بے بالوں، والوں کو ہم زلف کیوں کہا جاتا ہے؟
01 ستمبر 2020 2020-09-01

 جب سے نیا پاکستان بنا ہے، الحمد للہ نہ سوچ پہ قدغن ہے، نہ کسی عمل پہ پابندی ہے، بلکہ ہماری کامیاب خارجہ پالیسی کی وجہ سے اور ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ادائیگی بیان والفاظ اور منہ کی جنبش فاتحانہ اور بناﺅ وبگاڑ کی بدولت ہمارے سعودی عرب سے اظہار یکجہتی کے مناظر بھی منظر عام پہ آنا شروع ہوگئے ہیں، کہ روشن خیال وطن عزیز اور جدید روشن خیال المملکت سعودیہ العربیہ میں معاشرتی صورت حال ایک جیسی ہونی شروع ہوگئی ہے، پاک وطن میں بائیس سال کی جدوجہد مخلوط رقص ووجد کے کارنامے اب ”پاک سرزمین“ پہ بھی ہونے شروع ہوگئے ہیں اور وہاں بھی یہاں کی طرح فارم ہاﺅسززمیں ہنگامہ ہے کیوں برپا، تھوڑی سی جو پی لی ہے، ڈاکہ تو نہیں ڈالا، چوری تو نہیں کی ہے کے مناظر منظرعام پہ آنا شروع ہوگئے ہیں، اور وہاں بھی چھاپے پڑنے کی آوازیں، آہ وبکا کی شکل اختیار کرتی جارہی ہیں ۔ 

قارئین ، بہتر یہی ہے کہ محرم کا مہینہ ہے، اپنے موضوع پر ہی توجہ مرکوز رکھوں، مبادا کہیں ایسا نہ ہو، کہ بنتے، اور بگڑتے تعلقات ”تشنج“ کا شکار نہ ہوجائیں، ویسے آپس کی بات ہے اور چڑیا کا کہنا ہے کہ زائرین سے ”ٹریلن ڈالرز“ کمانے والا پاک ملک دوسرے پاک ملک سے تعلقات مسلمانہ یکایک منہدم نہیں کرسکتا کیونکہ پاکستان سے حج اور عمرے پہ جانے والی زائرین کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے، ویسے بھی پاکستان جو بنگلہ دیش بننے سے پہلے دنیامیں سب سے بڑا مسلمان ملک تھا، اب دوسرے نمبر پر آگیا ہے، ان کے زرمبادلہ سے سعودیہ کبھی بھی محروم نہیں رہے گا۔ لہٰذا قارئین چونکہ بہت سے الفاظ عربی میں اردو کے بھی ہیں، لہٰذا اردو جس کو ہم سمجھتے ہیں، وسیع زبان ہے، اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ یہ ہمارے وطن عزیز کی قومی زبان بھی ہے، میرے ذہن میں آیا ہے، کہ جن دواشخاص کے سرپہ بال نہیں ہوتے پھر بھی ان کوہم زلفکیوں کہا جاتا ہے؟ ہماری مختلف سیاسی پارٹیوں میں بھی بے بال شخص ہم زلف ہیں۔ دوسرے میں نے اپنے طورپر بہت کوشش کی ، لیکن انگریزی کے لفظ ”چیلنج“ کا متبادل مناسب لفظ اردو میں مجھے نہیں ملا، عربی میں تربوزکو”ہب ہب“ کہتے ہیں، اور پلاسٹک والی جوتی کو ”شپ شپ“ کہتے ہیں پاکستان میں موٹے شخص کو ”موٹا“ کہنےکے بجائے صاحب زبان لفاظی سے کام لیتے ہوئے تو ندل ، توندو، توندیل، توندیلا، اور پیٹو کیوں کہتے ہیں؟ کیا موٹا کہہ دینا کافی نہیں۔ 

موزوں اور مناسب کہنے کے بجائے، ٹھیکم ٹھیک، کیوں زبان زدعام ہے، اور یہ اہل زبان بھی یہی کہتے ہیں ، اس کے علاوہ ”تن پھن“ اکڑ باز غصیلے کو کہتے ہیں، گو یہ الفاظ بولے نہیں جاتے تو پھر کیوں ان کو اردو زبان میں شامل کیا گیا ہے؟مختصر یہ کہ کہاوتیں، اور ضرب المثل تو بہت ہیں، کہ جو انسان زندگی بھر بھی بول نہیں سکتا، اورنہ ہی ان کے علم میں ہوتی ہیں، اور نہ ہی بول سکتا ہے اور نہ ہی سمجھ سکتا ہے۔ English Mediumوالے اردو نہیں سمجھ سکتے، اور Urdu Mediumوالے انگلش نہیں سمجھ سکتے، ہمارے بچوں میں سے کون سے اور کتنے بچے ہوں گے، جو ہم زلف کے رشتے کو سمجھتے ہوں گے یکساں نصابتعلیم کا وعدہ پتہ نہیں کب تکمیل کے فاصلے طے کرے گا؟ گو اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کی تمام زبانوں میں کہاوتیں اور ضرب المثل ضرور موجود ہوتی ہیں، اور اس کے بنانے میں حقانیت ، سچ اور بھرپور تجربہ اور وقت درکار ہوتا ہے اور آزمانے کے بعد ہی اس کو رائج کیا جاتا ہے، اس حوالے سے اردو زبان کی ایک کہاوت مجھے یاد آرہی ہے ”کراڑ“ کتا، سینے بال نہ ہو، اس سے بات تب کرلو، جب جوتا ہاتھ میں ہو ہندو، کتا، اور سینے پہ بال نہ ہونے والے شخص کو جب تک جوتا ہاتھ میں نہ ہو، اس پہ کبھی بھی اعتبارنہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ اگر سوئے ہوئے بھی ہوں، تو بھی ان پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے، جوتے سے مراد، ہتھیار ہے کیونکہ یہ سوتے ہوئے بھی جاگ رہے ہوتے ہیں، اور ان کو جاگتے ہوئے دیر نہیں لگتی، ایک لمحے میں جاگ جاتے ہیں۔ 

 پاکستان کی قومی زبان اردو ہونے کے باوجود، صوبہ سندھ میں اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کے بجائے، سندھی زبان کو لازمی قرار دیا گیا ہے، مگر حیرت اور مقام تعجب ہے، کہ پٹھان، بلوچ، پنجابی، حتیٰ کہ سندھی بھی اپنے گھر میں اپنے بچوں سے اردو بولتے، اور اردو سکھاتے ہیں۔ 

خدارا ، میرے ہم وطن اپنے بچوں کو صحیح تعلیم وتربیت سے آشنائی کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کواور وطن کے مستقبل کو منورکرنے کا بندوبست کریں کیونکہ بقول اقبالؒ

وہی نگاہ کے ناخوب وخوب سے محرم

وہی ہے دل کے حلال و حرام سے آگاہ!


ای پیپر