انقلاب
02 اپریل 2018

بغاوت کی ہولناک خاموشی کا تسلسل ٹوٹنے والا ہے کہ ضبط کی رفاقت کو 70برس کا طویل عرصہ گزر گیا۔ ایک ایسا ملک جس کی رگوں میں کرپشن کا زہر کلچر بن کر دوڑ رہا ہو پر امن تبدیلی کی خواہش ایک مذاق سے کم نہیں ۔
فرنگی کے نوبل انعام کو پاؤں کی ٹھوکر مارنے والے مردِ مجاہد علامہ عنایت اللہ مشرقی ؒ نے کہا تھا !
’’پہلے دشمن کی طرح مضبوط ہوجاؤپھر دشمن سے ٹکرا جاؤ ‘‘۔
ہٹلر نے کہا تھا !
’’کسی تحریک کو کامیاب طور پر چلانے کیلئے اُن بہادروں کی ضرورت ہوتی ہے جو ملک اور قوم کیلئے اپنا سب کچھ قربان کر سکیں ‘‘۔
ماؤ نے کہا تھا !
’’ انقلاب کا راستہ بندوق کی نالی سے ہو کر گزرتا ہے‘‘۔
لینن نے کہا تھا !
’’ انقلاب کیلئے اُن لوگوں کی ضرورت ہے جو جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان عمل میں اُتریں ‘‘۔
مشرقی ؒ نے کہا !
قوم کبھی سر بلند نہیں ہو سکتی جب تک اُس کے افراد کا کردار بلند نہ ہو، اور وہی انقلاب کامیاب ہو سکتا ہے جو بلند کردار عوام کی منظم قوت سے پیدا ہو ۔
ہٹلر نے کہا !
کسی قوم کا بلند اخلاق اور اس کی نسل کا عالی مرتبت ہونا قومی تعمیر کیلئے مقدم ہے ۔
ماؤزے تنگ نے کہا !
ہتھیار جنگ میں اہم ضرور ہیں لیکن فیصلہ کن کردار
عوام کی منظم قوت سر انجام دیتی ہے ۔
لینن نے کہا !
انقلاب کیلئے اعلیٰ کردار کے حامل لوگ چاہئیں۔
تاریخ کے عظیم دانشوروں ،مشاہیر اور انقلابی شخصیات کے سنہری اقوال کے آئینہ میں کرپشن کی بنیادوں پر استوار معاشروں میں پر امن تبدیلی کی خواہش کسی سراب سے کم نہیں ہوتی ۔
جنوری 2001ء کاسورج طلوع ہوتا ہے کہ پوٹھوہارکے ایک شاہیں نے انگڑائی لی اور آمر وقت کو ایک خط لکھا اِس تحریر سے مصمم ارادہ کی قوت عیاں ہوتی ہے۔ اس نے لکھا
’’جنرل صاحب !
آپ یہ بات فراموش نہ کریں کہ اقتدار بھی چند روزہ ہے اور زندگی بھی چند روزہ، ان میں سے کسی کو دراز نہیں۔ آپ کو موقع ملا ہے کہ اسلامی نظام نافذ کرکے تاریخ میں ہمیشہ کیلئے زندہ رہ سکتے ہیں ورنہ یاد رکھیں ایک دن نہ صرف بے اختیار بلکہ بے حس وحرکت چند گز ان سلے کپڑے میں لپٹے پڑے ہوں گے۔ وہاں کوئی سرکاری گارڈ ،سپیشل سکوارڈ نہیں ہو گا، دائیں بائیں سرکاری محافظ نہیں ہو نگے بلکہ منکر نکیر جواب طلب کر رہے ہوں گے ۔
جنرل صاحب !
