جناب چیف جسٹس صاحب! میں بھی فریادی ہوں

02 اپریل 2018

حافظ ذوہیب طیب

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار ، پاکستان میں امید کے استعارے کے طور پر ابھرے ہیں ۔ یہ ان کا خاصہ ہے کہ وہ شدید مخالفت اور عصاب شکن نعروں کے باوجود بڑے حوصلے کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ قانون کی بالادستی ہو یا عوامی مسائل، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی ہو یا پولیس مقابلے میں مارے جانے والے بے گناہ لوگ ، ہسپتالوں اور سکولوں کی ابتر صورتحال ہو یا کرپشن اور حرام خوری کی تما م حدور پار کرتی بیوروکریسی نامی مخلوق، ان مسائل میں گھرے بڑے سے لیکر چھوٹا، جوان سے لیکر بوڑھا اور عورت سے لیکر مرد ، جو بھی اپنی فر یاد لے کر ان کے پاس حاضر ہوا ، تمام فر یادیوں کو انصاف میسر آیا ۔ دور حاضر میں جسٹس ثا قب نثار ایک برانڈ بن چکے ہیں ۔ با با رحمتے کا برانڈ ، ایک ایسا برانڈ جو لوگوں سے اور لوگ اس سے محبت کرتے ہیں ۔لوگ اس سے اپنی امیدیں وابستہ کرتے ہیں اور پھر یہ بھی ان کی امیدوں پر پورا اُترتے ہوئے لوگوں کی بھلائی کے لئے آخری حد تک جاتا ہے ۔آج میں بھی ایسے ہزاروں لوگوں کی فریاد چیف جسٹس تک پہنچانا چاہتا ہوں جو روزانہ ایک کرب سے گذرتے ہیں ۔
جناب چیف جسٹس صاحب ! مجھ سمیت پاکستان کے کروڑوں لوگ آپ کی صلاحیتوں اور خدمت انسانی کے جذبے کے مداح ہیں ۔ آپ نے جس طرح لوگوں کے مسائل سنے اور انہیں فوری طور پر حل کرانے کے احکامات صادر کئے ، یقیناجہاں اس سے رب تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہو گی وہاں ان کاوشوں کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں آپ کی محبت گھر کرتی جا رہی ہے۔ ہسپتالوں کی کا ر کردگی کو بہتر بنا نے کے لئے آپ کے ہنگامی دورے ، کچھ نہ کچھ بہتری لانے میں معاون ثابت ہوئے ہیں لیکن ینگ ڈاکٹرز جو بد معاش ڈاکٹر بن چکے ہیں ، فرعونیت کے نشے میں مست مریضوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے ۔ جس کی تازہ مثال سروسز ہسپتال میں ان بد معاشوں کے ہاتھوں سنیل نامی نوجوان کی ہلاکت ہے ۔ پہلے اس کی بہن کے ساتھ نا زیبا الفاظ استعمال کئے اور پھر ایک گھنٹے تک سنیل کو مارتے رہے ۔ اس کے بعدبھی جب ان کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا تو اسے ڈی۔ایم۔ایس کے کمرے میں لے جاکر کمرہ بند کر دیا گیا۔پسلیاں ٹوٹنے شریانیں کٹنے کی وجہ سے اس کی خون کی الٹیوں کا بھی مذاق بنایا گیا ۔ بالآخر جب وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زمین پر گرا تو فوری طور پر اسے ایمرجنسی شفٹ کر دیا گیا اور اپنی نا اہلی اور بد معاشی کو چھپانے کے لئے ایمرجسنی بند کر نے کی دھمکی بھی دیتے رہے ۔ اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز سمیت عرصہ دراز سے کرپشن کے حمام میں ننگے سینئر افسران ، معاملات کو بہتر ہونے ہی نہیں دیتے ۔ جب معاملات بہتر ہو گئے تو ان کی حرام خوری بند ہو جائے گی اور ایسا بھلا ہو کیسے چاہیں گے جنہیں حرام کا لپکا لگ گیا ہو؟
جناب چیف جسٹس صاحب ! اب میں اپنی فریاد پر آتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اس معاملے کو آپ ایک ہفتے کے اندر اندر حل کر دیں گے اور جس کے لئے آپ کو زیادہ تگ و دو بھی نہیں کر نی پڑے گی ۔ یہ معاملہ جس سے روزانہ ہزاروں لوگ اذیت کا شکار بنتے ہیں وہ ماتحت عدالتوں میں عملے کا رویہ اور کھلم کھلا رشوت خوری کا بازار گرم کرنا ہے ۔مجھے روزانہ ہی کئی ایسے لوگوں سے پالا پڑتا ہے جو ماتحت عدالتوں کے سسٹم کے ستائے ہوئے ہیں اور اپنے آپ کو کوستے رہتے ہیں ۔ لوگ ایک دوسرے پر ذاتی عداوت کی وجہ سے عدالتوں سے ایف،آئی۔آرز کے احکامات لیتے ہیں ، لوگوں پر جھوٹے مقدمات درج کراتے ہیں اور یوں ایک طویل سلسلہ شروع ہو جا تا ہے جس میں ذلالت اور تباہی کے ساتھ ہر تاریخ پر تین سے چار ہزار روپے کا ٹیکہ لگتا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق لاہور کی ماتحت عدالتوں سے روزانہ حرام خوری کی مد میں لاکھوں روپے جمع ہوتے ہیں اور پنجاب کے دوسرے اضلاع کی عدالتوں میں اس سے بھی بُرا حال ہے ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ جج صاحب کے دائیں اور بائیں بیٹھے ریڈرز اور باقی عملہ دیدہ دلیری کے ساتھ رشوت وصول کر رہا ہوتا ہے اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ہوتا ۔ذرائع اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ لاکھوں روپے اوپر سے نیچے تک تقسیم ہوتے ہیں۔ جو رشوت دے دے اس کو با آسانی اس کی مرضی کے مطابق تاریخ مل جاتی ہے اور جو نہ دے اسے ذلیل و خوار کیاجا تا ہے اور یوں آپ جو ایک طرف نیکی اور لوگوں کو آسانیاں تقسیم کر نے کا کام کر رہے ہوتے ہیں وہاں آپ کے ماتحت عدالتوں کا عملہ لوگوں میں دکھ ، کرب اور تکالیف تقسیم کر رہا ہوتا ہے ۔
جناب چیف جسٹس صاحب ! میں نے تو ہزاروں فریادیوں کی آواز بن کر آپ تک فریاد پہنچا دی ہے ۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ کرب میں مبتلا ہزاروں لوگوں کو کسیے انصاف فراہم کیا جاتا ہے ۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ آسان کام نہیں کہ جنہیں حرام خوری کی عادت پڑ جائے وہ آسانی سے نہیں جاتی لیکن آپ جیسا نڈر، بہادر اور نیک انسان سب کچھ کروا سکتا ہے ۔یقین جانیں اگر صرف یہ ایک کام بھی ہو جائے تو رہتی دنیا تک لوگ آپ کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں گے ۔ میں نے ان ظالموں کی وجہ سے عدالتوں میں لوگوں کو سسکیاں لیتے ہوئے اور جھولیاں اٹھا اٹھا کر بد دعائیں دیتے ہوئے دیکھا ہے ۔اگر یہ سسٹم ایسے ہی چلتا رہا توکچھ بعید نہیں کہ پھر ان لوگوں کی بد دعائیں کام دکھانا شروع کردیں اور پھر ہم چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کر پائیں۔ جناب چیف جسٹس صاحب !!!

مزیدخبریں