مامورات سےمنہیات تک
02 اپریل 2018 2018-04-02

شریعت کے احکام کی بنیادی طور دو قسمیں ہیں، ایک قسم کا نام ’’ مامورات ‘‘ ہے جب کہ دوسری قسم کو ’’منہیات‘‘ کہتے ہیں۔ ’’ مامورات ‘‘ ان احکام کو کہا جاتا ہے جن میں کسی کام کے کرنے کا حکم دیا گیا ہو، جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ اور ’’منہیات‘‘ ان احکام کو کہتے ہیں جن میں کسی کام سے بچنے کا حکم دیا گیا ہو، جیسے جھوٹ بولنا، خیانت کرنا، غیبت کرنا کہ شریعت نے ان سب کاموں سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ احکام کی مذکورہ دونوں قسمیں درجے اور مرتبے کے لحاظ سے یکساں نہیں ہیں، بل کہ مختلف مراتب اور درجات میں تقسیم ہیں۔

شریعت کی ان دونوں احکامات کو پڑھنے کے بعد اگر میں بحیثیت مسلمان اور ایک پاکستانی ہونے کے ناطے اپنی ریاست کے ان تین ستونوں پر جن کو انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کہا جاتا ہے تو مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوگی اورریاست کے ان تین ستونوں کے ’’ مامورات ‘‘ اور ’’منہیات‘‘ میں کوئی خاص فرق نظرنہیں آتا ہے۔ وہ ملک جس کی بنیاد وہ دو قومی نظریہ تھا جس نے اس بات کو تقویت بخشی کے مسلمان اور ہندو دو الگ اقوام نہیں ،بلکہ مذہب ہیں۔ اور برصغیر کو بنا ءمنقسم کیے رام اور رحیم ایک ساتھ پروان نہیں چڑھ سکتے اور یہی وہ روشنی تھی جس نے اس بات کی بنیاد رکھی گئی کہ ایک الگ مملکت کی تشکیل دی جائے جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہو اور دنیا کے نقشے میں پاکستان وہ دوسرا ملک ہے جس کو اسلام کے نام پر قائم کیا گیا۔

ہمارے ملک میں گزشتہ چند برسوں سے ایک عجیب و غریب فضا ءقائم ہے۔ اور تمام پاکستانی چاہنے کے باوجود بھی اپنے آپ کو اس سحر سے جدا نہیں کرسکے۔ ہمارے ملک میں کھلاڑی سیاست کر رہے ہیں، فنکار دین کی تبلیغ کر رہے ہیں، علمائے کرام اسلام کے نام پر اپنا کاروبار چمکا رہے ہیں مسجد کا منبر جہاں سے اسلام اور شریعت کے احکامات کا درس دیا جائے اس سے اپنی سیاست چمکائی جا رہی ہے اور سیاستدان ان تمام لوگوں کو آپس میں لڑوا کر ایک نئی طرح کی سیاست کر رہے ہیں۔ ہمارے ملک کا المیہ یہ رہا ہے کہ جہاں کسی شخص نے چند لوگوں کا مجمع یا ہجوم اکھٹا کر لیا اور اسکے فالورز کی تعداد ایک مقررہ حد سے تجاوز کرگئی تو وہ شخص اپنے آپ کو اس ملک کا رہبر سمجھنے لگا اور اس نے اپنے آپ کو اپنے اندر خود سے یہ محسوس کرنا شروع کر دیا اپنے ان چند سو فالورز کو استعمال کرکے اس ملک میں پریشر گروپ کا کام کر سکتا ہے اس سے قطع نظر کے عام آدمی پر اس کے کیا اثرات ہوں گے ؟۔

ہماری اعلی عدالتوں نے یہ روش اپنا لی ہے کہ ایک ماتحت عدالت اگر کسی کو مجرم قرار دیتی ہے تو اس سے بڑی عدالت اس شخص کو با عزت بری کر دیتی ہے ماتحت عدالتوں کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر عام آدمی کو یہ سوچنے پر مجبور کردیتی ہے کہ کس عدالت کا فیصلہ مانا جائے اور کس کا نہیں؟۔ ہمارے معاشرے اور معاشرتی رویوں میں اخلاق، مساوات ،رواداری ،برداشت ختم ہوگی اور عدم برداشت اس حد تک پروان چڑھ گئی کہ ہم نے اپنی زندگیوں سے مامورات کو نکال کر منہیات کو جگہ دے دی۔ دشمنوں کے سامنے سینہ سپر ہونے کے بجائے اداروں نے آپس کی لڑائی لڑنا شروع کر دی اور اس کا فائدہ کسی ایسی غیر مرئی طاقت کو ہوتا نظر آرہا ہے جس کا مقصد اس ملک میں ایک ایسی غیر یقینی صورتحال پیدا کرنا ہے جس کی وجہ سے لوگوں اور معاشرے کوبے سکون کرنا مقصود ہے۔ ہم نے مساجد کے لاؤڈ سپیکر بند کردیے ، دینی مدارس میں دین کی خدمت کے بجائے دہشت گردی پروان چڑھنے لگی ،دولت کی غیر منصفانہ تقسیم، خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات مگرعدلیہ خاموش ۔جب کہ اس کے برعکس پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت سے ایک بل منظور ہو جائے تو اس کے خلاف آنے والی ہر درخواست کو قابل سماعت کہہ کر قبول کر لینا درخواست گزار سے کبھی اس کی ایمانداری پر سوال نہیں کیا گیا بلکہ اس کو اس بات کی اجازت دے دی گئی کہ وہ جب چاہے جیسے چاہے اپنے حریف اپنے دشمن پر الزام لگائے اور عدالت صفائی کا موقع دیئے بغیر یکطرفہ فیصلہ دے کر اس بات کو باور کروائے کہ وہ ایک سپریم ادارہ ہے۔

ہمیں پھر سے اپنے مامورات اورمنہیات کو سامنے رکھ کر ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت پاکستان کو جتنا زیادہ باہر سے محفوظ اور مضبوط کرنے کی ضرورت ہےاس سے کہیں زیادہ ضرورت پاکستان کو اندر سے مضبوط کرنے کی ہے کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔

خدا کرے میری ارض پاک پر اترے

وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو


ای پیپر