کپتان !گاندھی نہیں جناح بنو
01 ستمبر 2019 2019-09-01

کم لوگ جانتے ہیں پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان ، موہن داس کرم چند گاندھی سے متاثر ہیں اور شاید اس سے بھی کم لوگ جانتے ہوں کہ اسلام آباد میں دھرنے کے دوران کنٹینر پر کھڑے ہوکر عمران خان نے سول نافرمانی کا جواعلان کیا تھا۔ اس کے پیچھے بھی گاندھی جی کھڑے مسکرا رہے تھے۔ اب وزیراعظم عمران خان نے اپنی قوم کو مسئلہ کشمیر کے لیے ہرہفتے آدھا گھنٹہ سڑکوں پر کھڑے ہونے کا کہا ہے تو ہم کیوں نہ مان لیں کہ اس کے پیچھے بھی وہی اہنسا کا فلسفہ کارفرما ہے۔

آپ کو میری بات ہضم کرنا مشکل ہو تو بتادوں۔ جس شام اسلام آباد کے آبپارہ چوک میں کنٹینر پر کھڑے ہوکر عمران خان نے سول نافرمانی کا اعلان کیا۔ پاکستانی قوم سے اپیل کی کہ وہ یوٹیلیٹی بل ادا نہ کریں ۔ اوورسیز پاکستانیوں کو حوالہ ہنڈی کے ذریعے رقوم بھجوانے کی ترغیب دی۔ اس صبح بنی گالہ میں اپنی رہائش گاہ پر ناشتہ کرتے ہوئے نجی ٹی وی کی تب کی رپورٹر اور آج کی اینکر پرسن غریدہ فاروقی کو انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ رات بھر وہ سوچ بچار کرتے رہے کہ دھرنے کو اتنے دن ہوگئے ، مطلوبہ نتائج نہیں مل پارہے تو ایسا کیا کیا جائے کہ حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائے۔ عمران خان کے بقول کافی سوچ بچار کے بعد آخرکار انہوں نے ایسا حل سوچ لیا ہے جو نتیجہ خیز ہو گا۔ اس کے بعد اپنے سامنے میز پر رکھا کٹا ہوا آم اور دہی کھاتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں بتایا کہ گاندھی اس خطے کے بہت بڑے رہنما تھے۔ جیسے ہی عمران خان کے یہ الفاظ سنے تو مجھے لگا۔ جناح کے پاکستان میں گاندھی کی پیروی کااعلان کرکے کپتان نے اپنے آپ کو مشکل میں ڈال لیا ہے لیکن تب اس انکشاف کو میڈیا ہی کیا ، مشکل میں گھری حکومت بھی اپنے حق میں استعمال نہ کرپائی اور شام کو عمران خان نے سول نافرمانی کا اعلان کردیا۔ اس وقت کنٹینر پر موجود آج کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے جوشیلا انداز اپنایا اور ہوا میں بازو لہرا کر تائید کی تھی۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی مقبوضہ کشمیر میں آئینی جارحیت کے بعد سے وزیراعظم عمران خان دنیا پر ثابت کرنا چاہ رہے ہیں کہ وہ امن کے داعی ہیں اور مودی جنگی جنونی۔ کپتان چاہ رہے ہیں کہ دنیا مان لے ، نریندر مودی بھارت کا ہٹلر ہے۔ یہ اکھنڈ بھارت میں رام راج کے نعرے لگا کر جرمنی کے یہودیوں کی طرح مسلمانوں کی نسل کشی کررہا ہے۔ آر ایس ایس کے انتہا پسند نظریات کا ذکر کرکے خطے میں جوہری جنگ کے خطرات کی نشاندہی کی جارہی ہے۔اس نفرت کے الاؤ کی نشاندہی کے لیے عمران خان نے بھی گاندھی کی طرح ستیاگرہ اور اہنسا کی راہ چنی ہے لیکن کپتان کو بتادوں۔ جنوبی افریقہ ہو یا ہندوستان ، گاندھی نے ستیاگرہ کی جو تحاریک چلائیں وہ غلام قوم کی بیرونی آقا کے خلاف تھیں۔ حتی کہ اہنسا کی راہ پر چل کر گاندھی کے بچے کہلانے والے نیلسن مینڈیلا ہوں یا امریکا میں کالوں کے حقوق کی جدوجہد کرنے والے مارٹن لوتھر کنگ جونیئر سب نے اپنے ملک کے اندر ستیاگرہ کیا جبکہ پاکستان کے وزیراعظم جس مسئلے سے نبردآزما ہیں ، وہ اپنے ملک کے اندر طاقت ور طبقے کے خلاف نہیں بلکہ ہمسایہ ملک کے ساتھ ہے۔دل چاہتا ہے کہہ دوں۔ کپتان جی !جہاں آپ نے خلیل جبران ،امام غزالی اور مولانا رومی پڑھ لیے ، وہاں تھوڑا وقت نکال کر تاریخ فرشتہ کا مطالعہ بھی کرلیں ،تاکہ آپ کو اندازہ ہوجائے ، آپ کا کس عیار دشمن سے پالا پڑا ہے۔ بغل میں چھری ، منہ میں رام رام کا محاورہ تو سنا ہی ہوگا۔

