جڑانوالہ میں سات سالہ بچی کا زیادتی کے بعد قتل
02 اپریل 2018 (15:00)


جڑانوالہ : جڑانوالہ میں دوسری جماعت کی سات سالہ طالبہ کو اغوا کرکے زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا، نعش کھیتوں سے برآمد ہوئی ، بچی کی ایک ٹانگ کٹی ہوئی اور نعش نیم برہنہ تھی ،شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ،پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ، شہری سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کیا ، آئی جی پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے واقعہ کی تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی۔


تفصیلات کے مطابق فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے تھانہ سٹی کے علاقے گلشن فاطمہ میں سات سالہ مبشرہ دوسری کلاس کی طالبہ تھی جسے اغواء کر کے مبینہ زیادتی کے بعد گلہ دبا کر قتل کیا گیا جس کی نعش کھیتوں سے برآمد ہوئی ، بچی کی ایک ٹانگ کٹی ہوئی اور نعش نیم برہنہ تھی جسے جانوروں نے نوچا ہوا تھا۔ پولیس نے تھانہ سٹی میں نامعلوم ملزمان کے خلاف زیادتی اور قتل کا مقدمہ درج کرلیا۔گھنائونے واقعات اور ملزمان کی گرفتاری میں پولیس کی مایوس کن کارکردگی پر شہریوں کا صبر جواب دے گیا اور جڑانوالہ کے شہری سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج شروع کردیا۔ مظاہرہ ختم کرنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری پہنچی تو مشتعل شہریوں نے پولیس کی گاڑی روک لی۔ آئی جی پنجاب عارف نواز خان نے مبشرہ کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے سی پی او فیصل آباد سے 24 گھنٹے میں تحقیقاتی رپورٹ طلب کرلی۔


آئی جی پنجاب عارف نواز خان نے کہا کہ معصوم بچی کے قاتل کو جلد از جلد گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت سزا دلوائی جائے۔ جڑانوالہ شہر جنگل بن گیا جہاں بچے محفوظ ہیں نہ لڑکیاں۔ بچوں سے زیادتی کے واقعات روزانہ کا معمول بن گئے ہیں، جبکہ چند روز قبل جی سی یونیورسٹی کی طالبہ کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا۔ پولیس گھنائونے اور سنگین جرائم کا سراغ لگانے اور مجرموں کو پکڑنے میں تاحال ناکام ہے۔جی سی یونی ورسٹی کی طالبہ مقتولہ عابدہ کے قاتل بھی 8 دن گزرنے کے باوجود گرفتار نہ ہو سکے۔ بچوں سے زیادتی کرنے اور ویڈیوز بنانے والا مرکزی ملزم بلا ڈان بھی پولیس کی گرفت سے آزاد ہے۔


ای پیپر