انہیں آپ بچا لیں
02 اپریل 2018 2018-04-02

ڈارون (Darwin) کے ارتقائی نظریہ کے مطابق اس کائنات میں صرف وہی نسلیں پنپتی اور پھلتی پھولتی ہیں جن کا ماحول ان کے پھلنے پھولنے کے لیے ساز گار ہوتا ہے۔ جن نسلوں کے لیے ان کا ماحول سازگار نہیں رہتا وہ آہستہ آہستہ ختم اور معدوم ہو جاتی ہیں۔بطور ڈی جی وائلڈ لائف کام کرتے ہوئے میرے مشاہدہ میں آیا کہ جہاں کہیں بھی جانوروں اور پرندوں کی کچھ نسلوں کے لیے حالات سازگار نہیں رہتے تو انہیں معدوم ہونے کے خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ان نسلوں سے پیار کرنے والے ان کے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے جنگی بنیادوں پر ان کے حالات اور ماحول کو سازگار بنانے کے لیے جت جاتے ہیں، اور یہ نسلیں پھر سے پھلنے پھولنے لگ جاتی ہیں۔ ان کی معدومی کا خطرہ ٹل جاتا ہے۔ یہ خیال میرے ذہن میں اپنے ملک کے حالات دیکھ کر آیا ۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ اس ملک میں دیانت داری اور میرٹ کی بنیادوں پر کام کرنے والے افراد کے لیے زندگی تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ظاہر ہے نا موافق ماحول کی وجہ سے ایسے لوگ گم ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر آپ اس دنیا کا بغور جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کئی قوموں کا چلن ہی دیانتداری پر مبنی ہے۔ ان قوموں کی اکثریت نے
دیانتداری ہی کو اپنا شعار بنایا ہو ا ہے۔ ان قوموں میں بددیانت لوگ خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ادھر اپنے ملک کی حالت آپ کے سامنے ہے۔ یہاں کسی دیانتدار کا ذکر ایک unique phenomenon کے طور پر کیا جاتاہے۔مثلاً اگر کسی سیاسی پارٹی میں کوئی سیاستدان دیانتدار ہو تو باقاعدہ طور پر اس کا ذکر کیا جاتا ہے، کہ ہاں جی اس پارٹی میں چوہدری نثار ایک دیانتدار سیاستدان ہے۔ اگر سرکاری افسران کا ذکر ہو تو انگلیوں پر دیانتدار افسر گنے جاسکتے ہیں ۔ یوں بھی کہا جاتا ہے کہ فلاں افسر چاہے جتنی بھی محکمانہ قابلیت رکھتا ہے ، لیکن ہے وہ دیانت دار۔یعنی ایک ناپید خوبی رکھتا ہے۔اگر آپ ملک کی حالیہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ملک کے موجودہ ابتر حالات کا سب سے بڑا ذمہ دار پرویز مشرف ہے۔ آپ کبھی غور سے اس کی شخصیت کا جائزہ لیں تو وہ آپ کو ایک کمینہ سا، مطلبی سا چھوٹا انسان نظر آئے گا۔ آپ کو ضرور یاد ہوگا جب وہ ٹی وی پر بیٹھ کر کہا کرتا تھا کہ بینظیر اور نواز شریف نے اس ملک کے عوام کو لوٹا ہے، انہیں کبھی اس ملک میں واپس نہیں آنے دیا جائے گا۔ پھر اسی نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے یعنی اپنی حکمرانی کو طول دینے کی خاطر پیپلز پارٹی کے ساتھ این آر او پر دستخط کیے اور اس ملک کے عوام کو پیپلز پارٹی کے حوالے کردیا۔لیکن اللہ نے اس کی عوام سے اس غداری کی خوب پکڑ کی۔ اس ملک کی تاریخ میں جتنا وہ ذلیل ہو رہا ہے شاید ہی کوئی ہوا ہو۔ جن کے متعلق وہ کہا کرتا تھا کہ انہیں اس ملک میں د اخل نہیں ہونے دوں گا وہی لوگ اسے اب ہر روز چیلنج کرتے ہیں کہ ’ کمانڈو ‘ اب اس ملک میں قدم رکھ کر دکھاؤ ۔ اور اب وہ بھیگی بلی کی طرح دبئی میں چھپ کر بیٹھا ہے۔اس کے دئیے گئے تحفہ یعنی پیپلز پارٹی نے محترم آصف زرداری کی قیادت میں عنان حکومت سنبھالی اور ابھی تک سندھ میں انہی کی حکمرانی قائم ہے۔اس کے صوبہ میں کیا کوئی دیانتدار اور میرٹ پر کام کرنے والا آفیسر کام کر سکتا ہے۔پوری قوم مع سپریم کورٹ اے ڈی خواجہ آئی جی کا کیس سب کے سامنے ہے۔جیسے وہ نوکری کر رہا ہے سب کو معلوم ہے۔بیچارہ خود عدالتوں سے اپنی ٹرانسفر کے لیے کہتا پھرتا ہے۔ کیا وہ ایک بد دیانت آفیسر ہے۔ لیکن لکھ لیں وہ صوبہ سندھ میں نوکری نہیں کر سکتا ، اسے جانا ہی ہو گا۔ سندھ میں اگر کوئی ہمیشہ نوکری کرے گا تو وہ راؤ انوار ہے۔ جس کی مفروری کے دوران زرداری صاحب نے کہا تھا کہ وہ ایک دلیر آفیسر ہے۔ یہ بھی لکھ لیں ،راؤ انوار سندھ پہنچ گیا ہے۔ آپ دیکھیں گے وہ تمام بیرئر کراس کر کے پھر ایس ایس پی ملیر پوسٹ ہو جائے گا۔