کوئی تو غلطی کا اعتراف کرے
02 اپریل 2018

آسٹریلین کرکٹ ٹیم کے کپتان دنیا کے نمبر ون بلے باز سٹیو سمتھ نے گزشتہ دنوں وطن واپسی پر پریس کانفرنس میں جنوبی افریقہ کے خلاف کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں بال ٹمپرنگ کے تمام ترواقعہ کی ذمہ داری قبول کی ۔انہوں نے پوری اسٹریلین قوم سے معافی مانگی ،معافی کے دوران سٹیو سمتھ اور کیمرون روپڑے ۔کپتان نے کہا میں نے بہت بڑی غلطی کی اور اس کا نتیجہ بھی جانتا ہوں یہ دراصل میری قیادت کی ناکامی تھی اپنے کیے پر زندگی بھر افسوس رہے گا کرکٹ میری زندگی ہے اور مجھے امید ہے کہ مجھے دوبارہ کھیلنے کا موقع ملے گا ۔یادرہے کہ اسٹریلین کرکٹر زجن میں مذکورہ دو کھلاڑیوں کے علاوہ بلے باز ڈیوڈ وارنر بھی شامل تھے نے اپنی ٹیم کی واضح شکست کو دیکھتے ہوئے بال ٹیمپرنگ کا منصوبہ بنایا اس کا مقصد تھا کہ اپنے ملک کو شکست
سے بچایا جائے ۔انہوں نے اپنی ذات کے لئے یا بھاری سرمایہ حاصل کرنے کے لئے یہ غلط قدم نہیں اٹھایا لیکن پکڑے جانے پر انہوں نے نہ صر ف اپنی غلطی کا اعتراف کیا بلکہ انہوں نے پوری قوم اورکرکٹ کے کھیل سے دلچسپی رکھنے والوں سے معافی مانگی کاش کہ ایسا ہماری ملکی سیاست میں بھی ہوتا سارے سیاستدانوں ،جرنیلوں ،کھلاڑیوں ،صنعت کاروں غرض ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں کو اپنی اپنی غلطیوں کا احساس ہوجائے کہ انہوں نے ملک کے ساتھ کیا کیا کھلواڑ کیا ۔ملک دو لخت ہوگیا لیکن آج تک ذمہ داروں کا تعین نہ ہوسکا محمود الرحمٰن رپورٹ میں بتائی گئی خامیوں ،برائیوں ،سازشوں کے سدباب کے لئے ہم نے کچھ نہ کیا آج ہم اسی پرانی ڈگر پہ چل رہے ہیں جس کے باعث ہمارے اپنے مسلمان بھائی،پاکستان ،بنگالی ہمارے خلاف ہوگئے ۔آج ملک کے حالات یہود ونصاریٰ کی سازشوں کے باعث خراب ہیں ۔ہماری مغربی سرحدیں جوکہ پہلے غیور قبائل کے باعث محفوظ تھیں غیر محفوظ ہوگئیں ملک کے اندر لاکھوں پاکستانی دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں لیکن ہم سے اب بھی ڈومور کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔سترہزار پاکستانی دہشت گردی کی اور مشرف کی تھونپی جنگ کی بھینٹ چڑھ گئے لیکن کیا ہم محفوظ ہوگئے نہیں نہ تو ہم محفوظ ہیں اور نہ ہی یہودونصاری۔ نائن الیون کے بعد جاری افغانستان ،عراق ،پاکستان میں کاروائیوں نے ہمیں مذید غیر محفوظ کردیاہے آج ہم ملک میں کرکٹ ،ہاکی کا ایک میچ کھلوانے کے لئے کروڑوں کا سرمایا لگا دیتے ہیں ۔اربوں کا کاروبار زندگی معطل کردیتے ہیں لیکن کوئی ہمیں پر امن ملک کہنے کو تیار نہیں ہے ۔ہمارے حکمرانوں نے ملک کے بائیس کروڑ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل کھربوں کے سرمائے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہماری کرنسی افراد زر کے باعث بنگلہ دیش جیسے نئے ملک کے مقابلے کی بھی نہ رہی ہمارے بیرونی قرضے انتہا کو پہنچ گئے ۔