طوفانی بارشیں، نواز شریف کی واپسی
01 ستمبر 2020 (08:21) 2020-09-01

طوفانی بارشیں یا ٹارزن کی واپسی ،ترجیحی قومی مسئلہ کیا ہے؟ جنہوں نے تعین کرنا ہے وہ کنفیوژن کا شکار ہیں۔ انور مسعود نے کہا تھا۔ ’’وہ جو اٹکے ہوئے کھجور میں ہیں، مان لیں آسمان میں کچھ ہے‘‘ کراچی سمیت پورا ملک کن عذابوں سے دوچار ہے۔ کراچی میں بارش کا 90 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ کرونا وائرس، ڈینگی، قحط سالی، مہنگائی، ہم کن عذابوں سے گزر رہے ہیں۔ چند سال پہلے ایسی خشک سالی کہ لوگ بارش کو تر س گئے۔ نماز استسقاء کی اپیلیں رب کائنات سے دعائیں اللہ میاں مینہ برسا، دعائیں ایسی قبول ہوئیں کہ بخیل سمندر سے اٹھنے والے بادلوں نے کراچی ڈبو دیا۔ 1967ء میں ایسی ہی بارش نے جل تھل کردیا تھا لیکن 60 سال پہلے اور آج کے کراچی میں زمین آسمان کا فرق، آبادی ڈیڑھ دو لاکھ سے ڈھائی تین کروڑ ہوگئی کہاں سمائے گی؟ جہاں جس کے سینگ سمائے وہیں ڈھیر ہوگیا آنے والوں نے گندے نالوں میں کئی منزلہ عمارتیں کھڑی کردیں، اربوں کمائے لندن امریکا گئے اور اگلے جہاں سدھار گئے’’ سب مال پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارا‘‘ بلند بالا عمارتیں بارش کے ریلے میں ڈھیر ہوگئیں، گھروں میں پانی بھر گیا، ریکارڈ توڑ تباہی سڑکوں پر پانی دریائوں کی صورت رواں دواں، کشتیاں، سمندر سے کراچی کی سڑکوں پر آگئیں، بحیرہ عرب میں مون سون سسٹم ختم ہونے میں نہیں آرہا، عرب ناراض ہوگئے ہیں یا سمندر غضب ناک ہے۔ سمندر اپنا پانی واپس لے تو کراچی میں زندگی بحال ہو، نالوں پر تجاوزات کرانے والے غائب ارکان اسمبلی کلفٹن اور ڈیفنس میں اپنے گھروں سے پانی نکالنے میں سرگرداں، افراتفری کا عالم، بارش ہے یا طوفان نوح، سمندر نے دست شفقت ہٹا لیا، پچھلے دنوں ہوائیں کھینچ لیتا تھا اب بادلوں کی طنابیں ڈھیلی کردی ہیں، حکمرانوں کو ان حالات کا علم نہیں یا بند آنکھوں سے حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ کراچی میں مخالف پارٹی کی حکومت ہے اس لیے صرف بیانات پر گزارہ چل رہا ہے، ایک سے زائد بار کہہ چکے کہ کراچی کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے لیکن کھلی آنکھوں سے تیر کر دریا پار کرنے والوں نے مصیبت کی گھڑی میں اپنے آپ کو تنہا پایا۔ کسی نے کہا تھا۔ 

انساں کی آنکھ خشک تھی انساں کے ظلم پر

اب کے پہاڑ روئے تو سیلاب آگیا

سمندر غضب ناک، دریائوں میں طغیانی، سیلاب کی وارننگ، دریا بپھر گئے تو بڑی تباہی ہوگی۔ المیہ بلکہ سانحہ حکومت ان آفات سے نمٹنے کی بجائے’’ ٹارزن ‘‘کی واپسی پر بضد اسے پا بجولاں لایا جائے اور جیل میں ڈالا جائے، 7 سال قید سنانے والا کیفر کردار کو پہنچا۔ سزا قائم آئندہ الیکشن کے بعد تک باقی رہے گی۔ الیکشن آرام سے جیت سکیں گے۔ بازاری لہجہ میں کوئی لفڑا نہیں ہوگا۔ معمولی سیاسی مخالفت پر نشان عبرت بنانے کی رٹ تا حیات نا اہلی، 7 سال قید پر بھی جی نہیں بھرا، چراغ ہستی بجھانے کے منصوبے، پچھتاوا چین نہیں لینے دیتا، عجیب شخص تھا ہاتھوں سے پھسل کر لندن چلا گیا۔ عقل و دانش دھری رہ گئی، مان لیں آسمان میں کچھ ہے، ہاتھوں کی گانٹھیں دانتوں سے کھولنی پڑ رہی ہیں، گالیاں اور کوسنے دینے کے لیے 