سپریم کورٹ اور تمام قبائلی انصاف دیکھتے رہ جائیں گے۔وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے۔ انھوں نے دیانتدار اور میرٹ پر کام کرنے والے افسران کے ساتھ جو کیا وہ پوری قوم کے سامنے ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ تحریک انصاف کے دھرنے کے دوران دھرنے کے شرکاء پر بلاجواز تشدد کرنے کے احکامات نہ ماننے کی پاداش میں جو آفتاب چیمہ آئی جی اسلام آباد اور محمد علی نیکوکارہ ایس ایس پی اسلام آباد کے ساتھ ہوا۔ اللہ کی پناہ۔آفتاب چیمہ اکیسویں گریڈکی پروموشن کے کنارے پر بیٹھا انتظار کر رہا تھا۔ اسے معطل کرکے انکوائریوں میں پھنسا دیا گیا۔ معلوم نہیں اسے پروموشن ملی یا نہیں،یا ویسے ہی وہ ریٹائر ہوگیا ۔محمد علی نیکوکارہ کو تو نوکری سے ہی فارغ کر دیا گیا تھا۔بعد میں میاں نواز شریف نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، اسے سبق سکھانے کے بعد ، نوکری پر بحال کر دیا تھا۔آج کے دور کی سپریم کورٹ نے نوازشریف کے خلاف فیصلے دے کر حکمران خاندان کو ناراض کر دیا ہے۔ہمارے جیسے ملکوں میں حکمرانوں کی ناراضگی مول لینا کوئی سستا کام نہیں ہوتا ۔ اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ چیف جسٹس صاحب کی کارکردگی کسی طور بھی مسلم لیگ(ن) اور میاں نوازشریف کو اچھی نہیں لگ رہی۔ اب تو میاں نوازشریف نے واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ جو چیف جسٹس کر رہے ہیں وہ نہ کریں ۔ لیکن چیف جسٹس صاحب کہتے ہیں کہ عوام کو حقوق دلانا سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے اور وہ اس ذمہ داری کو نبھائیں گے۔ دوسری طرف محترم جسٹس ( ریٹائرڈ) جاوید اقبال چیئرمین نیب نے کرپشن کے خلاف بلا تفریق اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔جو اس ملک میں کبھی نہیں ہوا ، وہ ہو رہا ہے ، یعنی نیب نے پنجاب حکومت کے کئی منصوبوں اور محکموں کی چھان پھٹک شروع کر دی ہے۔ احسن اقبال وزیر داخلہ جسے pre poll rigging کا نام دے رہے ہیں۔نیب کو نہ جانے کیا سوجھی کہ شریف خاندان اور زرداری صاحب کے حلقہ ارادت کے کیسز کھولنے شروع کر دیئے۔ ہر محکمہ کرپشن سے بھرا پڑا ہے۔ واپڈا کے ، محکمہ بلڈنگ و روڈز کے انجینئرز ، محکمہ مال اور انکم ٹیکس و کسٹم کے افسران کو پکڑ لیتے ۔ کم از کم جن کا تعلق حکمران خاندانوں سے نہ ہوتا ۔اس طرح نیب کا محکمہ تو چلتا رہتا ۔ پہلے کبھی مسلم لیگ (ن) یا شریف خاندان نے اسے ختم کرنے کا سوچا ۔ اب تو میاں نوازشریف کہہ اٹھے ہیں کہ نیب کو پہلے دن سے ختم کر دینا چاہیے تھا۔ظاہر ہے اس ملک کا دوسرا حکمران خاندان یعنی پیپلز پارٹی بھی نیب سے سخت ناراض ہے۔ لہذا نیب کے دن اب گنے جا چکے ہیں۔ادھر واجد ضیاء ہیں نہ جانے کس ایمانی قوت کے بل پر گواہی دیئے جا رہے ہیں۔
جہاندیدہ لوگ کہتے ہیں حکمرانوں کے خلاف گواہیوں کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔سچی بات ہے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے حکمرانوں کو ان کی حکمرانی میں کسی قسم کی رخنہ اندازی بالکل پسند نہیں ۔ وہ جسے چاہیں لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ والی نوکری دیں ۔جس کو اگر مرضی آئے تو بیٹھے بیٹھے فارغ کر دیں۔ جسے چاہیں اربوں کے کنٹریکٹ دے دیں۔لیکن یہ سپریم کورٹ کون ہوتی ہے ان باتوں کے متعلق پوچھنے والی۔بیس کروڑ عوام کے لاکھوں کیسز پڑے ہیں ان سے نبٹیں۔لیکن سچ پوچھیں ڈر لگتا ہے یہ محترم جسٹس ثاقب نثار ، جسٹس جاوید اقبال ، آفتاب چیمہ ، واجد ضیاء، محمد علی نیکوکارہ جیسی نسلوں کا کیا بنے گا ۔ کیا یہ کم ہوتے ہوتے ناپید تو نہیں ہو جائیں گی۔ یہ بہت نامساعد حالات میں سے گزر رہے ہیں اور گزریں گے ۔ اسی نسل کا ایک اور پرندہ سہیل ٹیپو ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ ،پنکھے سے لٹک گیا۔ کیا اس خطے کے لوگوں کو ان معدوم ہوتی نسلوں کا احساس ہے۔ انہیں فوری طور پر ان کا خیال رکھنے والوں کی ضرورت ہے، ورنہ یہ معدوم ہوتی نسلیں بالکل ختم ہو جائیں گی۔اور پھر معدوم شدہ نسلیں لوٹ کر نہیں آتیں ۔چاہے کتنا بلائیں اور کتنی آوازیں دیں۔


ای پیپر