”پیروی عقل اور جھوٹے کا گھر“
02 اپریل 2018

میں نے اپنی زندگی کے تین سال ڈیرہ غازی خان میں گزارے ہیں اور پرائمری سکول اور گورنمنٹ سکول 1سے بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ مگر اس کے بعد سوائے لاہور کے اور کوئی شہر ہماری میزبانی نہ کرسکا، اور ہم سب یہیں کے ہو کررہ گئے ، اور آدھے سے زیادہ خاندان امریکہ نیشنل ہے، بلکہ میرے بڑے بھائی این سی اے سے لندن اور پھر ڈزنی ورلڈ کے ڈیزائن ڈیپارٹمنٹ کے چیف ہیں، ان کا نام امریکہ میں کانگریس کے باہر وہاں بطور امریکی ہیرو بڑی شخصیت کے نام کی وجہ سے کندہ ہے، حالانکہ امریکیوں کا ذہن پاکستان کے بارے میں پراگندہ ہے۔ بات پتہ نہیں کہاں کی کہاں چلی گئی، میں آپ کو بتانا تو صرف یہ چاہتا تھا کہ میرے اُس دور بچگانہ کو بقول حضرت اقبالؒ:
عشق اب پیروی عقل ِ خدادادکرے
آبرو کوچہ¿ جاناں میں نہ برباد کرے
نہ سمجھا جائے کیونکہ ایسا دور تو بعد کا دور ہے، جوصرف مجھ پہ ہی نہیں، سب حساس وحاشیہ نشین پہ حاصل کلام پہ ہے کہ ایسا دور انسان پر ضرور آتا ہے۔
پہن لیا جو لباس برہنگی ہم نے
تو تار تار گریباں رفو بھی کیا کرتے
ویسے بھی اگر دیکھا جائے ، تو جناب حمید ومجید نظامی ، مجیب الرحمن شامی ، جاوید چودھری ، چوہدری عبدالرحمن، احمد ندیم قاسمی ، عطاءالحق قاسمی ، اسد اللہ غالب، حبیب جالب، اشفاق احمد، بانو آپا ،عطاءالرحمن ، سعد اللہ شاہ، وصی محمد شاہ، ارشاد احمد عارف جیسے ان گنت نام، جن کا لاہور میں طوطی بولتا ہے، مگر ان کا تعلق لاہور سے نہیں، میں بتانا یہ چاہتا تھا کہ ان دنوں شہر میں کوئی تقریب ہوتی، کھیلوں کا مقابلہ تھا، یا میلہ ہوتا، ایک بھاری بھر کم ناتواں شخص ، جو پینٹ کوٹ پہنے، تقریب کا میزبان ہوتا تھا، اور مائیک پہ ہمیشہ اسی کا قبضہ ہوتا تھا، وہ ڈی سی آف میں کلرک تھے، مگر اپنی شخصیت کے سحر، اور ڈیل ڈول سے ڈپٹی کمشنر وہی لگتے، مگر خوشامد، چاپلوسی میں کوئی ان کا ثانی نہیں تھا، لوگوں نے اس چمچہ گری والی عادت پر ان کا نام ” سرکاری میراثی“ رکھ دیا تھا۔
اس کی ایک چھوٹی سی جھلک اور مثال سے اندازہ لگائیں ، وہ صبح دفتر جانے کے لیے ڈپٹی کمشنر کو اٹھاتا، تو آہستہ آہستہ سے بغیر دروازہ کھٹکھٹائے کہتا، اٹھیے حضور ”سورج نکلنے کی اجازت چاہتا ہے۔ معاذاللہ
