نرم گوشہ
01 ستمبر 2019 2019-09-01

اس زمانے میں جب’’ سب سے پہلے پاکستان "کا نعرہ پوری آب و تاب کے ساتھ فضا میں بلند ہورہا تھا ،یہ سلوگن دینے والوں نے ہمیں امت کے درد سے بھی آزاد کر دیا تھا اور ہم اک سپر پاور کے سہولت کار بن بیٹھے، جسے زندہ انسانوں پر ہمہ قسم کے بم اور ڈرون گرانے کی آزادی تھی، ہماری سادگی دیکھیے ہم یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی’’ امن‘‘ کے پر فریب تخیل میں مبتلا تھے۔ اسی عہدمیں بعض نادیدہ قوتوں نے موقع سے فائدہ اٹھا کر اس ریاست کے حکمرانوں سے روابط بڑھانے کی کاوش تیز ترکر دی جس میں سفر کی ممانعت روز اول سے ہے اور ہماری قو می دستاویز پاسپورٹ میں جعلی حروف میں اسکا نامہ نامی شامل ہے، اس نوع کی سر گر میوں کا تذکرہ ان دنوں میڈیا میں بھی ہوتا رہا، اخباری صفحات اور کالم بھی اسکی شہادت دیتے رہے ۔ اس ریاست سے تعلقات رکھنے کی ‘]فیوض و برکات ’’بھی بیان کی جاتی رہیں ، اسکی جمہوریت ، معاشی ترقی ، سائنسی تحقیق کے بھی قصیدے کہے گئے، اعلیٰ سطح کے حکام کی غیر رسمی ملاقات کا تذکرہ بھی زیر لب ہوتا رہا لیکن یہ بیل منڈ ھے نہ چڑھ سکی ،مایو سی ان کو ہو ئی جو اس خواب کی تعبیر چاہتے تھے، بعض ذرائع بتاتے ہیں کہ اک بار پھر وہی ماحول پیدا کرنے کی’’ حماقت‘‘ کی جارہی ہے ان موضوعات پر کالم نگاری بھی ہو رہی ہے ،سوشل میڈیا پے بھی چند افراد متحرک دکھائی دیتے ہیںاک طبقہ اس ریاست کیلئے نرم گوشہ رکھتا ہے جسے بانی پاکستان خود غیر قانونی اور غاصب ریاست قرار د ے چکے جس کے قبضہ میں امت مسلمہ کا قبلہ اول ہے اس کے باوجود بعض نادید ہ افراد کا سفارتی تعلقات کیلئے بے تاب ہو نابڑا ہی معنی خیز ہے ۔

ہم نسل نوکی راہنمائی کیلئے عرض کیے دیتے ہیں کہ اسرائیل ایسی ریاست ہے جس کے کیلئے مسلم مخالف طاقتوں نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ حالانکہ سلطنت عثمانیہ کے دور میں یہ علاقہ مسلمانوں کے زیر تسلط تھا ۔ 1917ء میں فلسطین پر جنرل امین جی کی قیادت میں انگریزوں کا قبضہ ہو گیا اور اسی سال نومبر 1917ئمیں اعلان ’’بالفور‘‘ کے ذریعہ فلسطین میں یہو دیوں نے قومی وطن کے قیام کا اعلان کر دیا ۔ غریب مقامی آباد ی سے یہودیوں نے زمینیں خرید کر مختلف علاقوں میں آباد کاری شرو ع کر دی ۔ 1939ء میں یہو دیوں کی تعداد چھ لاکھ تک پہنچ گئی ، عام عرب آبادی سے ان کے تضادات شروع ہو گئے اور خون ریز تصادم کی شکل اختیار کر گئے اس ضمن میں 1939ء گول میز کانفرنس لندن میں ہوئی ، عرب اور یہود کے مابین کوئی مصالحت نہ ہو سکی یہودیوں کی دہشت گرد تنظیموں نے نظام حکومت معطل کر دیا،حکومت نے اسی بناء پرعرب اور اسرائیل دو ریاستوں کے قیام کا اعلان کر دیا اس طرح فلسطین میں 1948ء میں بر طانوی راج ختم ہو گیا 14مئی 1948ء کو یہودیوں نے اک آزاد خود مختار مملکت کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد اس نے عرب ممالک کے کئی علاقوں پر بزور طاقت قبضہ کر دیا ، فلسطینی عوام نے اپنے علاقہ جات اور بیت المقد س کے شہر سے خاتمے کیلئے تنظیم آزادی فلسطین کی بنیا د رکھی یاسر عرفات (مرحوم) اسکے قائد ٹھہرے ،1937ئمیں شام میں بین الاقوامی کانفرنس ہوئی اس کے نتیجہ میں قومی تحریک نے جنم لیا برطانیہ نے وعدہ کیا دس سا ل کے اندر آزاد فسلطین ریاست قائم کر دی جائے گی بعد ازاں امر یکہ اس اتحاد میں شامل ہو ا تو یہودیوں نے عر بوں پر تشد د شروع کر دیا ۔

اب تلک اہل فسلطین اس کے ظلم و ستم کاشکار ہیں ،باوجود اس کے اقوام متحدہ میں فلسطین کی حمایت میں قریباً دو سو قرار دادیں منظور کی جا چکی ہیں یو رپی یونین ، فرانس ، سپین کی پارلیمنٹ نے بھی فلسطینیوں کی حمایت میں قرار دادیں پاس کیں اور مطالبہ کیا کہ 1949ء کے’’ جینوا کنو نشن ‘‘کے تحت مسئلہ حل کیا جائے۔

