سندھ کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل جہانداد مرحوم نے اس ٹرسٹ کے قیام کا خیال جنرل ضیاء الحق کے سامنے پیش کیا۔ جنرل ضیاء الحق جنہیں معذور افراد کے علاج معالجے سے خصوصی دلچسپی تھی انہوں نے اس خیال کی حوصلہ افزائی کی۔ 23 مارچ 1985ء کو الشفاء ٹرسٹ کا باقاعدہ قیام عمل میں آیا اس کا پہلا اجلاس 22 جولائی 1985 ء کو صدرِ مملکت جنرل ضیاء الحق کی صدارت میں منعقد ہوا۔ 13 اگست 1986ء کو راولپنڈی میں الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال کی تعمیر کا کام شروع ہو اجس کی تکمیل پر تقریباً 5 سال لگے اور 28 اپریل 1991ء کو اُس وقت کے صدرِ مملکت غلام اسحق خان نے اس کا افتتاح کیا ۔ اُس وقت سے اب تک اس ہسپتال میں کئی نئے شعبے قائم کیے جا چکے ہیں جن میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف آفتھمالوجی (Pakistan Institute of Opthalmology )شامل ہے جس کے تحت کالج آف ایٹو میٹری ، سکول آف پبلک ہیلتھ نرسنگ ٹریننگ سنٹر وغیرہ قائم ہیں جن میں متعلقہ افراد کو تربیت کے مواقعے فراہم کیے جاتے ہیں۔ اب تک چار سو کے لگ بھگ ڈاکٹرز اور اس سے کئی گنادوسرے شعبوں سے متعلقہ افراد ضروری تربیت حاصل کر چکے ہیں ۔ الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال راولپنڈی کی او پی ڈی میں روزانہ آنے والے مریضوں کی تعداد اوسطاً ایک ہزار کے لگ بھگ بنتی ہے جن میں سے تقریباً آدھے مریض ایسے ہوتے ہیں جن کا ضروری چیک اَپ اور علاج معالجہ مفت ( فری) ہوتا ہے کچھ مریضوں کو آدھی یا اُس سے بھی کم فیس ادا کرنی پڑتی ہے ۔ ایک چوتھائی یا اُس کے لگ بھگ مریض ایسے ہوتے ہیں جنہیں پورے اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ بچوں اور بڑی عمر کے مریضوں کے چیک اَپ کے لیے الگ کاؤنٹرز اور کمرے مخصوص کیے گئے ہیں ۔ الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس نے کم بینائی کے مالک یا بینائی سے محروم افراد کی بحالی کے لیے لائٹ ہاؤس (Light House ) کے نام سے خصوصی شعبہ قائم کر رکھا ہے ۔ یہ شعبہ کم بینائی یا بینائی سے محروم افراد کے لیے اُمید کی کرن ہے اور 1993ء سے پاکستان بھر سے اس طرح کے ہر عمر کے افراد کو زندگی کے دھارے میں شامل ہونے کے قابل بنانے کے لیے خدمات مہیا کر رہا ہے۔ الشفاء ٹرسٹ کے زیر اہتمام Community Out Reach Programme کے تحت نہ صرف شہری علاقوں میں بلکہ دور دراز اور دُشوار گزار علاقوں میں پورا سال فری آئی کیمپ لگائے جاتے ہیں اب ان کیمپوں میں سرجیکل ٹیم کا اضافہ کیا جار ہا ہے(کیا گیا ہے) تاکہ موقع پر ہی موتیا کے آپریشنز کیے جا سکیں۔ الشفاء آئی ٹرسٹ کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ اس کے آئی ٹرانسپلانٹ کے شعبے میں ہر سال 75 سے زائد مریضوں کا Cornea کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کیا جاتا ہے۔ اس طرح الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال کا یہ شعبہ ملک میں آئی ٹرانسپلانٹ کا سب سے بڑا شعبہ گردانا جاتا ہے۔
کالم میں کچھ اور تفاصیل بھی دی گئی تھیں اُن سے صرفِ نظر کرتے ہوئے الشفاء ٹرسٹ کے جاری منصوبے چلڈرن آئی ہاسپٹل جس کا 60 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور جو اگست 2019ء میں کام شروع کر دے گا کا تذکرہ کرتے ہیں۔ یہ ہسپتال اپنے جدید طریقہِ علاج اور گنجائش کے اعتبار سے پورے خطے میں بچوں کا سب سے بڑا ہسپتال ہو گا ۔ جس میں روزانہ پانچ سو بچوں کے لیے او پی ڈی اور پچاس آپریشنز کی سہولت موجود ہو گی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ کرنا بے جا نہ ہو گا کہ الشفاء ٹرسٹ کو اپنے پہلے سے قائم منصوبوں (ہسپتالوں) کے انتظام و انصرام اور نئے منصوبوں کی تعمیر و تکمیل کے لیے یقیناًوسائل کی ضرورت ہے اور جیسا وزیر اعظم پاکستان جناب شاہد خاقان عباسی نے اگلے دن اپنے خطاب میں کہا ہے کہ الشفاء ٹرسٹ آئی ہاسپٹل پورے ایشیاپسیفک ریجن میں منفرد ہسپتال ہے جس کا مقصد آنکھوں کا بروقت علاج کرنا بالخصوص بچوں کو آنکھوں کی بیماریوں سے بچانا ہے لہٰذا مخیر حضرات کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس کے لیے عطیات عطا کریں۔ الشفاء ٹرسٹ کے لیے عطیات اکاؤنٹ ٹائٹل الشفاء ٹرسٹ Al-Shifa Trust کے تحت عسکری بینک ، بینک الفلاح، نیشنل بینک، الائیڈ بینک، یونائیٹڈ بینک، حبیب بینک اور مسلم کمرشل بینک کی کسی بھی برانچ میں جمع کرائے جا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ الشفاء ٹرسٹ کا سالانہ بجٹ سا ت سو ملین روپے سے زائد ہے اور مخیر خواتین و حضرات کے تعاون کے بغیر اتنی رقم کا حصول ممکن نہیں۔


ای پیپر