ہما ری معیشت کے حقیقی مسائل
01 ستمبر 2019 2019-09-01

ا پنے کسی پچھلے کا لم میں تحر یر کیا تھاکہ کسی بھی عا م شہر ی کا ملکی معیشت کا ما پنے کا پیما نہ خو د اس کی اپنی معا شی ز ند گی ہو تی ہے جو اس کی رو ز آ نہ یا ما ہوا ر آ مد ن اور اخرا جا ت سے جڑ ی ہو تی ہے۔ تا ہم با و جو د اس امر کے ، اقتصا د ی ما ہر ین قو می معیشت کو ایک بڑ ے کینو س پر مختلف قسم کے اعدا د و شما ر سے جڑ ی ر پو ر ٹو ں کی صور ت میں د یکھتے ہیں۔ ایسی ہی ایک ر پو رٹ کے مطا بق، جس کا تعلق سٹیٹ بینک آ ف پاکستا ن سے ہے، گزشتہ مالی سال یعنی 2018-19ء کے دوران پاکستان نے بیرونی قرضوں اور سود کی مد میں 11.55 ارب ڈالر ادا کیے جو کہ اس سے ایک سال پہلے کی نسبت 54 فیصد زیادہ تھے۔ اس میں سے 8.654 ارب ڈالر اصل رقم کی مد میں جبکہ 2.933 سود کی مد میں ادا کیے گئے۔ ایک سال پہلے کی نسبت بیرونی قرض کی مد میں 54 فیصد اضافی رقم کی واپسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پچھلے چند برسوں کے دوران حکومتوں نے کتنے مہنگے قرضے لیے۔ ظاہر ہے کہ یہ قرضے سابقہ حکومتوں نے لیے تھے، مگر ان کی ادائیگی موجودہ حکومت کو کرنا پڑ رہی ہے۔ قرضوں کے اس گھن چکر نے ملکی معیشت کی گردن ایک لمبی مدت کے لیے زیر بار کردی ہے۔ جو قرض لیے گئے، ان کی کھپت من پسند ٹھیکوں اور غیر مفید اور بے مقصد منصوبوں میں کی گئی۔ اب ادائیگی کا وقت آیا تو ان اخراجات کا حاصل وصول کچھ نظر نہیں آتا جبکہ قرض خواہ سر پر سوار ہیں۔ شرائط ایسی کڑی ہیں کہ عدم ادائیگی کی صورت میں معیشت کے لیے ناقابل تصور مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں۔ چنانچہ سوائے اس کے کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ مزید قرض لے کر ان پہلے قرضوں کی قسطیں ادا کی جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ جون 2018ء سے جون 2019ء تک ملکی قرضے اورواجبات 11.075 ارب ڈالر اضافے کے ساتھ 106.312 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ پچھلے پانچ سالوں کے دوران بیرونی قرضوں کی واپسی کی مد میں خرچ کی جانے والی رقوم کے اعداد و شمار ہماری قومی معیشت کے مستقبل کے لیے خوفناک منظر پیش کرتے ہیں۔ مالی سال 2015ء میں ہم نے بیرونی قرضوں کی مد میں 4.6 ارب ڈالر ادا کیے، جبکہ مالی سال 2016ء میں یہ ساڑھے گیارہ ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ ایسا اس لیے ہواکہ پہلے سے لیے گئے قرضوں کی واپسی اور موجودہ ضروریات کے لیے ہم سال بہ سال مزید قرض لیتے گئے، اس طرح قرضوں کا حجم پچھلے چند برس کے دوران نمایاں طور پر بڑھ گیا اور اب اس نے ہمیں اس مقام تک پہنچادیا ہے کہ مزید ضرورتوں کے لیے اگر قرض نہ بھی لیں تب بھی پہلے سے لیے گئے غیرملکی قرضوں اور بیرونی ادائیگیوں کے 106 ارب ڈالر سے جان چھڑانے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ ہمارے جیسی معیشت ، جس کے پاس برآمدات کا موثر سہارا بھی نہیں، کے لیے یہ صورتحال واقعی پریشان کردینے والی ہے کہ اس سے کیونکر چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ سٹیٹ بینک کی یہ رپورٹ البتہ حوصلہ افزا ہے کہ جاری کھاتوں کے خسارے میں جولائی کے دوران 73 فیصد کمی آئی۔ جولائی 2018ء کے دوران کرنٹ اکائونٹ خسارہ 2.13 ارب ڈالر تھا جو اس سال 57 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا۔ درآمدات میں کمی کی وجہ سے ایسا ممکن ہوا ہے۔ جولائی 2018ء کے مقابلے میں جولائی 2019ء میں ایک ارب ڈالر کی کم اشیاء درآمد کی گئیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ درآمدات میں کمی میں لوگوں کے رویے کی تبدیلی کا کتنا حصہ ہے، کیونکہ یہ مانا جاتا ہے کہ مہنگے ڈالر اور ڈیوٹیز میں اضافے سے درآمدی اشیا کی مانگ کم ہوئی۔ مگر حکومت کے ادارے اگر کوشش کریں اور صارفین میں ملکی اشیا کی کھپت کا رجحان بڑھایا جائے یا جو اشیاء اب تک درآمد کی جارہی تھیں ان کی مقامی پیداوار شروع کردی جائے تو درآمدات کو مزید کم کیا جاسکتا ہے۔ اشیائے تعیش یا غیر ضروری طور پر درآمد کی جانے والی اشیائے خورد ونوش کی درآمد میں کمی کی زیادہ گنجائش موجود ہے۔ مگر جب تک برآمدات میں نمایاں اضافہ نہیں ہوتا معیشت کی بہتری کے لیے کوئی چھلانگ نہیں لگائی جاسکتی۔ ہم نے درآمدات میں تو ایک ارب ڈالر کی کمی کرلی مگر برآمدات میں اس طرح کا نمایاں اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ حالانکہ مہنگے ڈالر کی وجہ سے ملکی معیشت کو حقیقی فائدہ برآمدات ہی سے ہوسکتا ہے۔ سٹاک ایکسچینج میں بھی مندے کا رجحان جاری ہے، وجہ ملک کی اندرونی معاشی صورتحال۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ کے حوالے سے چہ مگوئیاں اور امریکہ اورچین کے درمیان تجارتی کشیدگی ہے۔ ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ کے حوالے سے فیصلہ اکتوبر میں کیا جائے گا؛ تاہم حکام پر اُمید ہیں کہ دس نکاتی ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کے لیے ہمیں ایف اے ٹی ایف سے مزید وقت مل جائے گا۔ وزیر اعظم نے حال ہی میں ایف اے ٹی ایف کے تمام اہداف کو یقینی بنانا ہے۔ باوجود اس کے معاشی ماحول میں ایک تنائو واضح ہے، جس کی کچھ وجوہ ایسی ہیں جن کا تعلق ماضی میں کیے گئے فیصلوں کے ساتھ ہے، جن کا خمیازہ پاکستانی قوم اور موجودہ حکومت، دونوں آج بھگت رہے ہیں جبکہ کچھ وجوہ ایسی ہیں جو زمانۂ حال اور بین الاقوامی نوعیت کی ہیں۔ مثلاً مقبوضہ کشمیر کی صورتحال، جس سے تنائو انتہائی درجے کو پہنچ چکا ہے۔ لیکن ان وجوہات کے علاوہ چند وجوہ یقینا ایسی بھی ہیں جو ہماری اندرونی ہیں، جو ہمارے اپنے فیصلوں سے جنم لیتی ہیں۔ کاش حکومت ان وجوہ کی طرف توجہ دے تاکہ ملکی معیشت کا پیہ چلنے لگے اور گھروں کے چولہے سرد ہونے سے بچ جائیں۔ پارلیمان کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، جس میں ہر سیاسی سوچ رکھنے والے شامل ہیں اس بارے قابل عمل تجاویز مرتب کیوں نہیں کرتی؟ کیا یہ اُس کی ذمہ داری نہیں؟

لیکن اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ ارا کین ِقا ئمہ کمیٹی کی نظر ان حا لا ت میں بھی اپنی ذا ت اور اس کے بعد اپنی سیا سی پا رٹی کے مفا دا ت پر ہو تی ہے۔ چنا نچہ جب تک حب ا لو طنی کا وہ جذ بہ ، جو اب سو چکا ہے اور جس کے تحت یہ مملکتِ خدا دا د معر ضِ و جو د میں آ ئی تھی، اسے جھنجو ڑ کر بیدا ر نہیں کیا جا تا، حا لا ت میں بہتر ی کی تو قع ر کھنا، ا حمقو ں کی جنت میں ر ہنے کے متر ا دف ہو گا۔ خداپا ک بھی اسی قو م کی حا لت کو بد لتا ہے، جو اپنی حا لت کو اپنی قسمت سبجھ کر قبو ل نہیں کر تی بلکہ اس کو بد لنے کے لیئے خلو صِ دل سے تگ و دو کر تی ہے۔


ای پیپر