بچپن کی باتیں ذہن میں نقش ہوجاتی ہیں، مجھے یہ باتیں اس لیے یاد آئیں کہ کل میں اپنے ڈرائیور عمران کے ساتھ کینٹ اپنے گھر سے ڈیفنس لالک چوک سے آگے اپنے کزن کے گھر جارہا تھا، تو بلامبالغہ مجھے پونے دو گھنٹے لگ گئے، کیونکہ ساری سڑکیں Under PassاورOver Head Bridge بنانے کے لیے ادھیڑدی گئی ہیں، ڈرائیور زیادہ عمر کا تو نہیں بلکہ نوجوان ہے، کہتا ہے کہ میٹرک کا امتحان نہیں دے سکا تھا، وہ ہروقت ٹی وی کے آگے بیٹھا رہتا ہے، اس سے پاکستان تو پاکستان بیرون ملک ہونے والی، سرگرمیوں، برطانیہ اور روس کی مخاصمت سے لے کر علامہ خادم حسین رضوی کے دھرنے تک سب واقعات پہ نظر ہے۔ اچانک اس نے مجھ سے سوال کردیا اور اپنا بتایا کہ ایک دن میں حجام کی دکان پہ گیا تو اس نے مجھے کہا کہ راولپنڈی دھرنے میں جانا ہے، میں نے اس سے کہا کہ میں پہلے علامہ صاحب کا بڑا معتقد تھا، مگر جب انہوں نے دھرنا دیا، تو ایک ایمبولینس آئی جس میں لوگ ایک انتہائی بیمار بچی کو لے کر ہسپتال جارہے تھے، مگر علامہ صاحب نے خود ایمبولینس کے آگے وہیل چیئر پہ بیٹھ کر اسے گزرنے کی اجازت نہیں دی حتیٰ کہ اس بے چاری بچی کا انتقال ہوگیا ، میں نے حجام سے کہا اس دن سے میں رضوی صاحب کے خلاف ہوگیا ہوں۔
مگر حجام نے کہا کہ ناموس رسول پہ ایک نہیں لاکھوں جانیں قربان کرسکتے ہیں۔ مگر میرا دل اس دن سے انتہائی خراب ہے، کیا اس بچی کے مارنے میں رضوی صاحب کے ظالمانہ رویے کا ہاتھ نہیں ؟ سر آپ کا کیا خیال ہے، میں نے کہا جتنا مجھے پتہ ہے کہ ایک شخص کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے، اور دوسرا یہ کہ انسان کی حرمت ، حرمت کعبہ سے بھی زیادہ ہے میرا جواب سن کر اس نے دوسرا سوال داغ دیا کہ تحریک لبیک یا رسول اللہ کسی بھی تحریک کو یہ نام رکھنا چاہیے تھا، کیونکہ ضروری تو نہیں کہ ہرانسان کو ان کی تحریک سے اتفاق ہو، کچھ لوگ اس کے مخالف بھی ضرور ہوں گے، اور جب وہ نام لے کر اس کے خلاف بات کریں گے، تو کیا یہ توہین کے زمرے میں نہیں آجائے گا ، میں نے اپنے علم کے مطابق اسے اس کا جواب دے دیا مگر قارئین کرام آپ کے ذہن میں اس کا کیا جواب ہے ؟
کیسے توبہ میری ہر رات نہ ٹوٹے واعظ
مجھ سے کیونکر خطا ہوگی کہ انساں ہوں میں
اس کا آخری سوال یہ تھا کہ جیسے آج کل چیف جسٹس اور وزیراعظم کی ملاقات پر لفظ ”فریاد“ پہ تبصرے ہورہے ہیں۔ عمران کا کہنا یہ تھا۔ کہ کیا ہم اتنے فارغ اور کاہل ہوگئے ہیں کہ ایک بے مقصد بات پہ رات دن بحث ومباحثے میں اپنا اور پوری قوم کا وقت برباد کررہے ہیں اور یہ کہ پیپلزپارٹی کے خلاف کوئی بات ہو، تو قمرزمان کائرہ ، اپنی”عادت اٹھکیلوں“ کے باوجود سنجیدہ ہوکر فوراً ٹی وی پہ آکر بیٹھ جاتے ہیں، اور سعید غنی بھی اپنی تمام تر سنجیدگی اور متانت کے باوجود ازخود خدائی خدمت گزار بن جاتے ہیں۔
