عوام اور پاکستان کہاں ہیں؟
01 ستمبر 2020 (08:20) 2020-09-01

تحریک آزادی میں ملنے والے دکھ اور صدمے ابھی مکمل نہ ہو پائے تھے کہ تقسیم ہند سے جو وطن ملا وہ 23 سال بعد مزید تقسیم ہو گیا۔ 1947ء میں مسلمانوں کو آزادی ملی کہ نہ ملی وطن مل گیا … قوم بن پائی کہ نہ قوم آزاد ہو ئی کہ نہ ہو ئی اس کا فیصلہ مؤرخ اور عدالتیں بھی کرتی رہتی ہیں لیکن یہ بات طے ہے کہ کشمیر اور کشمیری بد ترین غلامی میں مبتلا کر دیئے گئے مودی کھل نائیک کی بھرپور کوشش ہے کہ کشمیری ہی نہیں چار، پانچ مزید قومیں آزادی حاصل کر لیں۔ کہے دیتے ہیں کہ خطے کے نقشے بدلنے کو ہیں۔ نقشہ جس میں بھارت نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا آپ پیش کرے گا۔ کشمیر کی وادی خطے کی سب سے خوبصورت سوشل ویلفیئر مملکت ہو گی۔ میرے پاس کوئی انفارمیشن تو نہیں البتہ میرا وجدان کہتا ہے 72 سال سے مظلوم بالآخر تنگی کے بعد آسانی کے دور میں داخل ہوں گے۔ نئے پاکستان کے حالات کے متعلق بات اس لیے نہیں ہو سکتی کہ جو نجاستیں جن عہدوں پر براجمان ہیں کون ان کا ذکر کرے۔پرانے پاکستان میں لوگ پرانے ہندوستان پر انگریز کے دور کو یاد کرتے رہے، جس میں ترقی تھی ، انصاف تھا۔ ریلوے، نہری نظام ،مالیاتی نظام، طبی نظام، دیوانی و فوجداری قوانین وغیرہ اپنی روح کے مطابق عوام کو سہولیات میسر کر رہے تھے۔ آزادی کے بعد محسوس کیا گیا کہ تحریک آزادی کے خواب زیادہ خوبصورت لگنے لگے کیونکہ اپنے حکمرانوں کی ریشہ دوانیاں، جولانیاں اور کہانیاں غلامی کے دکھوں کو پس پشت ڈالنے لگیں جبکہ اب لوگ پرانے پاکستان کو یاد کرنے لگے۔ جس کے متعلق بہت بات کی گئی مگر اصلاح نہ ہوئی۔ لہٰذا پرانا پاکستان آپ کو اب نیب کے مقدمات، عدالتوں، جیلوں اور جلا وطنیوں میں ملے گا جبکہ نیا پاکستان پرانے پاکستان سے کہیں بدتر ہے۔ نئے پاکستان اور مختلف طرز حکمرانیوں کی بدولت تمام اداروں، شعبوں اور معاشرت کے کردار کا فیصلہ اب عدالت نہیں بلکہ عدالتوں کا فیصلہ بھی مؤرخ کرے گا۔ بس! ڈر یہ ہے کہ جتنا خوف ہے، جس قدر ہر شخص کے ساتھ خوف کا بم باندھ رکھا ہے، کوئی سچ لکھ پائے گا بھی کہ نہیں؟ ایسا نہ ہو کہ اپنے مؤرخین اورمقررین تو سچ کے برعکس بولتے اور لکھتے رہیں مگر ہماری کہانی کوئی اور لکھے۔اور جب کوئی دوسرا لکھتا ہے تو پھر جس کے متعلق لکھی جائے، اس کا موجود ہونا یا نہ ہونا کوئی معانی نہیں رکھتا کیونکہ وطن عزیز میں ایک عرصہ سے سب دیکھ اور بھگت رہے ہیں کہ کسی سٹیک ہولڈر کی سوچ میں کہیں دور دور بھی پاکستان اور اس کے عوام نہیں ہیں۔ لوٹ مار، اقتدار کی توسیع، اختیار کا ارتقاء ،سیاسی مقاصد جو کہ ذاتی ہیں، خوشامد پسندی، خود ستائشی، خوشامدد گری اس حد تک کہ انسانوں کو اوتار اور دیوتا بنا ڈالا۔ اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھے کسی ایک دیوتا کے دل و نظر اور ذہن میں پاکستان اور اس کے عوام موجود نہیں ہیں بس اپنا اقتدار موجود ہے۔ عوام کی بات محض سین کی ڈیمانڈ ہے۔ ذاتی مفاد، خود نمائی اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہے پاکستان نہیں ہے۔ ایسے میں نئے پاکستان کی حالت مولانا رومیؒ کی ایک تحریر کردہ واقعہ سے مماثلت پاتی ہے۔ 

