01 ستمبر 2020 (08:20) 2020-09-01

وزیرِ اعظم عمران خان سمیت حکمران جماعت کے بعض مقتدر وزراء، اور کچھ دوسرے سینئر راہنما جس طرح اپوزیشن کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ ترین قیادت پر کیچڑ اُچھالتے رہتے  ہیں، انہیں ملکی وسائل کو لوٹنے اور ملک کو معاشی اور اقتصادی لحاظ سے اس حالت تک پہنچانے کا ذمہ دار قرار دیتے رہتے ہیں اور اس کے ساتھ انہیں این آر او مانگنے کا خواہشمند اور کسی بھی صورت میں اُنہیں این آر او نہ دینے کے اعلانات کرتے رہتے ہیں۔ اس صورت میں اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کی طرف سے حکومت کے ساتھ کسی طرح کا تعاون یا پارلیمنٹ میں قانون سازی میں کسی طرح کی معاونت بعید از امکان اگر نہ بھی ہو تو انتہائی دشوار اور مشکل ضرور سمجھی جا سکتی ہے۔ اس کے باوجود ان اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ قومی اسمبلی نے پاکستان کو ـ"فنانشل ایکشن ٹاسک فورسـ" (FATF) کی گرے لسٹ سے نکلوانے کے لیے قومی اسمبلی میں کی جانے والی قانون سازی میں کسی طرح کی رخنہ اندازی نہیں کی اور حکمران جماعت منی لانڈرنگ کے خلاف موجودہ قوانین میں اپنی مرضی اور ترجیح کے مطابق ترامیم بغیر کسی بحث و مباحثے کے منظور کروانے میں کامیاب رہی تو ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اہم حکومتی وزراء مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اس تعاون کو سراہتے اور ان کا شکریہ ادا کرتے لیکن اُنہوں نے اس کی بجائے انہیں طعنے دینے اور  FATFکی طرف سے پاکستان کو گرے لیسٹ میں ڈالنے کا  ذمہ دار قرار دینے کی گردان دہرانی شروع کر دی۔ وفاقی وزیرِ خارجہ اور تحریکِ انصاف کے سینئر راہنما شاہ محمود قریشی اس ضمن میں پیش پیش رہے اور انہوں نے اپنی چرب زبانی اور خطیبانہ اندازِ تخاطب کے جوہر دیکھاتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کو ہدف تنقید بنانے ، ان کے راہنماوں کو منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے اور پاکستان کو FATFکی گرے لسٹ میں ڈلوانے کا ذمہ دار قرار دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ یہی کچھ فریضہ سینٹ میں قائدِ ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کچھ زیادہ ہی جوش و جذبے اور خطیبانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سر انجام دیا۔  اس صورتِ حال کی وجہ سے ان دونوں اپوزیشن جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ ن کے قائدین کو بڑی خفت کا سامنا کرنا پڑا اور تبصرہ نگاروں اور کالم نگاروں کی طرف سے سو جوتے اور سو پیاز کھانے کے طعنے بھی سننے پڑے۔ اس دوران قومی اسمبلی کے ایوان میں بعض نا خوشگوار واقعات بھی رونما ہوئے۔ سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی جو دھیمے مزاج کے مالک ہونے کی شہرت رکھتے ہیں قومی اسمبلی میں تقریر کر رہے تھے تو انہیں چور چور کے طعنے سننے 

پڑے۔ جس پر انہوں نے برجستہ جواب دیا کہ چور کہنے  والے کا باپ چور۔ اس پر قومی اسمبلی میں بدمزگی کا پیدا ہونا لازمی امر تھا جو بدقسمتی سے شاہد خاقان عباسی اور سپیکر جناب اسد قیصر کے درمیان تلخ اور ناخوشگوار جملوں کے تبادلے پر منتج ہوئی۔ 

