مقبوضہ کشمیر پر دنیا کی خاموشی
01 ستمبر 2019 2019-09-01

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا پانچواں ہفتہ، وادی میں انسانی بحران سنگین ہوگیا۔ گھروں میں محصور کشمیری بھوک، پیاس اور ادویات کی قلت کا شکار، بنیادی ضروریات زندگی سے محروم، موت چار سو ناچ رہی ہے۔ بی بی سی کے مطابق کشمیری مرد و خواتین اس اذیت ناک زندگی سے اس قدر تنگ ہیں کہ وہ ظالم بھارتی فوجیوں سے کہتے ہیں کہ تشدد نہ کرو گولی مار دو بقول شاعر

موت کے انتظار میں جینا

موت سے بھی بڑی اذیت ہے

عالمی ضمیر مگر خاموش، ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم، کسی نے کہا دنیا کو امریکی سانپ سونگھ گیا ہے۔جس کے دو منہ ہیں دونوں طرح ڈنگ مارتا اور رگوں میں زہر اتار دیتا ہے۔ خاموشی غیر متوقع نہیں۔ مگر تکلیف دہ ہے دنیا نے شام، فلسطین، لیبیا، مصر، عراق، افغانستان کون سے اسلامی ملک کی تباہی پر دہائی دی تھی۔ پاکستانیوں کوا للہ اپنی امان اپنی پناہ میں رکھے جس مسلمان ملک میں تباہی آئی ہم نے دہائی دی۔

