پیچیدہ سفارتی گتھیاں
01 ستمبر 2019 2019-09-01

اہل پاکستان محسن کش ہر گز نہیں۔ وہ، دوست ممالک جو مشکل کی گھڑی میں ساتھ کھڑے ہوئے۔ جنہوں نے ابتلا کی گھڑی میں ، وہ زلزلے ہوں یا تباہی پھیلانے والے سیلابی ریلے۔ آگے بڑھ کر بازو تھاما۔ ہاں کچھ عاقبت نا اندیش ایسے ضرور ہیں جو پراپیگنڈہ کے زیر اثر اپنے محسنوں کی خدمات فراموش کر ڈالتے ہیں۔ اور بغیر سوچے سمجھے سوشل میڈیا پر مشکل میں کام آنے والی دوستوں کو تختہ مشق بنا تے ہیں۔ اس بات پر غور کئے بغیر کہ ان کشادہ دل برادران خطہ عرب پر یہ ٹھٹھہ ، مذاق ، جگت بازی پر مبنی خبریں پڑھ کر کیا گزرے گی۔ دراصل ہم جذباتی قوم ہیں۔ حقائق جانے بغیر ، اس کی تہہ میں جائے بغیر ، حرف تنقید کے خنجر اماراتی محسنوں پر تان لئے۔ اعتراض تھا کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے بھارتی پردھان منتری نریندرا مودی کو سب سے بڑے سو ل ایوراڈ سے کیوں نوازا۔ کشمیر کے عوام اور جدو جہد آزادی سے ہمارا لگاؤ ہی کچھ ایسا گہرا اور جذباتی ہے کہ ردعمل دیتے وقت توازن برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ لیکن ایسے مواقع ہی تو قوموں کا امتحان ہوا کرتے ہیں۔ معترضین کا سوال تھا کہ عزت مآب ولی عہد سلطنت اور مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر پرنس محمد بن زید النہیاں کی جانب سے ایسے موقع پر ایوارڈ کیوں دیا گیا۔ جب مودی مقبوضہ کشمیر کے عوام پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ اس صورتحال کا پس منظر جاننا ضروری تھا۔ لہٰذا کھوج لگانے کی کوشش کی گئی۔ حقائق یہ ہیں کہ گزشتہ سال مودی سرکار نے ولی عہد پرانس محمد بن زید النہیاں کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے نوازا۔ اور اس سلسلہ میں پروٹوکول کے تمام تقاضوں کو بھی نظر انداز کر دیا۔ عرب روایات سے واقف تجزیہ نگار وں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے جذبہ خیر سگالی کا جوابی اظہار امر لازم ہوچکا تھا۔ لہٰذا پردھان منتری مودی کو متحدہ عرب امارات کا اعلی ترین سول ایوارڈ دی آرڈر آف زید دینے کا فیصلہ ہوا۔اماراتی حکومت نے بھائی چارہ کے جذبہ کے پیش نظر حکومت پاکستان کو سال رواں کے ماہ اپریل میں سرکاری طور پر نریندر مودی کو آیوارڈ دینے کے اس فیصلہ سے آگاہ کردیا۔ دفتر خارجہ کے ذرائع اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ ایوارڈ دینے کی تاریخ بھی بہت پہلے طے کر لی گئی تھی۔اس دوران مقبوضہ کشمیر کے حالات دگرگوں ہوگئے۔ لیکن اب بہت تاخیر ہوچکی تھی اماراتی حکومت کیلئے پیچھے ہٹنا ممکن نہ تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اماراتی حکمرانوں کے خلاف تنقید اور دشنام طرازی کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔اوپر سے جناب چیئرمین سینٹ کی قیادت میں جانے والے وفد کا دورہ عین وقت پر منسوخ کردیا گیا۔ جس کے نتیجہ میں سفارتی بد مزگی پیدا ہوئی۔ اس دورہ کی منسوخی سے پیدا شدہ نقصان کو اب دفتر خارجہ کنٹرول کرنے کی کوشش میں ہے۔ اللہ کرے دونوں برادر ممالک کے تعلقات جلد از معمول پر آئیں۔ پاکستان اور امارات کے مابین تعلقات ہمہ جہتی ہیں۔ وہ کونسا موقع ہے جب اماراتی حکمرانوں نے اہل پاکستان کی آواز پر لبیک نہیں کہا۔ ابھی چند ماہ پرانی بات ہے معاشی ابتری کے شکار پاکستان کو زرمبادلہ کے ذخائر درکار تھے۔ تاکہ آئی ایم ایف سے بہتر ڈیل کی جاسکے۔ پہل متحدہ عرب امارت نے کی اور تین ارب ڈالر کی خطیر رقم ہمارے ڈیپازٹ میں رکھوا دی۔بھاری سرمایہ کاری کے معاہدات الگ سے کیے گئے۔ جو یقینی طور ہمارے اقتصادی مستقبل کیلئے سود مند ہوں گے۔ ان حالیہ واقعات کو چھوڑیں۔ ماضی کا جائزہ لے لیں۔ وہ کونسا موقع اور شعبہ ہے جب برادر اماراتیوں نے ہماری مدد نہیں کی۔پاکستان میں مختلف شعبوں میں اماراتی امداد اور سرمایہ کاری کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ابوظہبی فنڈ فار ڈویلپمنٹ (اے ڈی ایف ڈی) نے پاکستان میں آٹھ ترقیاتی منصوبوں کی مالی اعانت کی ہے جن کی مجموعی مالیت 60 ارب روپے ہے جس میں گرانٹس میں 40 ارب روپے شامل ہیں۔ فنڈز میں توانائی ، صحت ، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے جیسے شعبوں میں منصوبے شامل تھے۔متحدہ عرب امارات مشرق وسطی میں پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور سرمایہ کاری کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ متحدہ عرب امارات میں بھی 1.6 ملین سے زائد پاکستانی افراد شامل ہیں جنہوں نے مالی سال 2017-2018 میں ساڑھے 4 بلین ڈالر کی رقم بھیج دی۔اسی طرح اگر مواصلاتی شعبہ کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بھی اماراتی حکومت اور کمپنیوں کی بھاری سرمایہ کاری کی گئی ہے،اے ڈی ایف ڈی نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کافی سرمایہ لگایا ہے۔ 2013 میں ، اس نے یو اے ای - پاکستانی فرینڈشپ روڈ کی تعمیر کے لئے ڈی ایچ 227 ملین گرانٹ فراہم کی ، جو وزیرستان کے علاقے کے جنوبی اور شمالی حصوں کو جوڑتا ہے۔ 72 کلومیٹر طویل اس سڑک سے قبائلی علاقے میں تین بڑے شہروں اور 20 دیہاتوں کے درمیان لوگوں اور سامان کی نقل و حمل میں آسانی ہے۔ اے ڈی ایف ڈی نے ڈی ایچ 230 ملین مالیت کے دو ہیلتھ کئیر منصوبوں کی مالی اعانت کی ، جس کا مقصد پاکستانی عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنا ہے۔ 2013 میں ، فنڈ نے امارات اسپتال کی تعمیر کے لئے 21 ملین ڈالر مختص کیے۔ یہ ایک ہزار بستروں پر مشتمل ایک خصوصی میڈیکل سنٹر ہے جو پاکستانی فوجی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو بھی دیکھ بھال فراہم کرتا ہے۔ صحت کی سہولت میں روزانہ چھ ہزار مریضوں کو وصول کرنے کی گنجائش ہے۔اے ڈی ایف ڈی نے 2006 میں لاہور کے شیخ زید اسپتال کو جدید بین الاقوامی معیار کی تعمیل میں جدید آلات کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے ڈی ایچ 13 ملین بھی فراہم کی۔ تعلیم کے شعبہ میں متحدہ عرب امارات کے ترقیاتی فنڈ نے ملک کے تعلیم کے شعبے کو بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ 2013 میں ، اس نے تربیتی کالجوں کے لئے ڈی ایچ 46 ملین کی مالی اعانت فراہم کی۔ اس منصوبے میں صوبہ خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوں میں تین ٹریننگ کالجوں کی تعمیر شامل ہے۔اس کے علاوہ ، اے ڈی ایف ڈی نے 2009 میں اسلام آباد میں شیخ زید انٹرنیشنل اکیڈمی میں توسیعی کاموں کے لئے ڈی ایچ 14 ملین مختص کیے تھے۔مناسب اور قابل اعتماد بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ، اس نے 1981 میں تربیلا ڈیم کی بحالی کے لئے ڈی ایچ 66 ملین فراہم کیے۔لاکھوں پاکستانیوں کے وسیلہ روز گار ہونے، ہر مشکل میں شانہ نشانہ کھڑے ہونے ، تعلیم صحت اور مواصلات میں امداد اور سرمایہ کاری کے باوجود نازک موقع پر بلا سوچے سمجھے تنقید۔ وہ بھی ایسے موقع پر جب ہمیں دوستوں کی تعداد میں کمی کی بجائے اضافے کی ضرورت ہے۔ تنقیدی رویہ ہماری مشکلات میں اضافہ کرے گا۔ وزیر اعظم عمران خان کو اس سفارتی نزاکت کا احساس ہے۔ دورہ امریکہ سے قبل وزیراعظم عمران خان اور ولی عہد محمد بن زید النہیاں کے مابین ٹیلی فون رابطہ بہت اہم ہے۔ اندازہ ہے کہ وزیراعظم ان پیچیدہ گتھیوں کو سلجھا لیں گے جو غیر ضروری تنقید کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔


ای پیپر