اس پس منظر اور پیش منظر میں قومی اسمبلی سے پاس ہوئی ترامیم کو سینٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جانا تھا تو عام تاثر یہی تھا کہ سینٹ میں حکومت کو اکثریت حاصل نہ ہونے کے باوجود ترامیم کے اس بل کو منظور کروانے میں کچھ زیادہ مشکل پیش نہیں آئے گی۔ اس لیے کہ مسلم لیگ ن کے سینئر راہنما اور پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف ایک روز قبل قومی اسمبلی میں اپنی خطاب میں FATFکے حوالے سے قانون سازی میں مسلم لیگ ن کے تعاون کی وجہ بتا چکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی سے متعلق ادارے چند قوانین کو سُرعت سے منظور کروانا چاہ رہے ہیں کیونکہ پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے ان قوانین کی سخت ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو ذہن میں رکھتے ہوئے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی عمران خان کی حکومت سے مطلوبہ قانون سازی کے لیے تعاون فراہم کرنے پر آمادہ ہوئیں۔ خواجہ آصف کے اس غیر جذباتی مگر انکشاف بھرے خطاب کے بعد حکومتی زعمااور ترجمان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے خلاف بیان بازی اور طعن و تشنع سے اجتناب کرتے لیکن تحریکِ انصاف کے الزام تراشی کی مخصوص فکر و سوچ  کے مالک راہنماؤں سے ایسی توقع کیوں کر رکھی جا سکتی تھی۔ 

اس ماحول اور فزا میں سینٹ میں ترمیمی بل منظوری کے لیے پیش کیا گیا تو پھر بھی توقع یہ تھی کہ سینٹ کے ارکان بھی کسی بڑی ردوکد کے بغیراس کی منظوری دیے دیں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا تو اس کی بڑی وجہ بھی حکومتی  زعما کی طرف سے قومی اسمبلی میں اس بل کی منظوری کے لیے مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے تعاون بھرے رویے کو پائے حقارت سے ٹُھکرا دینے کا رویہ تھا۔ وزیرِ اعظم کے مشیر ڈاکٹر بابر اعوان نے یہ بل سینٹ کے ایوان میں پیش کیا تو پیپلز پارٹی کے جواں سال سینٹر مصطفی نواز کھوکھر نے اپنی نشست پر کھڑے ہو کر نرم الفاظ مگر ٹھوس لہجے میں یہ مطالبہ کر دیا کہ قائدِ ایوان ڈاکٹر وسیم شہزاد جنہوں نے گزشتہ ہفتے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اطمینان کے لیے کی جانے والی قانون سازی کی منظوری کے بعد اس ایوان میں اپنے خطاب میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے تعاون کو سراہنے کی بجائے اُلٹا ان کی اعلیٰ قیادت کے بارے میں حقارت بھرے انداز میں رکیک جملے کسے۔ اب انہیں اپنے رویے پر معذرت کرنی ہوگی تو ترمیمی بل کی منظوری کے لیے مطلوبہ تعاون مہیا کیا جائے گا۔ صورتِ حال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ڈاکٹر وسیم شہزاد معذرت پر تیار ہو جاتے لیکن اس کی بجائے انہوں نے گزشتہ ہفتے کی اپنی تقریر پر ڈٹے رہنے کو ترجیح دی اور ببانگ دہل یہ اعلان کیا کہ وہ اپنی تقریر کے ایک ایک لفظ پر اب بھی قائم ہیں۔ اس کے بعد ظاہر ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ارکانِ سینٹ بل کی منطوری میں کیسے تعاون کر سکتے تھے۔ پیپلز پارٹی کے سینٹر مولا بخش چانڈیو نے ڈاکٹر وسیم شہزاد کو ہدف تنقید بنایا تو مسلم لیگ ن کے بزرگ راہنما اور سینٹ میں قائدِ حزب اختلاف راجہ ظفر الحق بھی ڈاکٹر وسیم شہزاد کے خلاف سخت رویہ اپنانے پر مجبور ہو گئے۔ 

سینٹ میں قائدِ ایوان ڈاکٹر وسیم شہزاد کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ترمیمی بل تو منظور نہیں ہو سکا ہے۔ اگلے دنوں میں کچھ بعید نہیں کہ اپوزیشن قومی مفاد میں اس بل کی منظور کے لیے تعاون پر آمادہ ہو جائے۔ لیکن فی الحال اپوزیشن (مسلم لیگ ن  اور پیپلز پارٹی) کو ڈاکٹر وسیم شہزاد کا ممنون ہونا چاہیے کہ ان کے جارحانہ رویے کی بناء پر یہ پارٹیاں سو جوتے اور سو پیاز کھانے کی اصطلاح اپنے اوپر چسپاں کروانے سے بچ گئی ہیں۔


ای پیپر