’’ جھوٹے پر خدا کی لعنت ۔۔۔؟‘‘
02 اپریل 2018 2018-04-02

ہمارے نہایت کنجوس دوست ’’چوہدری ظفر اللہ‘‘ نے دو موٹر سائیکل رکھے ہوئے تھے دونوں کا رنگ ایک، ماڈل بھی ایک؟ آجکل سنا ہے جہاں خواتین لباس کے ساتھ ملتے جلتے زیورات جوتیاں اور دوسرے لوازمات پر توجہ رکھتی ہیں وہیں گرمیوں کے شروع میں ہی یہ بات میرے علم میں آئی تو میں سٹپٹا گیا کہ اب تو گھروں میں فریج بھی مرضی کے رنگ کی موجود ہو گی ہم نے اور تو کسی کام میں ترقی شاید نہیں کی لیکن بد زبانی اور بد اخلاقی میں ہم نے کافی ترقی کر ڈالی ۔۔۔ اس وقت پاکستان میں سب سے بڑی صنعت کی طرف حکومت وقت کی توجہ نہیں جا رہی اور شاید آپ کے بھی علم میں نہ ہو اس وقت سب سے بڑی صنعت ’’سکیورٹی گارڈز‘‘ کی Production ہے۔ ہر آدمی کو سکول/ کالج کو، گلی محلے کو، عورت مرد کو یہاں تک کہ خواجہ سراء کو بھی ’’سکیورٹی‘‘ کی سخت ضرورت ہے، وجوہات میں ان شاء اللہ اگلے کالم میں بیان کروں گا ۔۔۔ کیونکہ اس وقت میرے پاس ایسے مہمان بیٹھے ہیں جن کی موجودگی میں میں نہ تو محکمہ ٹیلی فون کے خلاف کوئی بات کر سکتا ہوں اور نہ ہی میں پاکستان کی اس اہم ترین ’’صنعت‘‘ کے حوالے سے کوئی گفتگو کرنے کی پوزیشن میں ہوں ۔۔۔
رہی بات چوہدری ظفر اللہ کی دو موٹر سائیکلوں کی ۔۔۔
ایک بندہ ۔۔۔ موٹر سائیکل دو؟ ہماری بھابھی صاحبہ تو موٹر سائیکل چلانا نہیں جانتی ۔۔۔ پھر چوہدری تم نے یہ دو عدد موٹر سائیکل کیوں رکھے ہوئے ہیں؟
’’ایک سردیوں والا، ایک گرمیوں والا‘‘۔ چوہدری ظفر اللہ نے بن سوچے جواب دیا۔ میں نے اس منطق پر کافی غور کیا مگر کوئی نتیجہ نہ نکل سکا اور میں چپ کر گیا۔؟ یہ تو وہی بات ہو گئی ۔۔۔ کہ جھوٹ سردیوں میں بولا جائے یا جھوٹ گرمیوں میں بولا جائے۔ جھوٹ صبح بولا جائے یا جھوٹ شام کو بولا جائے ’’جھوٹ جھوٹ ہوتا ہے۔ اور فساد ۔۔۔ فتنہ اور نفرت پیدا کرتا ہے‘‘۔
’’جھوٹ‘‘ چھوٹا بولے ۔۔۔ ’’جھوٹ‘‘ بڑا بولے ۔۔۔ جھوٹ تو جھوٹ ہوتا ہے۔ جھوٹ جلسے میں بولا جائے ۔۔۔ جھوٹ دھرنے میں بولا جائے ۔۔۔ بولتے ہوئے مشکل ضرور ہوتی ہے۔
استاد کمر کمانی نے ایک ساتھ کئی قسم کی وضاحتیں کر ڈالیں۔
آجکل جو پراڈکٹ سب سے زیادہ بک رہی ہے وہ یہی ہے یعنی ’’جھوٹ‘‘ ۔۔۔ یہ پراڈکٹ اتنی ’’عام‘‘ ہے کہ اس کا ذائقہ ’’آم‘‘ سے بھی زیادہ مزیدار ہے۔ پہلے لوگ جھوٹ بولنے سے پہلے سوچتے تھے ۔۔۔ کہ کہیں دوبارہ بولنا پڑ گیا تو لفظ ادھر سے اُدھر نہ ہو جائیں۔ اب یہ کام ’’فی البدیہہ‘‘ ہوتا ہے اور لگا تار ہوتا ہے اور ۔۔۔ اور بے شمار ہوتا ہے۔