ہر پاکستانی ایک لاکھ بیس ہزار روپے کا مقروض ہوگیا لیکن ہمارا کوئی حکمران قوم سے معافی مانگے یا اس کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہے ۔حکمرانوں نے بیرون ملک لوٹی ہوئی دولت سے جائیدادیں بنائیں ،کاروبار کیے ،محل پلازے ،فلیٹس خریدے لیکن ملک کی صنعت کو تباہ کردیا ۔عوام کو بے روزگاری ،لوڈ شیڈنگ ،دہشت گردی ،بدامنی ،سیاسی رسہ کشی ،ناخوانگی ،ملاوٹ ،ذخیرہ اندوزی ،اقرباپروری جیسی معاشرتی برائیوں ،مشکلات میں مبتلا کردیا لیکن کوئی حکمران چاہے وہ کسی بھی پارٹی کا ہو اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں ۔پاکستان جوکہ ہاکی ،سکوائش ،کرکٹ کا ورلڈ چیمپیئن تھا اس نے دیگر ممالک کو ہاکی ،سکوائش کھیلنا سکھایا آج ان کھیلوں میں گندی سیاست کرپشن کے باعث اپنا مقام ،وقار ،معیار کھو بیٹھا لیکن ذمہ داروں کا تعین کون کرے جب حمام میں سب ننگے ہوں تو معافی کون مانگے ۔معذرت خواہ کون ،ایک وقت تھا ہماری کرنسی ڈالر کے برابر تھی اب آئے روز اس میں گراوٹ کے باعث ملکی قرضوں ،مہنگائی میں اضافہ ناقابل برداشت حد تک پہنچ گیا ہے ہمارے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں ،غلط سیاست نے بائیس کروڑ عوام کو ذات پات ،قومیت ،علاقائیت ،زبان کے نام پر تقسیم کردیا ہے 1947 میں ایک قوم مسلمان تھے اب ہماری قومی یکجہتی نہ رہی ۔ہمارا اتفاق واتحاد پارہ پارہ ہوگیا لیکن کوئی معافی مانگنے اور ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ۔ہماراعدالتی ،احتسابی ،تعلیمی ،ریلوے ،فضائی نظام تباہ ہوگیا ۔ہمارے ڈیم خشک اور بے وقت کی بارشیں ،سیلاب اللہ کی ناراضگی کا واضح اشارہ ہیں کہ ہم سدھر جائیں حکمران عوام ،جرنیل تمام عدل وانصاف ،شرافت ،میرٹ ،اخلاقیات ،کو اپنائیں لیکن ہم تقدیر کو بدلنے پر بضد ہیں ۔اسٹریلین کپتان اور کھلاڑیوں نے اپنی غلطی پرندامت ،معافی پوری اسٹریلین قوم کی سوچ
کی عکاسی ہے کہ وہاں کرپشن ،بے قاعدگیوں دھوکہ کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے ۔تمام تر مغربی ممالک میں دھوکہ ،کرپشن کو ہرگز برداشت نہیں کیا جاتا وہاں کے احتسابی ادارے ،عدالتیں اس سلسلے میں متحرک ہیں لیکن ہمارے ادارے ظالم کے ساتھی اور مظلوم کے دشمن ہیں ہم کسی بھی دھاندلی ،برائی ،خرابی کے ذمہ داروں کا تعین کرنے اور انہیں قرار واقعی سزا دینے سے قاصر ہیں جب تک ہمارے رویوں میں بہتری نہیں آئی ہم مجرموں کو فوری اور سخت سزا مظلوموں کی داد رسی ،کرپشن کا سدباب ،میرٹ کو فوقیت نہیں دیتے بھکاری بنے رہیں گے دنیا میں ساتویں ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود دھتکارتی رہے گی ۔مالک دوجہاں ہم سے ناراض ہوکر ہم پر عذاب جن میں قحط سالی ،سیلاب ،زلزلے ،جنگ وجدل ،فرقہ واریت ،خشک سالی نازل کرتا رہے گا ۔کاش کہ ہمیں بحیثیت قوم اپنی غلطیوں کا احسا س ہو،کاش کہ ہمارا کوئی تو حکمران ،کپتان ،افسر ،علماء سوء ،جرنیل ،تاجر ،جج ،بیوروکریٹ قوم کے سامنے آکر اپنی غلطی کا اعتراف کرکے اور معافی کا طلب گار ہو۔


ای پیپر