بجھے ہوئے ضمیر کو حرارت کی ضرورت
01 ستمبر 2020 (08:19) 2020-09-01

ایک شخص ، جو اپنے دوستوں کے ساتھ باقاعدگی سے محفل میں شریک ہوتا تھا ، اچانک کسی اطلاع کے بغیر اس نے آنا چھوڑ دیا۔ کچھ دنوں کے بعد ، ایک انتہائی سرد رات میں اس محفل کے ایک بزرگ نے اس سے ملنے کا فیصلہ کیا اور اس کے گھر گیا۔وہاں اس نیاس شخص کو گھر میں تن تنہا ایک آتشدان کے سامنے بیٹھا ہوا پایا۔جہاں ایک روشن آگ جل رہی تھی۔ ماحول کافی آرام دہ تھا۔ اس شخص نے مہمان کا استقبال کیا۔ دونوں خاموشی سے بیٹھ گئے، اور آتشدان کے آس پاس رقص کرتے شعلوں کو دیکھتے رہے۔کچھ منٹ کے بعد مہمان نے ایک لفظ کہے بغیر ، جلتے انگاروں میں سے ایک کا انتخاب کیا جو سب سے زیادہ چمک رہا تھا ، اس کو چمٹے کے ساتھ سائیڈ میں الگ رکھ دیا۔اور پھر بیٹھ گیا۔ میزبان ہر چیز پر دھیان دے رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں ، تنہا انگارے کا شعلہ بجھنے لگا ، تھوڑی ہی دیر میں جو پہلے روشن اور گرم تھا کوئلے کے کالے اور مردہ ٹکڑے کے سوا کچھ نہیں رہ گیا تھا۔

سلام کے بعد سے بہت ہی کم الفاظ بولے گئے تھے۔ روانگی سے پہلے ، مہمان نے بیکار کوئلہ اٹھایا اور اسے دوبارہ آگ کے بیچ رکھ دیا۔ فوری طور پر ، اس کے چاروں طرف جلتے ہوئے کوئلوں کی روشنی اور حرارت نے اسے دوبارہ زندہ کر دیا۔ جب مہمان روانگی کے لئے دروازے پر پہنچا تو میزبان نے کہا: ’’آپ کی آمد کا اور آپ کے خوبصورت سبق کے لئے شکریہ، میں جلد ہی آپ کی محفل میں واپس آؤں گا۔‘‘

محفل کیوں بجھ جاتی ہے…؟

شہر کیوں برباد ہوتے ہیں ؟قومیں کیوں زوال کا شکار کیوں ہوتی ہیں ؟آفات اقوام کا مقدر کیوں بنتی ہیں ؟ان تمام سانحات اور حادثات کے پیچھے ایک بہت بڑی بات اور راز پوشیدہ ہے ؟وہ راز اور بات دراصل یہ ہے کہ فطرت کی برداشت سے جب کوئی غیر فطرتی عمل باہر ہو جاتا ہے تو پھر فطرت، قدرت اپنے گنہگار بندوں کو راہ راست پر لانے، انہیں سبق دینے اور راہ مستقیم دکھانے کے لیے اپنی طاقت اور جلال و رعب دبدبے کا عشرِ عشیر دکھاتی ہے اور بنی نوع انسان کی بنیادیں ہل جاتی ہیں اور ٹڈی دِل انسان چیخ و پکار پر اتر آتا ہے… 

کراچی شہر 1984ء تک عالم میں انتخاب تھا علم ادب اور محبتوں کا ایک خوبصورت شہر اس کی منفرد تہذیب وثقافت  کے اپنے رنگ تھے۔ کراچی روشنیوں کاشہر جہاں امن و آشتی کے سایہ میں راتیں جاگتی تھی۔ فنکاروں ہنرمندوں کی ہنستی مسکراتی زندگیوں میں رس گھولتے گیت خوش رنگ تتلیاں چہکتے پرندے گھنے سرسبز درخت کھلتے پھولوں سے معطر ماحول کراچی کی آواز اس کے فیصلے پاکستان کے سیاسی ایوانوں میں گونجتے تھے۔ آمریت کے خلاف جمہوریت کاعلمبردار کراچی ہمیشہ قیادت کرتارہا۔ آگ اور خون کے دریا پار کرکے آنے والے مسلم مہاجروں کاشہر کراچی… کس نے تباہ کیا؟ 

تعصب اور عصبیت پھیلاکر قوم پرستی کی آگ بھڑکانے والوں نے حقوق کے نام پر جینے کا حق چھین لیا بھتہ، اغوا برائے تاوان، بوری بند لاشیں، ظلم و تشدد کے ہاتھوں یرغمال شہر پر کس کاراج تھا؟ بلدیاتی اداروں اور صوبائی حکومت سے وفاقی حکومت اور سینٹ تک طویل مدت گورنر… قیادت کس کی تھی ؟ ایک اشارے میں قوت کا مظاہرہ اس شہر کی زندگی مفلوج کردیاکرتاتھا۔ کرفیو ہڑتالیں آگ کے بھڑکتے شعلوں میں موت کا رقص کون بھول سکتاہے؟ سوختہ لاشیں بلکتے معصوم یتیم بچے، چوڑیاں توڑتی سہاگنیں، بے گناہ جوان لاشوں پر بوڑھی لاچار امیدوں کاماتم ، غنڈوں اور غارت گروں کے ہاتھوں اس شہر پر کیاکیا ستم کے پہاڑ توڑے گئے۔

کون جواب دے گا کہ بھگوڑی قیادت کے اشاروں پر اس شہر کو لوٹنے والے آج بھی کینیڈا دبی امریکہ میں عیش کررہے ہیں اور پاکستان مردہ باد کہنے والے غدار کی باقیات آزاد ہے۔ 12 میں اور بلدیہ فیکٹری میں زندہ جلنے مزدوروں کا حساب کون لے گا۔ مہاجر عوام سوچیں اپنوں کے نام پر اپنے ہی کیا کھیل کھیلتے رہے۔ اپنی رہنمائی کیجئے منزل آپ کی منتظر ہے۔ بجھے ہوئے کوئلے کو حرارت کی ضرورت ہے۔ایمان کی حرارت کی ضرورت ہے۔ خوف خدا کی ضرورت ہے۔ حکمرانوں کو اپنے سوئے ہوئے ضمیر کو جگانے کی ضرورت ہے۔ انسانیت اور انسان کے روپ کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ قدرت کے قوانین پر عمل پیرا ہونے ضرورت ہے۔ اگر یہ تمام حرارتیں انسانوں کے بجھے ہوئے ضمیروں میں حرارت پیدا کر دیتی ہیں تو مسائل اور آفات آپ سے کوسوں دور بھاگ جائیں اور عالم رنگ و بو کی تمام رونقیں بحال ہو جائیں گی۔


ای پیپر