عجیب درد کا رشتہ ہے ساری دنیا میں

کہیں ہو جلتا مکاں اپنا گھر لگے ہے مجھے

ہمارے گھر جل رہے ہیں، جنت ارضی کے مکین مودی کی دوزخ میں جل رہے ہیں، تو کسی کو احساس نہیں ہمیں ہے؟ پتا نہیں، عوام ایک اپیل پر سڑکوں پر نکل آئے۔ کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی، نعرے، قرار دادیں، بینر، جھنڈے، ہاتھوں کی زنجیریں اور جہاد کا مطالبہ، عوام یہی کچھ تو کرسکتے ہیں ،لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ نہیں کرسکتے۔ وزیر اعظم عرصہ دراز سے کہہ رہے ہیں کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے، کشمیری نوجواں بھارتی گولیوں کا جواب پتھروں ہی سے دے رہے ہیں، ابابیلوں کی چونچوں میں دبے پتھر یا کنکر نہیں کہ جو ہاتھیوں کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح تباہ کردیں، حکومت فوج اور عوام ایک پیج پر منظم ہو کر کشمیر کی آواز بن گئے، اتنی بلند آواز کس نے سنی؟ سب حال مست کھال مست، چرکے لگانے کو تیار، مودی ظالم، مودی ہٹلر، مودی قصائی، مودی مسلمانوں کا قاتل، مگر ایک اسلامی ریاست میں پہنچا تو اس کے سینے پر سب سے بڑا سول ایوارڈ سجا دیا گیا۔ ہم چپ رہے اپنی بے بسی پر رو دیے۔ تمام مسلم ممالک کے اپنے مفادات ہیں۔ ورنہ 54 اسلامی ممالک کے اربوں مسلمان کیا ایک ظالم کا ہاتھ نہیں روک سکتے بازو نہیں توڑ سکتے؟ ہمارے وزیر خارجہ کا ٹیلیفون پر رابطہ کرتے کرتے گلا بیٹھ گیا۔ ہر طرف سے جواب ملا صورتحال پر غور کر رہے ہیں۔ کمال ہے اپنے ملک میں دو دن کرفیولگ جائے تو سلامتی کونسل میں چیخ و پکار شروع ہوجاتی ہے یہاں پانچ ہفتوں سے زندگی سسک رہی ہے مساجد سے اللہ اکبر کی صدائیں گن پوائنٹ پر روک دی گئیں، مساجد پر تالے ڈال دیے گئے۔ او آئی سی کیسی مسلم تنظیم ہے کہ اس کے کان پر جوں تک نہ رینگی،گزشتہ روز ایک ہلکا پھلکا بیان آیا اور بس، کسی نے سچ کہا ہے کہ لاکھوں کشمیری ہماری طرف اور ہم امریکا کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ثالثی کے لیے گئے تھے۔ بزعم خود ورلڈ کپ جیت کر لوٹے، ٹرمپ نے ہاتھ میں ہاتھ لے کر بڑے پر خلوص انداز میں کہا،’’ بادشاہو فکر ہی نہ کرو فرانس میں مودی سے بات کروں گا‘‘۔ کیا بات کی ؟ مودی کے ہاتھ میں بھی ہاتھ دیا پر خلوص انداز میں دبایا اور ہاتھ پر ہاتھ مار کر بڑے پیارے انداز سے کہا۔ ’’ہٹ پگلے ایسی باتیں کیا نہ کرو‘‘ مودی زمانہ ساز، زور سے ہنسا، آپ سے نہیں کریں گے تو کس سے کریں گے۔‘‘ آئے بھی وہ ملے بھی وہ ختم فسانہ ہوگیا۔ اس کے بعد سے امریکی ترجمان’’ تلقین شاہ‘‘ بنے صرف اپیلیں کر رہے ہیں۔ وہی تلقین شاہ جس نے بے ہدائتے ہدایت اللہ کی مدد سے پڑوسی کا گلدان چرا کر گھر میں رکھ لیا تھا۔ امریکی تلقین شاہ کے بھارتی بے ہدائتے نوکر مودی نے ہمارا گلدان قبضہ میں لے لیا ہے۔ ہم سراپا احتجاج ہم مکمل تیار جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے الرٹ لیکن ایل او سی پر بھارتی گولہ باری پر صرف احتجاج، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر روز دفتر خارجہ طلب، آنے جانے کے عادی ہوگئے۔ اپنی گاڑی میں آتے ہیں اور مراسلہ لے کر اسی گاڑی میں واپس چلے جاتے ہیں۔ ایک ہفتہ قبل محترم عطا الرحمان نے پوچھا تھا کہ ہماری کشمیر پالیسی کیا ہے۔ کیا ہم لائن آف کنٹرول کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کر کے چپ بیٹھ رہیں گے۔ اس ایک ہفتہ میں کئی اجلاس ہوگئے۔ ایک اجلاس میں طے پایا کہ جمعہ کے جمعہ کشمیر آور منایا جائے گا۔ 12 سے ساڑھے بارہ بجے تک ٹریفک روک دی جائے گی۔ ٹریفک روک دی گئی۔ کیا عالمی ضمیر کی غنودگی میں کوئی فرق پڑا؟ مسلم امہ کی طرف سے کوئی تسلی بخش جواب ملا ؟کسی مشترکہ اجلاس کسی مشترکہ اقدام کی تجویز دی گئی؟ سلامتی کونسل والے گزشتہ دو ہفتوں سے صلاح مشورے ہی کر رہے ہیں، ان کا کیا ہوا؟ ہمارے وزیر اعظم 27 ستمبر کو جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کریں گے۔ کیا توقعات ہیں؟ لال حویلی کے خود ساختہ’’ بابے‘‘ کا تو کہنا ہے کہ اس کے بعد جنگ چھڑ جائے گی۔ بابے کو جنگ کی بڑی جلدی ہے۔ کہنے لگے اکتوبر نومبر میں پاک بھارت جنگ ہوتے دیکھ رہا ہوں ایٹمی جنگ ہوگی، بابے کی غلط شلط پیشگوئیاں پر پتا نہیں کیا کہنے اور کیا کرنے کو جی چاہتا ہے۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ جنگ آسان نہیں ہوگی۔ خدانخواستہ شروع ہوگئی تو کھیتوں کھلیانوں میں اناج کی بجائے بھوک اگنے لگے گی ہمارے پاس اللہ کا دیا ہر قسم کا اسلحہ موجود لیکن بھارت کے پاس بھی امریکا کے دیے ہتھیار محفوظ ہیں۔ابھی کل ہی امریکی ساختہ جدید ترین جنگی ہیلی کاپٹر ملے ہیں 8 مل گئے 14 آئندہ سال ملیں گے۔ ہم مانگیں تو پابندیاں لگا کر مشروط مامے مودی کو غیر مشروط سپلائی ایک ارب 4 کروڑ ڈالر مالیت کے جنگی ہیلی کاپٹر کا معاہدہ، امریکی ہمارے ساتھ اتنے ہی پر خلوص ہوتے تو بھارت پرکشمیریوں کے حق خودارادیت دینے کی شرط عائد کرتے، کچھ نہیں، سب کچھ دکھاوا، لال حویلی کے خود ساختہ بابے کی بات پسند نہیں آئی کہ امریکا پاکستان اور بھارت دونوں کو دھوکا دے رہا ہے، ٹرمپ اپنے وژن اور دھن کا پکا ہے۔ اس نے پاکستان کو افغان مسئلہ کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کا دانہ ڈالا، دام میں پھنسایا اور مودی کو مسئلہ کشمیر حل کردینے کی تھپکی دی دھوکہ تو ہمیں ہوا ہے۔ بہت پہلے ’’یہودی پروٹوکولز‘‘ کے نام سے ایک کتاب نظر سے گزری تھی جو وکٹر ای مارسڈن نے لکھی اور محمد یحییٰ خان کے ترجمہ کے ساتھ لاہور سے شائع ہوئی تھی۔ اس میں یہودیوں کے مسلمانوں کے ساتھ سلوک اور مختلف ادوار میں عیسائیوں کو اندھیرے میں رکھ کر کمیونزم، سوشلزم، کیپٹلزم، فحاشی، عریانی، جدیدیت، سیاسی آزادیوں کے نام پر مادر پدر آزاد معاشروں کی تشکیل سمیت خوفناک منصوبوں اور خفیہ دستاویزات کا ذکر کیا گیا تھا کمیونزم، سوشل ازم، کیپٹل ازم لانے والے تمام روسی اور امریکی لیڈر یہودی تھے جو سرمایہ داری اور غربت کے نام پر ہم جیسے لوگوں کو دھوکہ دیتے رہے۔ موجودہ دور اسی قسم کے کسی ’’یہودی پروٹوکول کی تکمیل‘‘ کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ جس کا مقصد یکے بعد دیگرے اسلامی ریاستوں اور مسلم ممالک کو آمریت جمہوریت اور دیگر آنے بہانے تباہ و برباد کر کے بے زمین یہودیوں کو بے ضمیر عیسائیوں اور ہندوئوں کے تعاون سے دنیا کا تاجدار بنانا ہے۔ یہودی مشنری پردے کے پیچھے رہ کر 1980ء سے کام کر رہی ہے۔ محاذ پر عیسائی اور ہندو برسر پیکار ہیں جبکہ ہم بد قسمتی سے باہمی لڑائیوں اور اقتدار کی رسہ کشی میں اپنی طاقت ضائع کر رہے ہیں باطل قوتیں روز بروز متحد اور ہم دن بدن منتشر ہو رہے ہیں۔ عالمی ضمیر نے جان بوجھ کر آنکھیں بند کرر کھی ہیں۔ سب یہودی پروٹوکولز کے تحت اسکرپٹ کا حصہ ہے ٹرمپ مودی اور دیگر کردار اپنا اپنا کردار نبھا رہے ہیں۔ تاکہ دنیا کو ایک بار پھر تباہی سے دوچار کرسکیں۔

جو اختیار ذرا ظالموں کو دے دے خدا

تو یہ تھکیں گے نہیں آندھیاں چلاتے ہوئے

پتا نہیں ہمیں اس ساری صورتحال کا ادراک ہے یا نہیں، ہے تو کشمیر کے بارے میں کیا سوچا ہے؟ ٹیلیفونک رابطوں سے کوئی نہیں جاگے گا سب غور کرتے رہ جائیں گے اور لاد چلے گا بنجارا۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ’’ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ ان بے یارو مددگار لوگوں کی مدد کے لیے نہیں نکلتے جو ظالموں کے پنجۂ استبداد میں جکڑے اللہ سے فریاد کناں ہیں کہ ہمیں ان ظالموں کے ظلم و ستم سے بچا لے‘‘ ہمیں کشمیریوں کو آزادی دلانی ہے تو کیا کرنا ہوگا، اس پر غور کرلیا جائے۔


ای پیپر