میں نے بچے کے جوتے خریدے ۔۔۔ دکاندار نے تیرہ سو روپے لے لیے۔ گھر آ کے پتا چلا کہ ایک پاؤں کا جوتا سائز میں سات نمبر اور دوسرے پاؤں کا سائز میں گیارہ نمبر آ گیا ہے۔ میں تبدیل کروانے گیا تو رسید گھر بھول گیا۔ پتا چلا کوئی اور گاہک بھی ایسے ہی سائز کے دو جوتے لے گیا ہے؟ نہ ہمارے کام آئے نہ اس کے کام ۔۔۔ وہ بھی ’’خوش‘‘ ۔۔۔ ہم بھی ’’خوش‘‘ اور دکاندار بھی ’’خوش‘‘۔
بیٹے کے اصرار پر میں بازار گیا اور ڈرتے ڈرتے دکاندار کو اُس کی غلطی کا احساس دلاتے ہوئے کہا۔
بھائی اب یہ واپس کر لو ۔۔۔
’’ہمارے کس کام کے؟ ویسے آپ کو چاہیے تھا آنکھیں کھول کے دیکھتے؟‘‘ اُس نے غصے سے کہا۔
اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے۔
میری درخواست پر اُس نے بُرا منایا ۔۔۔ اور جوتے پرے پھینکے اور چھ سو روپے واپس کر دئیے ۔۔۔؟
میں نے سو سو کے چھ نوٹ غور سے دیکھے اور پریشان ہو گیا ۔۔۔؟
’’جی یہ کیا ہے؟‘‘ میرے سوال پر پھر غصہ کر گیا۔۔۔
’’میرے پاس آپ جیسے گاہکوں کے لئے جوتے نہیں ہیں- ایسے گاہک ہمیں نہیں چاہئیں‘‘ وہ بولا۔۔۔
’’تو جناب پیسے تو پورے دیں۔؟‘‘ میں نے چھ سو روپے واپس کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
’’آپ کل اس جوڑے کے چھ سو روپے ہی دے کر گئے ہوں گے‘‘۔ وہ بولا (کافی سوچتے ہوئے سر کھجاتے ہوئے)۔
’’اوہ ۔۔۔ میاں ۔۔۔ تم دکاندار ہو یا چور ۔۔۔‘‘ میں نے کہا تو وہ لڑنے پر آ گیا۔ جھگڑنے لگا ۔۔۔
’’کل تو تم نے اس جوڑے کے تیرہ سو روپے لیے ہیں۔؟‘‘ میں نے وضاحت کی اور جیب میں ہاتھ ڈالا ۔۔۔ یہ لو رسید ۔۔۔ حالانکہ رسید تو میں گھر بھول گیا تھا۔
وہ کھسیانہ ہو گیا ۔۔۔ شرمندگی محسوس کرنے لگا ۔۔۔ ’’کتنے پیسے دوں؟‘‘ (اُس نے گھبراہٹ میں پوچھا اور ساتھ نصیحت بھی کی کہ’’تم لنڈے بازار جاؤ بیٹے کو ۔۔۔ جوتے لنڈے سے لے کر دیا کرو‘‘۔)
’’تین ہزار‘‘ میں نے جواب دیا۔(آپ امید ہے میری اس چالاکی پر غور نہیں کریں گے؟)۔
اُس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ۔۔۔
اُس نے تین ہزار تھمائے ۔۔۔ اور منہ پرے کر لیا۔
اور میں نے تین ہزار روپے تھامے، چپکے سے نکل آیا ۔۔۔ مجال ہے جو میں نے پیچھے مڑ کے دیکھا ہو؟
ہے ناں مزے کی بات۔۔۔؟
ویسے میں اب تک اس مخمصے کا شکار ہوں کہ جھوٹا ’’وہ‘‘ تھا یا ’’میں‘‘ ۔۔۔
آپ کا کیا خیال ہے ویسے ۔۔۔
اس نازک مسئلے پر ۔۔۔؟
سمجھ آئے تو مجھے بھی ضرور بتائیے گا؟ شکریہ!!!
کیونکہ ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ ’’ جھوٹے پر خدا کی لعنت ‘‘۔


ای پیپر