بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیرمیں خون کی ہولی کھیلی
02 اپریل 2018

بھارتی آرمی چیف کے دورہ کے بعد بھارتی فورسز نے علاقے میں تباہی مچا دی۔ شوپیاں اور اننت ناگ میں بھارت مخالف مظاہروں کے دوران قابض فوج نے نہتے شہریوں پر فائرنگ کر دی جس سے 17 کشمیری شہید اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔ پہلا واقعہ شوپیاں کے درگد گاؤں میں پیش آیا۔ جہاں فورسز کے ساتھ جھڑپ میں 12 نوجوان شہید ہو گئے جبکہ بھارتی فورسزکے 2 اہلکار ہلاک ہوئے۔اننت ناگ کے علاقے دیالگام میں ایک جنگجو کو زندہ پکڑا گیا جبکہ ایک نوجوان شہید ہو گیا۔
بھارتی پولیس نے دعویٰ کیا کہ کشمیری نوجوان بھارتی فوج سے جھڑپ کے دوران مارے گئے اور ان کا تعلق عسکریت پسند تنظیم حزب المجاہدین سے تھا جبکہ شہید نوجوانوں میں اعلی مجاہد کمانڈرز بھی شامل ہیں۔ وادی میں پولیس چیف شیش پال وید نے واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا مارے جانے والوں میں دو مجاہد کمانڈر بھی شامل ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ کشمیر کے جنوبی علاقے میں سکیورٹی اہلکاروں کو اس وقت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جب وہ مبینہ طور پر یہاں چھپے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیلئے آئے تھے۔ بھارتی پولیس اور فوج نہتے مظاہرین پر ٹوٹ پڑی اور پیلٹ گنز سے فائرنگ کی ۔ مظاہرین نے آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے لگائے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں درندگی کی انتہا اور انسانی حقوق کی شدید پامالی کی 29سال کی رپورٹ شائع کردی جس میں 1989ء تا 28فروری 2018ء تک بھارتی حکومت اور اس کی خفیہ ایجنسی نے مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز قتل عام کیا جن میں 94ہزار 9سو 22افراد کو مختلف جعلی مقابلوں میں قتل کیا گیا جبکہ مختلف علاقوں میں 7ہزار سے زائد گمنام قبروں کا بھی انکشاف ہوا۔ حراست کے دوران مختلف عقوبت خانوں میں اذیت دے کر 7ہزار 1سو افراد کو قتل کیا۔ رپورٹ کے مطابق سول بے گناہ افراد کو گرفتار کرکے مختلف جیلو ں میں ڈالا گیا ہے جن کی تعداد ایک لاکھ 43ہزار 364 افراد ہے جو اس وقت مختلف جیلوں میں سزا کاٹ رہے ہیں جبکہ 22ہزار 866خواتین بیوہ ہوئیں جبکہ 1لاکھ 7ہزار 697بچے یتیم ہوئے۔ 11ہزار 43خواتین کا گینگ ریپ ہوا۔ 1لاکھ 86ہزار 64مقامات کو مکمل طور پر تباہ کرکے اربوں روپے کا نقصان کیا جبکہ فروری 2018ء میں 15بے گناہ کشمیریوں کو قتل کیا گیا، 1حراست میں جبکہ 57افراد زخمی ہوئے۔ 179سول افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 16مقامات کو مکمل طور پر تباہ کرکے اپنی درندگی کا ثبوت پیش کیا۔
ادھر اسرائیلی فوج کے سابق اعلیٰ افسر نے ڈی جی پولیس ایس پی وید کی جھڑپ کے حوالے سے ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے بھارتی فورسز کو شاباش دی۔ اسرائیلی فوج کے سابق افسر کرنل ایونر میولر نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ان اسلامی دہشتگردوں کے خاندانوں کو بھی بے گھر کیا جانا چاہیے۔ اور ان کے تمام حامیوں کو گولیوں سے بھون کر رکھنا چاہئے۔ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال اور معصوم کشمیری نوجوانوں کو شہید کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری اس ظلم کا نوٹس لے۔ مقبوضہ کشمیر میں پر امن احتجاج کرنے والوں بطور خاص نوجوانوں اور بچوں کے خلاف وحشیانہ کریک ڈاؤن جاری ہے جس میں خاص طور پر چھرہ بندوقیں استعمال کی جارہی ہیں۔ انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی ہے تاکہ معصوم کشمیریوں کو محکوم بنایا جاسکے اور مزید دبایا جائے۔ اس طرح خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے جو بھارتی ریاستی دہشت گردی کا غیر انسانی چہرہ پیش کر رہی ہے۔ بھارت کشمیریوں کے ساتھ ایسا سلوک دہائیوں سے روا رکھے ہوئے ہے۔ کشمیری نوجوانوں کو جان بوجھ کر اور ایک طریق کار کے تحت ہدف بنایا جارہا ہے تاکہ کشمیریوں کے عزم کو توڑا جاسکے تاہم قابض افواج کے اس طرح کے بزدلانہ اقدامات سے کشمیری عوام کے عزم کو مہمیز کرتے ہیں۔
بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے بہادر اور پرعزم عوام نے بار بار ثابت کیا ہے کہ قید و بند کی صعوبتیں اور ماورائے قتل اقدامات سمیت کسی بھی قسم کے مظالم ان کو حق خود ارادیت کے حصول کی جدوجہد سے نہیں روک سکتے۔ نہ ہی کسی بھی قسم کا بھارتی پراپیگنڈا عالمی برادری کو گمراہ کرتے ہوئے کشمیریوں کی قانونی و ذاتی جدوجہد کو دہشت گردی کا رنگ دے سکتا ہے۔ پاکستان جموں و کشمیر کے عوام سے مکمل اظہار یکجہتی کرتا ہے اور عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزیوں اور زندہ رہنے کے سب سے بنیادی انسانی حق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور بھارت پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اسے زندگیاں چھیننے کے اس کلچر کو روکے جو اس نے کئی دہائیوں سے جاری رکھا ہوا ہے۔
پاکستان عالمی برادری پر یہ بھی زور دیتا ہے کہ اپنا درست کردار ادا کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کشمیر تنازع کے منصفانہ اور دیرپا حل کے لئے کام کرے۔ بھارت سرکار کشمیریوں کی مضبوط جدوجہد آزادی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر نہتے کشمیریوں کا خون بہا رہی ہے۔ نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پر معصوم اور بے گناہ کشمیریوں کی قتل و غارت گری کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔ فرضی جھڑپوں اور شہادتوں انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور ملکوں کی خاموشی افسوسناک ہے۔ کشمیری نوجوان پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے اپنے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں اور قربانیاں و شہادتیں پیش کر رہے ہیں۔ اتوار کے دن بھی جب نہتے کشمیریوں پر اندھا دھند گولیاں برسائی گئیں تو وادئ کشمیر میں ہر جگہ پاکستان کے ترانے گونج رہے تھے اور ہزاروں کشمیریوں کی جانب سے پاکستان سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کے نعرے لگائے جا رہے تھے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کا وہ پیغام سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کیا ہے جس میں انہوں نے بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کی شہادت کا نوحہ بیان کیا ہے۔ آسیہ اندرابی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کشمیر لہو لہان ہے۔ ہر طرف مساجد میں پاکستان کے ترانے بج رہے ہیں۔ آسیہ اندرابی نے التجاء کی کہ پاکستانی اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ، کشمیر کے ساتھ،غیور کشمیری مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے یوم سیاہ منائیں۔
حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ مصلحت پسندی چھوڑ کر مظلوم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا کھل کر ساتھ دے۔ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو بین الاقوامی سطح پر بے نقاب کیا جائے اور پوری دنیا میں اپنے سفارت خانوں کو متحرک کر کے تحریک آزادئ کشمیر کو اجاگر کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے قائد میر واعظ مولوی عمر فاروق نے ٹوئیٹر پیغام میں کہا ’’جنوبی کشمیر میں بھارتی افواج نے ایک بار پھر خون کی ہولی کھیلی جس سے سترہ نوجوان شہید ہوگئے ہیں۔ آخر کب تک اپنا پیدائشی حق مانگنے کی پاداش میں کشمیریوں کو چن چن کر مارا جائے گا اور دنیا خاموشی سے دیکھتی رہے گی۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں معصوم کشمیریوں کے قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی ریاستی دہشتگردی کشمیری نوجوان نسل ختم کرنے کے در پے ہے، کشمیری نعشیں گن رہے ہیں اور جوانوں کے جنازے اٹھا رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بدترین ریاستی دہشتگردی جاری ہے۔ کشمیر کو خون میں نہلا دیا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے دو اضلاع میں گزشتہ روز 20 کشمیریوں کو شہید کیا گیا جبکہ بھارتی قابض فوج نے 300 کشمیریوں کو زخمی اور پانچ گھروں کو تباہ کیا۔


ای پیپر