عالمی برادری بھی اپنی طاقت کاوزن اسرائیل کے پلڑے میں ڈال رہی ہے اسکی خواہش ہے کہ اسرائیل ’’ویسٹ بینک‘‘ کے علاقہ سے دستبردار ہو جائے لیکن فلسطین حق خود ارادیت چاہتے ہیں۔حماس ایک مزاحمتی تحریک چلا رہی ہے 1985ء سے اس نے سیاسی عمل میں حصہ لینا شروع کیا، انتخابی کامیابی بھی حاصل کی لیکن اسکے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا گیا ۔ تمام عالمی گماشتوں نے عرب کے دل میںاس ناجائز ریاست کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ موجود ہ امریکی قیادت تو اسرائیل کے لیے خاصہ نرم گو شہ رکھتی ہے ۔ باضابطہ پلان کے تحت ان مسلم ریاستوں کو کمزور سے کمزور تر کر دیا گیا ہے جو اسرائیل کیلئے خطرہ سمجھی جاتی تھیں وہ عرب ممالک جو خاص پر خا ش رکھتے ہیںان کے دل بھی بتدریج مو م ہو رہے ہیں ۔ عرب حکمران اب وہ دم خم نہیں رکھتے جو اسرائیل کی مخالفت کیلئے ضروری تھا۔ اسکو ہی بنیاد بنا کر ہمارے ہاں بھی بعض حلقے تعلقات کی سرد مہری کو خوشگوار ماحو ل میں بدلنے کے آرزو مند ہیں ۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اسرائیل نے سائنسی معاشی ، زرعی اورسماجی میدان میں بیش بہا ترقی کی ہے، ماضی میں جرمنی سے ملنے والی زر تلافی کی کثیر رقم سے اس نے پانی کا وہ انفراسٹر کچر تعمیر کیا ہے ۔اردن ، لبنان کے تعاون سے قومی و آبی گزر گاہ کو وجو د میں لا کر صحرا کو سبز ہ زار میں بدل دیا ہے اب اسرائیل اناج ، پھل اور پولٹری میں خود کفیل ہو گیا ہے کیااسکی معاشی ترقی ،ایٹمی قوت ، نظام آبپاشی او ر موثرنظام تعلیم کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہمیں سفارتی تعلقات استوار کر لینے چاہییں ؟

یہ ریاست نہ تو جغرافیائی طور پر ہمارے لیے اہم ہے، نہ ہی علاقائی اعتبار سے ہماری مجبور ی ہے، ثقافتی ، مذہبی اور اخلاقی لحاظ سے بھی ہمارا اس سے کوئی میل نہیں ہے، جن ریاستوں سے اسکے تعلقات ہیں ہم انکو اپنے دشمن کی صف میں شامل کر تے ہیں ۔اگر ایک لمحہ کیلئے ہم فرض کر لیں کہ اس سے رسمی طور پر تعلقات کا بحال ہونا عالمی سطح پر ہمارے لیے بہتر ہے ہمارا امیج بقول’’ لبرل طبقہ‘‘ کے سافٹ ہو گا۔ ہم اس کے بعد کشمیر میں بھارت کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف آواز بلند کر سکیں گے ؟جبکہ ہم اک نا جائز ملک کے طرف دار ہوں گے ۔کیا ہم اقوام متحدہ میں ان مظلو م اور بے بس فلسطینیوں کی حمایت میں کچھ عرض کرنے کی پوزیشن میںہوں گے ۔ کیا ہم کسی بھی ریاست کے حق خودارادیت کے مطالبہ کے حق میں اپنا موقف پیش کر سکیں گے۔ اس کے بعد امت مسلمہ کے مفادات کا مقدمہ بھی پیش کر نے کا حق محفوظ نہیںرکھ سکیں گے اک طرف ہندو ستان اور اسرائیل دونوں تزویراتی طور پر ایک دوسرے کے اتحادی ہیں، مودی سرکار اس صہیونی ر یاست کے حکمرانوں کے مشورہ پر ہی عمل پیرا ہو کر کشمیریوںکے خلاف اسی ماڈل کو اپنانے کی سعی کر رہی ہے جو فلسطینیوں کے خلاف آزمایا جارہا ہے ۔

دوسری طرف ایران جو پاکستان کاہمسایہ اور مسلم برادر ملک ہے صہیونی مخا لف پالیسی اسکی خارجہ پالیسی کا لازمی جزوہے جسکونظر انداز کر نا سنگین حماقت ہو گی اور سب سے بڑھ کر بیت المقدس جس کی آزادی امت مسلمہ پر فرض بھی ہے اور قرض بھی اس پے قابض ریاست کے ساتھ روابط بڑھا نا ’’سفارتی خودکشی ‘‘کے مترادف ہے ۔

تاہم ان قوتوں کاسراغ لگانا ناگزیر ہے جو بیت المقدس کی حرمت اور تقدس کو بالائے طاق رکھ کر، وقفہ وقفہ سے رائے عامہ ہموار کرنے کی ناکام کاوش کر تی اور ناجائزریاست کیلئے نرم گوشہ رکھتی ہیں ۔


ای پیپر