’’کمینہ صفت وزیر اور فرعون کے وزیر ہامان کے کردار میں مشابہت‘‘

فرعون کئی مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی گفتگو میں نرم ہوا لیکن اس کا وزیر پھر اس کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مدمقابل کر دیتاتھا۔ نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کلام ایسا پر تاثر تھا کہ اس کو سن کر پتھر سے بھی دودھ ٹپکنے لگتا لیکن ہامان کی طبیعت بہت کینہ جو تھی۔ فرعون جب ہامان سے مشورہ کرتا تو وہ فرعون کو حضرت موسیٰ  ؑ کی پیروی سے روک دیتا۔ 

ہامان بھڑکانے کے لیے کہتا کہ اب تک تو آپ شاہ مصر ہیں لیکن حضرت موسیٰ  ؑ کی پیروی کر کے آپ ان کے غلام بن جائیں گے۔ اے مخاطب تیری عقل سلیم تیری خواہش سے مغلوب ہے۔ جس طرح فرعون ہامان سے مغلوم تھا۔ خواہش نفسانی مکاری سے اس نصیحت کو ٹال دیتی ہے اور عقل سے کہتی ہے کہ یہ بات بہتر نہیں ہے اس پر فریفتہ نہ ہو۔ 

اس شاہ پر افسوس ہے جس کا وزیر ہامان جیسا ہو ان دونوں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ وہ شاہ مبارک باد کے لائق ہے جس کا آصف جیسا وزیر ہو۔ جب بادشاہ بھی منصف ہو اور وزیر بھی بھلا ہو تو نور بالائے نور ہے۔ حضرت سلیمان ؑ اور ان کا وزیر آصف نور بالائے نور کا مصداق تھے۔ شاہ فرعون ہو اور وزیر ہامان تو بدبختی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ایسے شاہ کے لیے قیامت میں تاریکی بالائے تاریکی ہو گی۔ نہ وہاں عقل کام آئے گی اور نہ دولت۔ اگر کمینوں میں تجھے کوئی سعادت نظر آئے تو اسے میرا سلام کہہ دے۔ شاہ بمنزلہ روح کے اور وزیر بمنزلہ عقل کے ہے اگر عقل خراب ہو جائے تو روح باقی نہیں رہتی۔ عقل  جو فرشتے کی طرح ہے اگر ہاروتی فطرت اختیار کر لے تو اس کے کارنامے خراب ہوتے ہیں۔ تو خواہش نفسانی کو وزیر نہ بنا ورنہ تیری روح عبادت چھوڑ دے گی۔ انسان کی خواہش نفسانی حریص ہوتی ہے اور دنیاوی معاملات کی فکر کرتی ہے۔ عقل سلیم ہمیشہ آخرت کے معاملے کو سوچتی ہے۔ اس کی دونوں آنکھیں اپنے انجام پر نظر رکھتی ہیں۔ خواہ انسان میں خود بھی عقل ہو لیکن عقل کاملہ کو ضرور شریک مشورہ کر لے۔ انسان کی اپنی عقل اور عقل کامل دونوں مل کر مصائب سے نجات دلا دیں گے۔ مگر حکمرانوں (حکمرانوں سے میری مراد حکمران طبقے جن میں تمام ادارے میڈیا ، کلرک سے لے کر اوپر تک سب شامل ہیں) کی عقل میں اس وقت سیاست اور ذاتی مفاد گھر کر چکے ہیں، عوام کے مصائب، آہیں، چیخیں، دکھ، درد ان کو سنائی دیتے نہ نظر آتے ہیں۔ یہ بصارت سے محروم اور بصیرت سے بے بہرہ ہو چکے ہیں۔ افسوس کہ ان کے دل بھی احساس سے محروم ہو گئے۔ ورنہ وطن عزیز کے عوام آج یوں لاوارث ہوتے نہ بے یقینی اور بدعنوانی ملک پر راج کرتی۔ جس مریض کو کوئی دوا راس نہ آئے، اس کا انجام کیا ہوتا ہے؟ جس معاشرت اور ملک کو کوئی طرز حکمرانی جمہوریت ہو یا آمریت (اکثر اوقات دونوں اکٹھے) راس نہ آئیں، اس کا انجام بھی اسی مریض جیسا ہوتا ہے۔ لہٰذا ایسے طرز حکمرانی کو مزید سہنے اور برداشت کرنے سے ہم باز آئے، جس میں پاکستان اور عوام کہیں دور دور تک موجود نہ ہوں۔


ای پیپر