آپ اسلام نافذ کر دیں ہم آپ کے ساتھ ہیں اور پوری قوم آپ کے ساتھ ہوگی توقع ہے۔ آپ کی حکومت امریکہ کا طوقِ غلامی اُتار کر محمد رسولؐ کی غلامی قبول کریں گے۔ ہم وعدہ نہیں عمل چاہتے ہیں۔ جنرل صاحب ! آپ اسلام نافذ نہیں کریں گے تو میرے ہاتھ پر نفاذ اسلام کیلئے موت کی بیعت کرنے والے تین لاکھ جانبازوں کے سر آپ کو کاٹنا ہوں گے۔ ہم اسلام کے نفاذ کیلئے ایوانِ اقتدار کی طرف آئیں گے۔ موت پر بیعت کرنے والے تین لاکھ جانباز گلے میں قرآن ڈالے ہاتھوں میں تسبیح پکڑے لا اِلہ الااللہ محمد رسول اللہ اور اللہ ھوُ کا ورد پاک کرتے ہوئے اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔ ہم غیر مسلح آئیں گے۔ ہم امن کے داعی ہیں۔ ہم سب کیلئے عدل کے طالب ہیں ۔
والسلام
امیر محمد اکرم اعوان
جانے کیوں ؟ امن کے داعی کا یہ غیر مسلح کارواں رک گیا۔ عوام کے اندر منزل کی جو اُمید جاگی اُس پر اوس پڑ گئی ۔
قوموں کی زندگی میں وقت جس انداز سے کروٹ لیتا ہے اُس کو تاریخ اپنے دامن میں محفوظ کر لیتی ہے ،وقت کو اپنی گرفت میں لانا ،اُس کی روش کو اپنے مقاصد حیات کے مطابق ڈھالنا ،کسی عظیم شخصیت ،مردِ مومن کی ضرورت ہوتی ہے جو عقلِ کامل اور کامل عشق کا حاصل ہوا۔ ماڈل
ٹاؤن میں بے گناہوں کی لاشیں گرانے والے انسانیت کے قاتل انقلاب برپا کرنے کے خواہاں ہیں ۔
نصف صدی سے زائد کا عرصہ گزرا، بڑی عظیم و جلیل اور لازوال تھی وہ قربانی جو 1940ء میں برطانیہ کے خوفناک سامراج کے خلاف بروئے کار آئی۔ تین سو تیرہ خادمانِ خلق نے منظم ترین فریضہ سر انجام دیا۔ تاریخ کے مورخ اس دن کی عظمت کو نظر انداز نہیں کر سکیں گے۔ جب غلام قوم کے شاہباز دیو استبداد سے پنجہ آزما ہوئے، جب پیدل سر پھروں نے گھوڑ سواروں کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالا، جب بیلچے آتش باز رائفلوں سے ٹکرائے، جو کچھ ہوا تاریخ کے الفاظ میں ڈھل گیا اور ایک غیر فانی کارنامہ کی حیثیت سے اُس کے اوراق میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو گیا۔ کیاگڈ گورننس کے دعویداروں کی کاوشیں اس نہج تک پہنچ پائیں ؟یقیناًاِس کا جواب نفی میں آتا ہے ۔
کوئی جاکر نام نہاد خدمت کے مقفل کواڑوں کے مکیں سے کہہ دے کہ سٹیج پر کھڑے ہوکر حبیب جالب کے شعر پڑھنے سے انقلاب نہیں آتا ۔
انقلابی ایک ایسا شخص ہوتا ہے جو اپنے آپ کو ختم کر دیتا ہے اُس کی ذاتی دلچسپیاں نہیں ہو تیں ،مراسم نہیں ہوتے ،جذبات نہیں ہوتے ،وابستگیاں نہیں ہوتیں ،جائیداد نہیں ہوتی حتیٰ کہ اُس کا اپنا نام بھی نہیں ہوتا۔ اُس کی ذات کو ایک دلچسپی ،ایک مقصد اور ایک شدید جذبہ اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ وہ دلچسپی ،مقصد ،شدید جذبہ انقلاب کہلاتا ہے۔ صد حیف کہ انقلاب کی باتیں اس طبقے کا فرد کر رہا جس طبقہ کے خلاف انقلاب برپا ہونا ہے۔ لفظ انقلاب کا اس سے بڑا مذاق کیا ہوسکتا ہے ۔


ای پیپر