کتنے مشیر کتنے ترجمان رکھنے پڑے مقدمات ختم نہیں ہوئے نمبروار آرہے ہیں، جب تک سانس تب تک آس، کبھی تو قابو آئیں گے ہوا یہ ہے کہ نواز شریف صحت مند، لندن میں بیٹھ کر سیاست کر رہے ہیں، شیخ رشید کبھی کبھی سچ بولتے ہیں کہنے لگے میں نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دینے کا حامی تھا۔ تاہم عمران خان کو ان کے باہر چلے جانے کا دکھ ہے حالانکہ اپنوں کی تیار کردہ میڈیکل رپورٹ سے گھبرا کر ہی انہیں باہر جانے کا این آر او دیا تھا، حقیقت یہ ہے کہ انہیں تو نواز شریف کے باہر آنے ہی کا دکھ تھا۔ شیخ رشید نے یہ کہہ کر دکھ بڑھا دیا کہ نواز شریف لندن سے واپس نہیں آئیں گے۔ کیونکہ ہمارا برطانیہ سے تحویل مجرمان کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ بات تو سچ ہے مگر حکومت کے لیے بات ہے رسوائی کی۔ مشرف کے دور میں سعودی عرب چلے گئے تھے 8 سال بعد واپس آگئے اور وزیر اعظم بن گئے۔ بڑے جتنوں سے نا اہل قرار دلوایا، اب لندن چلے گئے اللہ جانے کب واپس آئیں گے۔ تجزیہ نگاروں کو کمال فن دکھانے کے لیے خالی میدان مل گیا۔ حکومت کی اولین ترجیح کیا ہے؟ عوامی مسائل ترقیاتی منصوبے یا نواز شریف کی واپسی حالیہ بیانات، ٹوئٹس، 34 پریس کانفرنسوں، 30 بریفنگز سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ واپسی اولین ترجیح ہے، بقول شیخ رشید عمران خان ضدی ہیں وہ کچھ نہ کچھ کر کے رہیں گے۔ بیمار شیر کہاں بھاگے گا، کب تک بھاگے گا؟ شنید ہے کہ کسی نے نواز شریف کو ہائیڈ پارک میں واک کے دوران حضرت علامہ اقبالؒ کے دو اشعار معمولی ترمیم کے ساتھ سنائے۔

’’ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ہونے والا ہے، دھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میں ’’تو اپنی‘‘ فکر کر بھائی مصیبت آنے والی ہے، تیری بربادیوں کے مشورے ہیں ’’سب ایوانوں‘‘ میں، دروغ برگردن راوی، نواز شریف نے واک کرتے ہوئے رک کر خشمگیں نگاہوں سے شعر سنانے والے کو دیکھا اور جالب کے لہجے میں کہا کہ ’’میں طلوع ہو رہا ہوں تو غروب ہو رہا ہے‘‘ سارا منظر تصوراتی، لیکن پھر وہی سوال کیا نواز شریف واپس آئیں گے؟ کیوں نہیں آئیں گے، دھرتی کے فرزند ہیں ضرور آئیں گے، سمجھنے کی بات ہے، علاج کے لیے گئے ہیں کسی عالمی مقابلے میں ریس میں حصہ لینے نہیں گئے۔ علاج مکمل ہوتے ہی واپسی کے لیے رخت سفر باندھیں گے لیکن شاید سورج غروب ہونے کا انتظار کریں لیکن جب سورج نصف النہار پر ہے اہل وطن پر آگ برسا رہا ہے سارے عذاب مقدر ہیں عوام بھگت رہے ہیں، چیخ رہے ہیں تو فی الحال واپسی مشکل ہی نہیں برطانوی ماہرین کے نزدیک نا ممکن ہے، دل کی بھڑاس نکالی جا رہی ہے کہ حکومت اسحاق ڈار کو تو واپس لا نہ سکی نواز شریف تو اس سے اوپر کی چیز ہیں فواد چوہدری نے تو اوروں کی لندن موجودگی کی نشاندہی کی ہے کوئی آیا؟ کوئی آیا ہے دل زار نہیں کوئی نہیں‘‘ بس دل کو تسلیاں، انا کو تسکین، مقدمات کی بھرمار، ریفرنسوں کے ڈھیر، جب اللہ کو منظور ہوگا تب ہی واپسی ہوگی پریشانی کیا ہے؟ بیمار نواز شریف اسٹریچر پر لیٹے رہتے چائے پینے ہوٹل کیوں چلے گئے واک کرتے دیکھ کر بلڈ پریشر بڑھ گیا۔ دانستہ یا نا دانستہ انہوں نے مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو سے ٹیلیفونک رابطہ کرلیا۔ یاروں کے پلیٹ لیٹس گرنے لگے عجیب شخص ہے علاج کرانے گیا سیر سپاٹے کر رہا ہے، اسی فکر میں موٹے ہوئے جا رہے ہیں چہروں پر سنجیدگی کی چادر تن گئی ہے۔ ارد گرد کے سمجھدار لوگوں نے سمجھایا یا مایوسیوں کی تاریک سرنگ سے روشنی کی لکیر دکھائی دی کہ واپسی کی رٹ چھوڑ کر وزیر اعلیٰ سندھ کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرانی پڑی۔ کراچی کے لیے طویل مدتی منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ ہنگامی پلان پر بھی ایک سال لگے گا۔ سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں، لیکن اوپر  بیٹھے لوگ دن رات کسی پل (برج) کی تلاش میں ہیں تاکہ مشکلات کے حل کا کوئی راستہ مل سکے۔ ایک معروف تجزیہ نگار نے جو ایوانوں کے اندر کمروں میں جھانکتے رہتے ہیں انکشاف کیا ہے کہ ستمبر میں (شاید ستمبر کے وسط تک) کوئی ریلیف پیکج تیار کرلیا جائے گا جس کے تحت ’’ٹارزن‘‘ کی با عزت واپسی ممکن ہوسکے گی۔ اسی پیکج کے تحت مریم نواز کو بھی ریلیف مل سکے گا۔ وزیر اعظم این آر او نہ دینے کی ضد پر قائم حالانکہ جہانگیر ترین اور نواز شریف کسی کے این آر او پر ہی باہر گئے تھے اب کسی دوسرے این آر او کے تحت واپس بلائے جائیں گے معزز رپورٹر اور تجزیہ کار کا انتہائی وثوق کے ساتھ تبصرہ اپنی جگہ لیکن تمام تر موشگافیوں کے باوجود شاید نواز شریف اپنا علاج مکمل کرائے بغیر واپسی کا فیصلہ نہیں کریں گے۔ جہاں تک ریلیف پیکج کا تعلق ہے ستمبر آگیا ہے دیکھا جائے گا۔


ای پیپر