بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی انتہا کر دی 
02 اپریل 2018 (14:48)

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے دوران 17 سے زیادہ شہریوں کی شہادت پرپیر کو مکمل ہڑتال رہی ۔ بھارت کے خلاف احتجاجی لظاہرے کیے گئے ۔ اس دوران شہریوں کی نقل وحرکت روکنے کے لیے مقبوضہ کشمیر بھر میں پابندیاں لگا دی گئیں جبکہ کلگام میں کرفیو لگا دیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کی مشترکہ حریت پسند قیادت سید علی گیلانی، ڈاکٹر محمد عمر فاروق اور محمد اشرف صحرائی کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے جبکہ یسین ملک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ درجنوں حریت رہنماوں کو پابند سلاسل کر دیا گیا ہے ۔ ریل سروس اور انٹرنیٹ سروس معطل رہی۔


تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضلع اسلام آباد، اننت ناگ اور شوپیاں سمیت 3 مقامات پر 17 بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو شہید اور 300 سے زائد کو زخمی کردیا تھا۔ بھارتی فوج کے مظالم اور بربریت کے خلاف پیر کووادی میں مکمل طور ہڑتال ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں اسکول، کالج بند ہونے کے ساتھ آج ہونے والے امتحانات بھی ملتوی ہوگئے ہیں۔گزشتہ روز بھارتی فوج نے کشمیری نوجوانوں پر پیلٹ گنز کا بھی بے دریغ استعمال کیا تھا جس کے باعث متعدد نوجوانوں کی بینائی ضائع ہونے کا خدشہ ہے، کشمیری نوجوانوں کے قتل پر حریت قیادت نے دو روزہ ہڑتال کا اعلان کررکھا ہے۔ بے گناہ کشمیری نوجوانوں کی شہادت کے خلاف کشمیری عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی ہے اور شدید احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔


روف احمد کھانڈے ولد بشیر احمد کھانڈے ساکن دھرنہ ڈورو نامی نوجوان کی شہادت کی خبر پھیلتے ہی لوگوں کی بڑی تعداد جائے موقع پر پہنچی اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے ۔ ان کی نماز جنازہ3مرتبہ ادا کی گئی جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کرکے اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے ۔ مہلوک کو دوپہر بعد آبائی قبرستان میں سپرد لحد کیا گیا ۔کچھ ڈورہ میں مرد و زن گھروں سے باہر آئے اور احتجاج کرنے لگے۔عینی شاہدین کے مطابق اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بلند کرتے ہوئے مظاہرین نے جب جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تو،پولیس اور فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس گولے داغے۔طرفین میں جھڑپ کے دوران مظاہرین نے سنگبازی کی ،جبکہ فورسز نے پیلٹ اور گولیوں کا استعمال کیا جس میں 80 نوجوان زخمی ہوئے۔


عینی شاہدین کے مطابق کچھ ڈورہ شوپیان میں جاں بحق ہوئے نوجوان جن میں رئیس احمد اور یاور احمد شامل ہیں کوجونہی اپنے آبادئی علاقوں میں پہنچایا گیا تو وہاں کہرام مچ گیا ۔ اس دوران مرد و زن کی ایک بڑی تعداد اپنے اپنے گھروں سے باہر آگئی اور فورسز کے خلاف احتجاج کیا۔ احتجاج میں شامل مرد و زن نے اسلام اور آزادی کے حق میں زور دار نعرے بلند کئے۔ اس دوران جھڑپ کے مقام پر نوجوانوں کے علاوہ خواتین نے بھی احتجاج کیا جن کو منتشر کرنے کے لیے فورسز نے طاقت کا استعمال کیا۔


فورسز نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ، آنسو گیس اور پیلٹ کا سہارا لیتے ہوئے عوام کو جھڑپ کے مقام سے پیچھے دھکیلنے کی کوششیں کیں۔ دن بھر درگڈ اور کچھ ڈورہ میں جاری رہنے والے احتجاجی مظاہروں میں قریب130شہری زخمی ہوئے۔ شوپیاں اوراننت ناگ میں میں ہڑتال ہوئی،جبکہ سنگبازی کے واقعات رونما ہوئے،جس میں20افراد زخمی ہوئے۔سرینگر کے سرائے بالا اور کنہ کدل میں غائبانہ نمار جنازہ ادا کی گئی۔ جنوبی کشمیرکے شوپیان، اننت ناگ اور پلوامہ میں احتجاج کرنے والے لوگوں پر فورسز اہلکاروں کی براہ راست فائرنگ سے 100سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں 61 کو سرینگر کے مختلف اسپتالوں میں علاج و معالجہ کیلئے داخل کیا گیا ہے۔


ای پیپر