جبکہ ن لیگ کے خلاف کوئی بھی بات ہو، تو طلال چودھری ، دانیال عزیز ،خواجہ سعدرفیق اور ضعیم حسین قادری ایک لمحہ ضائع کیے بغیر محض اپنا نمبر بنانے کے لیے اور ایک دوسرے سے خوشامد کی مقابلہ بازی کرتے نظر آتے ہیں۔ اور اگر پی ٹی آئی کی بات ہو تو فواد چودھری ،نعیم الحق، میاں محمود الرشید اور سب سے بڑھ کر شیخ رشید، اور عورتوں میں عندلیب، بڑی عجیب وغریب رویے کا مظاہرہ کرتی ہیں لگتا ہے اخلاق ان کے قریب سے بھی نہیں گزرا۔ میں نے اسے کہا کہ مجھے اتنا پتہ ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں میں صرف ہمارے رسول اللہ ﷺ حسن خلق، اخلاق کی تعلیم کی تکمیل کے لیے دنیا میں تشریف لائے تھے اللہ سبحانہ‘ وتعالیٰ کو غروروتکبر کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں، کیونکہ تکبر صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی سزاوار ہے، کیونکہ زمین وآسمان پہ اس کا مکمل اختیار ہے۔
میں دعا مانگ رہا تھا کہ عمران کے کسی اور سوال کرنے سے پہلے گھر آجائے ، مگر اس نے سوال کرہی دیا، بولا پاکستان کا ایسا کون لیڈر یا بڑا سیاستدان ہے جس نے خفیہ شادی نہ کی ہو، یا پھر اس کی انگریزوں کی طرح ”گرل فرینڈ“ نہ ہو مثلاً سعدرفیق صاحب کے بارے میں کہا جاتا ان کی ایک مشہور اینکر سے شادی ہوئی ہوئی ہے، اسی طرح اسحاق ڈار کی شادی ماروی میمن سے ہوگئی ہے۔ قمرزمان کائرہ کی شادی تونہیں تعلقات ایک مشہور اینکر سے تھے جو پروگرام تو بہت اچھا کرتی ہیں مگر تعلقات کے بارے میں سنجیدگی بالکل نہیں دکھاتی اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں مشہور تھا کہ انہوں نے بلیک بیوٹی، سے شادی کی ہوئی تھی، آصف علی زرداری کی شادی کے بارے میں بھی میڈیا میں آتا رہا، میاں نواز شریف کا تعلق یا تعلقات بھی ایک معروف سنگر سے جوڑا جاتا ہے، یوسف رضا گیلانی نے بھی کبھی دنیا کو فانی نہیں سمجھا وہ بھی ایک گلوکارہ کے آگے گلوگیر ہوکر ملتے تھے مشرف، فریال تالپور ،عتیقہ اوڈھو کے بارے میں بھی مشہور ہے۔ اسلام کا تو یہ حکم ہے نکاح کو خفیہ نہیں رکھا جاسکتا۔
عمران خان کی ہر شادی پہ نکاح خواں مفتی سعید ہوتے ہیں۔ کیا ایک ”مفتی “ کو اس مسئلے کا نہیں پتہ جب ان سے سوال کیا جاتا تھا، تو وہ اس کا جواب گول کر جاتے تھے، اس نے کہا کہ میں آپ سے یہ سوال اس لیے کررہا ہوں کہ آپ کا تعلق ٹیلیویژن سے ہے میں نے اسے بتایا کہ مجھے تو صرف یوسف بیگ مرزا کی شادیوں اور تعلقات کا پتہ ہے جنرل مجیب اور مولانا کوثر نیازی کی کہانیاں البتہ ضرور سنی ہوئی ہیں، آخر میں میں نے اسے ڈانٹا کہ گاڑی دھیان سے چلاﺅ، اب میرے بارے میں نہ پوچھنا شروع کردینا بے شک کسی دن ٹی وی یا ریڈیو سٹیشن جاکر نیب یا ایف آئی اے والی چھان بین کر لینا مگر اتنے میں میرا گھر آگیا، وہ کہیں یہ نہ سمجھا ہوا کہ میں نے .... کو گھرپہنچا کے ہی چھوڑا ہے۔


ای پیپر