ساکھ اورشُکر!
01 ستمبر 2020 2020-09-01

شکرکا مقام ہے نویں اور اور دسویں محرم الحرام اِس بار بھی پورے ملک میں خیروعافیت سے گزرگئے، کوئی ناخوشگوار واقعہ یا حادثہ نہیں ہوا، محرم الحرام کا پورا مہینہ اس اعتبار سے بہت حساس ہوتا ہے چند برس قبل اِس مہینے میں دہشت گردی کا کوئی نہ کوئی ایسا سانحہ ضرور ہوجاتا تھا جس سے عالمی سطح پر پاکستان مزید کمزور ہوجاتا، اِس کا کئی حوالوں سے خصوصاً مالی اعتبار سے پاکستان کو بہت نقصان ہوتا۔ آج سے چند برس قبل جب پاکستان میں دہشت گردی عروج پر تھی، امریکہ میں میری ایک معروف فوڈ چین کے مالک Tummyسے ملاقات ہوئی، میں نے اُسے پاکستان میں انویسٹمنٹ کرنے کے لیے کہا، اُس نے جواب دیا ”ایک تو یہ پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے ممکن نہیں، دوسرے کرپشن کی وجہ سے ممکن نہیں ،اُس نے کہا ”دنیا میں کرپشن کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں، پاکستان میں کرپشن نہیں کرپشن کا ”کاروبار“ ہوتا ہے، ہم یہ کاروبار نہیں کرسکتے“ ....میں سمجھتا ہوں پاکستان کو جتنا نقصان دہشت گردی نے پہنچایا اُس سے کہیں زیادہ کرپشن نے پہنچایا، اب کرپشن کم ہونے کے ”حکمرانی دعوے“ سامنے آرہے ہیں، جو بہت حدتک غلط ہیں، بدقسمتی سے یہاں ایک کرپشن ختم ہوتی ہے دوسری شروع ہو جاتی ہے، کرپشن کی کئی قسمیں ہیں، مالی کرپشن فرض کرلیں”حکمرانی دعوﺅں“ کے مطابق اگر کم یا ختم ہو گئی ہے تو ”نااہلی کی کرپشن“ شروع ہوگئی ہے، جو دن بدن مالی کرپشن سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی جارہی ہے، البتہ یہ درست ہے دہشت گردی پاکستان سے بہت حدتک ختم ہوگئی ہے، اِس کا کریڈٹ ظاہر ہے ہمارے سکیورٹی اداروں خصوصاً افواج پاکستان کو جاتا ہے، عوام اور پولیس نے جو قربانیاں دیں وہ بھی لائق تحسین اور ہمیشہ یادرکھی جانے والی ہیں، .... بہرحال میں دہشت گردی کے خاتمے میں افواج پاکستان کے کردار کی بات کررہا تھا، بے چاری ” سیاسی قوتیں“ بلکہ ”سیاسی کمزوریاں“ ایسے معاملات میں میٹرہی نہیں کرتیں، سیاسی حکمرانوں کو ایسے حساس معاملات پر ہونے والی ایک آدھ غیراہم میٹنگ میں بیٹھا کر جانا ہے تاکہ اُن بے چاروں کی تھوڑی بہت ساکھ بچ جائے، ملک کے جتنے حساس معاملات ہیں اُن میں فیصلہ سازی صرف ایک ادارہ کرتا ہے، بلکہ غیرحساس معاملات کی فیصلہ سازی بھی اب اُسی ادارے کے پاس ہے، ہمارے سیاسی حکمران اس پر بھی خوش ہیں کہ چلیں اُنہیں سوائے پروٹوکول وغیرہ انجوائے کرنے کے اور کوئی کام نہیں کرنا پڑتا ، سنا ہے ایک بار کسی سے کہا گیا ”ہم آپ کو وزیراعظم بنادیں گے۔ وہ بڑی معصومیت سے بولا ” اوس توں بعد میں کی کراں گا؟