کپتان کے داؤ پیچ سے لگ رہا ہے کہ وہ ابھی تک اپوزیشن دور کی حکمت عملی سے باہر نہیں نکل پارہے۔ وہ مسلسل جلسوں کے بعد اسلام آباد میں لاک ڈاؤن کی طرح چاہ رہے ہیں کہ جنرل اسمبلی میں خطاب سے پہلے ایسا ماحول بنالیں کہ جب وہ دنیا سے مخاطب ہوں تو وہ ان کی آواز کو اہمیت دے اور جان لے کہ برصغیر میں امن کا راہی کون ہے اور نفرت کا پجاری کون۔ ترشول کس کے ہاتھ میں ہے اور فاختہ کہاں پھڑپھڑارہی ہے۔ کپتان کی یہ خواہش غلط نہیں ،لیکن کپتان کی اہنسا کی یہ حکمت عملی پاکستانی قوم کی بے چینی کو بڑھا رہی ہے ، بظاہر تحریک انصاف کی حکومت مسئلہ کشمیر پر پاکستانی قوم سے الگ کھڑی نظر آرہی ہے۔ مودی کے فیصلہ کن وار کے بعد پاکستانی قوم بھی مسئلہ کشمیر پر حتمی قدم اٹھانے کی منتظر ہے ۔

وزیراعظم عمران خان کی اہنسا کی پالیسی شاید جنرل اسمبلی تک تو کسی قدر کارگر ہوجائے۔ وہ اقوام عالم سے خود کو امن کا پیامبر بھی قرار دلوالیں لیکن لگتا یہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے انہیں ایک بار پھر یوٹرن لینا پڑے گا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انہیں گاندھی کے بچے بن کر نہیں جناح کا پیروکار بن کر کھڑے ہونا پڑے گا۔ گاندھی کی طرح دلی میں گولی کھانے کے بجائے جناح کی طرح لاہور میں خود پر حملہ کرنے والے کا سختی سے ہاتھ روکنا پڑے گا۔ اقوام عالم کو فلسطین کے رہنما یاسر عرفات مرحوم کی یاد دلاناہوگی۔ جب وہ ایک ہاتھ میں زیتون کی شاخ اور دوسرے ہاتھ میں آتشی ہتھیار پکڑ کر اقوام متحدہ کی عمارت میں داخل ہوئے اور یہ فیصلہ دنیا پر چھوڑ دیا کہ وہ امن کی راہ چاہتی ہے تو زیتون کی شاخ تھام لے ، ورنہ اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد پر زبانی جمع خرچ سے باز رہے۔

وزیراعظم عمران خان بھی چاہیں تو کشمیر کا مسئلہ اجاگر کرنے کے لیے چنار کے پتے کو علامتی طور پر استعمال کرکے دنیا کو بتاسکتے ہیں کہ بھارت کی تمام تر جارحیت کے باوجود وہ ابھی بھی امن کی راہ پر چلنا چاہتے ہیں۔ کپتان صاف صاف کہہ دیں۔ امن کی راہ پر چلنا ان کے لیے آسان نہیں رہا ۔ یہ وہ قوم نہیں جو پہاڑی کا نغمہ سنتے ہوئے ایک گال پر تھپڑ کھا کردوسرا گال آگے کردے گی کہ ایک اور مار۔ یہ قوم اب کے مار کی گردان نہیں کرتی ، یہ چاہتی ہے ، اب بھارت کو دب کے مار۔ دنیا کچھ بھی کہے لیکن پاکستانی قوم اب جہاد کے سوا کچھ اورنہیں چاہتی۔ وہ کہتی ہے مرنا تو بہرحال ہے تو کیوں نہ عظیم موت مرا جائے ؟ عمران خان دنیا کو بتادیں ،نریندر مودی نے خطے کو جنگ کا میدان بنادیا ہے۔ ہر گزرتا دن کشیدگی کو بڑھا رہا ہے۔ وہ چاہیں بھی تو زیادہ دیر امن کی راہ پر چل نہیں پائیں گے۔ عالمی برادری نے نازی ہٹلر کو روکنے کے لیے ذمہ داری نہ دکھائی اورعملی اقدامات کے بجائے زبانی مذمت کرتی رہی تو ان کے ہاتھ میں موجود چنار کا یہ پتہ سوکھ جائے گااور جوہری ممالک کی لڑائی کا خمیازہ پوری دنیا بھگتے گی۔

وزیراعظم عمران خان کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ تحریک انصاف کی حکومت کا ایک سال معاشی طور پر عوام کے لیے بہت بھاری رہا ہے۔ مودی سرکار کی مقبوضہ کشمیر میں آئینی جارحیت نے ان کو عوام کے متوقع احتجاج سے بچالیا ہے ، وہی احتجاج کی لہر جس کو مدنظر رکھتے ہوئے اپوزیشن نے جارحانہ حکمت عملی اپنائی تھی۔اب اگر قدرت نے کپتان کو مہلت دے ہی دی ہے کہ وہ پاکستانی قوم کو دکھا دیں۔ وہ جناح کے سپاہی ہیں ، گاندھی کے بچے نہیں ۔ وہ جان لیں ،امن کی خواہش کو دنیا کمزوری سمجھتی آئی ہے ، عزت تو بہرحال جہاد میں ہی ہے۔ آخر میں اردو کا یہ محاورہ نہیں دہراؤں گا۔ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات بلکہ پنجابی کی مثل سناؤں گا۔ دنیا من دی اے زوراں نوں ، لکھ لعنت اے کمزوراں نوں۔


ای پیپر