روپے کی قدر میں کمی اسباب اور اثرات
02 اپریل 2018 2018-04-02

پچاس کی دہائی کو اکثر اس حوالے سے یاد کیا جاتا، اس زمانے میں معیشت بہت کمزور تھی۔ صنعتی بنیاد نہ تھی۔ قحط جیسے حالات تھے۔ ہندوستان نے پاکستان کے حصے میں آنے والے مالی وسائل روک لئے تھے۔ان برے حالات میں پاکستان کی کرنسی ڈالر کے تقریباً برابر اور ہندوستا ن سمیت دنیا کی بڑی کرنسیوں سے زیادہ قدر رکھتی تھی۔ آج کی دنیا کی سب سے طاقتور کرنسی یوآن (چین کی کرنسی )جس سے امریکہ بھی خوفزدہ ہے روپے سے کہیں کمزور تھی۔ لیکن مختلف حکومتوں کی ’’کامیاب ‘‘پالیسیوں کے نتیجے میں روپیہ آج ٹکے ٹوکری ہو گیا ہے۔ آجکل ڈالر 115-116 روپے کا ہو چکا ہے۔ روپے کی قدر میں کمی ایک حکومت یا کسی خاص دور کی بات نہیں ستر سال کی کہانی ہے۔ سطور زیر نظر میں پوری بات اور اس کے اثرات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاکستان میں روپے کی قدر میں کمی کئی مقاصد حاصل کرنے کے لئے ہوتا رہا ہے۔ الف) روپے کی قدر میں کمی سے درآمدات مہنگی ہو جاتی ہیں۔ جس سے ان کے کم ہو جانے کی توقع ہوتی ہے۔ ب) برآمدات سستی ہو جاتی ہیں جس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ ان میں اضافہ ہو گا ۔ نئے خریدار مل جائیں گے اس کا بھی امکان ہوتا ہے۔ دونوں چیزیں مل کے تجارتی خسارہ کم کرنے میں مددگار ہوتی ہیں۔ ج) بیرونی کرنسی کے ایک یونٹ کے مقابلے میں پہلے سے زیادہ روپے مل جائیں گے اس سے ترسیلات زر میں اضافے کی توقع باندھی جاتی ہے۔ د) سرمائے کا فرار رک جانے اور کم ہونے کی امید کی جاتی ہے۔
1982تک پاکستان کی کرنسی ڈالر سے وابستہ تھی ۔ لہذا کرنسی کی بیرونی قدر ڈالر کے حوالے سے طے کی جاتی تھی۔ 1982 منضبط اختیاری قدر کا طریقہ ( managed float ) اختیار کیا گیا ہے۔ اس طریقے کے مطابق قدرزر کا تعین طلب اور رسد کی قوتیں کرتی ہیں۔ لیکن اس کی نگرانی مرکزی بینک کرتا ہے۔ مرکزی بینک حکومتی پالیسی کے مطابق زر کی قدر کو مستحکم رکھنے کی کوشش میں رہتا ہے ۔ اسی پالیسی کے تحت اسحق ڈار بیرون ملک سے قرضے لے کر زر مبادلہ کے ذخائر کو جمع کرتے رہے ۔ مالی سال 2016-17 ء کے دوران سکوک اور دوسری شکلوں میں دس ارب ڈالر کے قرضے لئے گئے۔ موجودہ مالی سال کے پہلے سات ماہ میں چھ ارب ڈالر کی رقم ادھار لی جا چکی ہے۔ ساتھ ہی 20 ارب ڈالر سے زائد کے یہ ذخائر ایک معاشی اور سیاسی نعرہ کے طور پر استعمال کئے جاتے رہے۔ مصنوعی تنفس پر قائم روپے کی مستحکم قدر کو کامیاب معاشی پالیسی کا نتیجہ قرار دیا جاتارہا۔ معاشی لحاظ سے یہ پالیسی کئی حوالوں سے کامیاب رہی۔ جیسے CPECاور میڑو وغیر ہ کے لئے ہونے والی درآمدات کے ضمن میں زائد قدر رکھنے والے روپے کی وجہ سے کم ادائیگی کرنی پڑی۔ روپے کی قدر مستحکم رہنے سے افراط زر ( قیمتوں میں اضافہ ) قابو میں رہا۔عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی اور سعودی عرب سے 1.5 ڈالر کی برادرانہ خیر سگالی سے ملنے والی امداد اچھا شگون ثابت ہوئے۔
یہ بات سامنے رہنی چاہیے کہ کم قدر رکھنے والی کرنسی ہمیشہ گھاٹے کا سودا نہیں ہوتی۔ امریکہ کئی برسوں سے چین کے مقابلے میں اپنے تجارتی خسارے کو چین کم قدر رکھنے والی کرنسی سے جوڑتا آیا ہے۔ امریکہ کا چین کے مقابلے میں تجارتی خسارہ آج بھی 300ارب ڈالر سے زائد ہے ۔ اس کمزور کرنسی کی بدولت ہی امریکہ چین کا 1.7بلین ڈالر کا مقروض ہے۔ کمزور کرنسی کی طاقت پر کھڑی چین کی عالمی تجارت میں سبقت نے چین کو سب سے زیادہ زرمبادلہ (4 ٹریلین ڈالر ) والا ملک بنایا ہے۔ چین اور علامی تجارت کی بنیاد پر ترقی کرنے والے ممالک ملائشیاء سنگا پور، ہا نگ کانگ سب کی ترقی میں کرنسی اور اس کی قدر کو بنیادی حثیت حاصل رہی ہے۔
