گرمی کے ستائے عوام کیلئے بُری خبر
02 اپریل 2018 (18:02)

اسلام آباد: ملک میں بجلی کے شارٹ فال مزید بڑھنے کا خطرہ بڑھ گیا حکومتی دعووں اور وعدوں کے باوجود پاور سیکٹر کے ذمہ پی ایس او کے 283 ارب 40 کرروڑ روپے کے واجبات میں سے ادائیگیاں نہیں کی گئیں جس کے باعث پی ایس او کے پاور سیکٹر سمیت مختلف اداروں کے ذمے واجبات 335 ارب 10کروڑ روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں ، پی آئی اے نے 16ارب سے زائد کی ادائیگیاں کرنا ہیں،جس کی وجہ سے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کا مالی بحران سنگین ہوگیا ہے، ادائیگیاں نہ کی گئیں تو سپلائی چین متاثر ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں ملک میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھ جائیگا جبکہ پی ایس او نے مختلف کمپنیوں کو 15ارب اور 20کروڑ روپے کی ادائیگیاں کرنا ہیں ذرائع کے مطابق پی ایس او کے مختلف اداروں کے ذمے واجبات 335 ارب 10کروڑ روپے ہیںمختلف اداروں کی جانب سے پی ایس او کو باقاعدگی سے ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے پی ایس او مالیاتی بحران کا شکار ہوگیاہے اور عدم ادائیگیوں کی جانب سے پی ایس او مشکلات کا شکار ہوگیا ہے۔

حکومتی دعوﺅں ، وعدوں کے برعکس ملک میں بجلی کا شارٹ فال مزید بڑھنے کا خطرہ


مختلف اداروں کی جانب سے پاکستان اسٹیٹ آئل کو 335 ارب سے زائد کی رقم واجب الادا ہے پاور سیکٹر پی ایس او کا سب سے بڑا نا دہندہ ہے اور پاور سیکٹر نے پی ایس او کو 283 ارب 40 کرروڑ روپے کی ادائیگیاں کرنی ہیں بجلی کی پیداواری کمپنیوں (جینکوز) نے پی ایس او کو ایک سو ترپن ارب روپے حبکو نے تراسی ارب چالیس کروڑ روپے اور کو ٹ ادو پاور کمپنی کیپکو نے پی ایس او کو تینتالیس ارب ستر کروڑ روپے ادا کرنے ہیں پی آئی اے نے پی ایس او کو 16 ارب 20 کروڑ روپے اور حکومت نے قیمتوں میں فرق کے کلیمز سے متعلق نو ارب ساٹھ کروڑ روپے ادا کرنے ہیں جبکہ سوئی نادرن گیس کمپنی لمٹیڈ نے ایل این جی کے واجبات کی مد میں پی ایس او کو پچیس ارب روپے کی ادائیگی کرنی ہے پی ایس او نے مختلف ملکی و غیر ملکی ریفائنریوں کو پندرہ ارب دس کروڑ روپے ادا کرنے ہیںپی ایس او نے پارکو کو سات ارب بیس کروڑ روپے، پاکستان ریفائنری لمٹیڈ کو دو ارب چالیس کروڑ روپے، بائیکو دو ارب بیس کروڑ روپے اور اٹک آئل ریفائنری کو ایک ارب اسی کروڑ روپے ادا کرنے ہیں۔زرائع کے مطابق پی ایس او نے اینار کو اسی کروڑ روپے اور نیشنل ریفائنری لمٹیڈ کو ستر کر وڑ روپے ادا کرنے ہیںپی ایس او نے ایل سی، ایل این جی اور دیگر ادائیگیوں کی مد میں مجموعی طور پر پینسٹھ ارب ساٹھ کروڑ روپے فوری ادا کرنے ہیں۔ پی ایس او ذرائع نے بتایاکہ حکومت کی جانب سے پی ایس او کو باقاعدگی سے ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی گئی تھی تاہم اس پر ابھی تک کوئی عمل درآمد نہیں کیاگیا جس کی وجہ سے پی ایس او گزشتہ کئی سال سے مالی مشکلات کا شکار رہا ہے ذرائع کا مزید کہناہے کہ اگر پی ایس او کو بروقت ادائیگیاں نہ کی گئیں تو سپلائی چین متاثر ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں ملک میںلوڈشیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھ سکتا ہے جبکہ دوسری جانب حکومت نے بجلی بنانے والی کمپنیوں کے80ارب روپ ادا کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے جس کی ای سی سی میں منظوری بھی دیدی گئی ہے وزارت توانائی حکام کا کہنا ہے ان میں سے پچاس ارب روپے جلد جاری کردئیے جائیں گے واضح رہے کہ حکموت کی جانب سے اس سے قبل کی جانیوالی کھربوں روپے کی ادائیگیوں میں بے ضابطگیوں کی وجہ سے آڈٹ حکام نے نئی جاری کی جانیوالی رقم کا آڈٹ سے انکار کردیا تھا تاہم اب آڈٹ کے بعد یہ رقم ادا کر دی جائیگی۔


ای پیپر