“ (اُس کے بعد میں کیا کروں گا؟).... جہاں تک محرم الحرام سکون سے گزر جانے کا تعلق ہے اِس پر تمام سکیورٹی ادارے، کچھ خفیہ ادارے، خصوصاً ہماری پولیس خصوصی تحسین کی مستحق ہے، یہ اللہ ہے جو عزت ولاج وغیرہ رکھ لیتا ہے ورنہ پاکستان بھر میں فیلڈ میں بے شمار ایسے ایسے نکمے پولیس وسول افسران تعینات ہیں، اُن کی موجودگی میں کسی اچھائی یا بہتری کی توقع کرنا ناممکن ہوتا ہے، .... ویسے میں سوچ رہا تھا ہم اپنی پولیس کو جتنا چاہیں گندہ کہہ لیں، یا جھوٹے سچے واقعات گھڑ کے اُنہیں گندہ کرنے کی کوشش کرلیں۔ اس حقیقت سے منہ نہیں موڑا جاسکتا پولیس ملازمین اپنی ہمت سے زیادہ کام کرتے ہیں، لاہور میں تعینات ایک ایس ایچ او مجھے بتارہا تھا اُس کی والدہ گزشتہ دس روز سے جناح ہسپتال لاہورمیں داخل ہیں، ان دس دنوں میں محرم کی ڈیوٹی کی وجہ سے صرف ایک بار ہی اُن سے ملنے جاسکا۔ اُس کے علاوہ بھی بے شمار پولیس ملازمین اور افسران ایسے ہوں گے جنہوں نے پوری جانفشانی سے کام کیا، اور صرف محرم الحرام کے حوالے سے ہی اپنی ڈیوٹی یا فرائض انجام نہیں دیئے، دیگر معاملات پر بھی اِس دوران اُن کی پوری گرفت تھی، میں اِس ضمن میں ایک مثال دینے لگا ہوں، دسویں محرم کو ایک عزیز اسد قریشی نے فیس بک پر ایک ویڈیو مجھے ٹیگ کی جس میں راولپنڈی کے چند پولیس ملازمین ایک عام شہری (موٹرسائیکل سوار) پر ناجائز تشدد کررہے ہیں، میںنے وہ ویڈیو اس استدعا کے ساتھ سی پی او راولپنڈی احسن یونس (ڈی آئی جی) کو واٹس ایپ پر بھیج دی وہ اس کا نوٹس لیں، میرا خیال تھا دسویں محرم کی وجہ سے وہ شاید واٹس ایپ فوراً نہ دیکھ سکیں، یا اس واقعے کا فوری نوٹس نہ لے سکیں، پر میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب اگلے ہی لمحے انہوں نے مجھے وہ آرڈربھجوادیئے جس کے تحت اُن قصور وار پولیس ملازمین کو معطل کرکے اُن کے خلاف کارروائی کا حکم میرے واٹس ایپ کرنے سے پہلے ہی وہ دے چکے تھے، سو عرض یہ ہے ہمیں اپنی پولیس کو گندہ کرنے یا گندہ کہنے کی عادت سی پڑ گئی ہے ورنہ کئی معاملات میں پولیس سے زیادہ گندگی کا مظاہرہ ہم کرتے ہیں، اب تو محرم الحرام میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں، ہم نے محرم الحرام کا وہ زمانے بھی دیکھا ہوا ہے جب محرم الحرام میں ”خصوصی سکیورٹی انتظامات کیا”سادہ سکیورٹی انتظامات“ بھی نہیں کیے جاتے تھے۔ محرم الحرام کے جلوسوں کی حفاظت کے لیے کوئی سڑک بند ہوتی تھی نہ ہی رینجرز وغیرہ طلب کی جاتی تھی، زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا تھا جس علاقے سے محرم الحرام کا جلوس گزرنا ہوتا اس علاقے کا ایس ایچ او جلوس کے ساتھ ہوتا تھا میں کبھی کبھی ”قربان پولیس لائن“ میں کسی دوست افسر سے ملنے جاﺅں تو سخت سکیورٹی کے مراحل سے گزرتے ہوئے مجھے اکثر وہ زمانہ یاد آجاتا ہے جب یہی ”قربان پولیس لائن“ گلبرگ سے مال روڈ پر جانے کے لیے عام شہریوں کا ”شارٹ کٹ“ ہواکرتا تھا، .... پھر پاکستان آہستہ آہستہ دہشت گردی کی زد میں آتا گیا، ہمارے سب راستے بند ہوتے گئے، ہمارے صرف منہ کھلے رہ گئے، ہمیں آج تک صحیح طرح پتہ ہی نہیں چلنے دیا گیا یہ دہشت گرد کون تھے؟ کہاں سے آئے تھے؟ چلے کہاں گئے؟؟؟


ای پیپر