کرنسی کی قدر کے تعین میں بنیادی کردار ادا کرنے والی طلب اور رسد کی قوتوں کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ جب کسی ملک کی جانب سے بیرون سے اشیاء درآمد کی جاتی ہیں تو ان کی ادا ئیگی غیرملکی کرنسی میں کرنا ہوتی ہے۔ یہ بات زر مبادلہ کی طلب کہلاتی ہے۔ جب دوسرے ملک کسی سے خریداری کرتے ہیں یعنی ملک اشیاء برآمد کرتا ہے تو اسے وصولی ہوتی ہے۔ یہ وصولی زر مبادلہ کی رسد کہلاتی ہے۔جب کسی ملک کی زر مبادلہ کی طلب اور رسد برابر ہوں یعنی وصولیاں اور ادائیگیاں ایک دوسرے کے برابر ہوں تو کرنسی کی قدر کے تعین کا سوال کم اہم ہو جاتا ہے۔ وہ ممالک جن کی برآمدات بہت زیا دہ ہوتی ہیں کرنسی کی بیرونی قدر کم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ عالمی تجارت میں ان کے گاہک کسی دوسرے ملک کے ساتھ تجارت میں شریک نہ ہوں اور اُن کی منڈی موجود رہے۔
پاکستان کا معاملہ دنیا کے اکثر ممالک سے مختلف ہے۔ اس لئے ہمیں مختلف اثرات اور نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جن کا ذکر مختصراً کیا جاتا ہے۔کرنسی کی بیرونی قدر کے تعین میں IMF اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ادارہ ملک کی پیداوار ، اسکے قرض ،خسارہ ،تجارت وغیرہ کی بنیاد پر ہر ایک ملک کے لئے قدر کرنسی کا فارمولہ طے کرتا ہے۔ جس کی بنیاد پر ملک کو کرنسی کی قدر کے حوالے سے مشورہ دیا جاتا ہے۔ خسارہ رکھنے والے ممالک کو کرنسی کی قدر میں کمی کا مشورہ اس بناء پر دیا جاتا ہے کہ اس سے برآمدات بڑھیں گی جس سے ملک کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ اسی فارمولے کی رو سے پاکستان کو بتایا جاتا رہا کہ روپیہ زائد قدر رکھنے والی کرنسی بن چکی ہے۔ لہذا روپے کی قدر میں 20 فیصد کمی کی جائے۔ دسمبر 2017 اور اب مارچ میں روپے کی قدر میں کمی اسی دباؤ کا نتیجہ ہیں۔ بظاہر یہ ایک با مقصد عمل ہے۔ لیکن پاکستان کے خصوصی حالات کی وجہ سے یہ مشورہ منفی اثرات تو پیدا کرتا ہے لیکن متوقع اثرات سامنے نہیں آتے۔
قدر زر میں کمی سے درآمدات اور ان سے تیار کی جانیوالی مصنوعات کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ قرضوں اور سود کے بوجھ میں اضافہ ہو جاتاہے۔ تیل اور کوئلے کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ پھر یہ اضافہ عوام کو منتقل ہو جاتا ہے۔متوقع مثبت اثرات سامنے نہ آنے کی وجوہات یہ ہیں۔ ہمارے پاس ایکسپورٹ کرنے کیلئے چند اشیاء ہیں لہذا تجارت میں اضافے کے مواقع محدود ہیں۔ عالمی تجارت میں ہمارا مقابلہ چیں ، ہندوستان جیسے ممالک سے ہے۔ لہذاکوالٹی اور قیمت کا سوال سامنے آتا ہے۔ اس میدان میں ہم کمزور ہیں۔ہماری زرعی پیداوار، چینی اور ٹیکسٹائل کی صنعت میں عالمی مقابلے کی سکت نہیں !ہماری صرف کی عادت اور بیرونی اشیاء کی ترجیح ہمار امپورٹ بل بڑھاتے ہیں۔ پچھلے برسوں میں جب ہم یورپی منڈی میں سکوک ، بانڈز اور تجارتی بنکوں سے قرض 7-8)فیصد)اٹھا کر روپے کو سہارا دے رہے تھے تو اصل میں ذمہ داری کو ٹالا جارہا رتھا اور بوجھ میں اضافہ کیا جارہا تھا آج کی صورت اسی بات کا تسلسل ہے۔
ماضی میں ہم قرضے پہ قرضہ لیتے آئے ہیں لیکن اس قرض کو پیداواری صلاحیت بڑھانے کی بجائے نمائشی انداز سے استعمال میں لایا گیا ہے ۔ ہم نے صلاحیت بہتر کی ہوتی تو دوسرے ملکوں کی طرح ہماری براآمدات میں اضافہ ہوتا ۔ جب تک اس طرف توجہ نہیں کی جائیگی بڑے سے بڑا پیکیج ہمارا مسئلہ حل نہیں کر سکے گا۔ یہ بھی لازم ہے کہ ہم بیرون ملک علاج ، بیرون ملک تعلیم ، لباس ، تعمیرات، ادویات سب عادات پر نظر ثانی کریں۔ یہ تبدیلی ہمارے ادائیگیوں کے بل میں بڑی کمی لا سکتی ہے۔ جب تک اشیاء میں مقابلے کی صلاحیت پیدا نہیں ہوتی ہماری کرنسی کی قدر مصنوعی اقدامات کی محتاج ہو گی ا ور قوم قدر زر میں کمی کے منفی اثرات کا سامنا کرنے پر مجبور!


ای پیپر