01 ستمبر 2019 2019-09-01

مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان کا آئینی حصہ بنانے کے بعد وہاں کشمیریوں پر ظلم و ستم جاری ہیں، جناب عمران خان کی ہدایت پر اس جمعے کو قوم نے آدھے گھنٹے کے لئے کھڑے ہو کر ایک احتجاج کیا جس میں پاکستان اور کشمیر کے قومی ترانے پڑھے گئے، آزاد کشمیر کے جھنڈے لہرائے گئے، سائرن بجائے گئے، چوکوں کی لال بتیاں روشن رکھ کر ٹریفک روکی گئی، مبینہ طور پر ٹرینیں روکنے کے حکم پر بھی عمل ہوا۔ ہمارے حکومتی دوستوں نے اسے ڈپلومیسی کے میدان میں بڑی کامیابی قرار دیا جبکہ حکومت مخالفین کے مطابق محض گونگلووں سے مٹی جھاڑی گئی، ایک طرف’ کشمیر آور‘ ٹوئیٹر پر ٹاپ ٹرینڈ رہا تو دوسری طرف وہیں’کشمیر فروش‘ کی اصطلاح بھی وجود میں آ گئی۔ میں پورے یقین اور وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے پاکستانی قوم کو کشمیر کے لئے جذباتی اور متحد دیکھا ہے۔ نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے پہلے دور میں پانچ فروری کو منائے گئے سب سے پہلے یوم یکجہتی کشمیر کا جوش اور ولولہ تھا آج بھی ناقابل فراموش ہے۔

نوید چودھری کہتے ہیں کہ اس وقت مسئلہ کشمیریوں سے یک جہتی اور تجدید عہد کا نہیں بلکہ بھارت کی طرف سے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی نفی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ بنانے کا ہے۔ سری نگر کے سیکرٹریٹ سے کشمیر کا پرچم اتر چکا، وہاں صرف ہندوستان کا جھنڈا لہرا رہا ہے۔ ہم سلامتی کونسل کا دروازہ کھٹکھٹا کر واپس آ چکے ہیں جہاں سے لفاظی تو ملی ہے مگر عملی حمایت نہیں۔خارجہ امور کے ماہرین کے مطابق اب اگلا مرحلہ ستائیس ستمبر کو جناب عمران خان کے اقوام متحدہ میں خطاب کا ہے جس کے لئے قوم کا مورال اور حمایت کی سطح بلند رکھنی از حد ضروری ہے۔ یہ ہر جمعے کا احتجاج اسی سلسلے کی کڑی ہے مگر د ل پر ہاتھ رکھئے اور سوچئے کہ ستائیس ستمبر کے بعد کیا ہو گا۔ میں امید کرتا ہوں کہ جناب عمران خان کا خطاب بہت مدلل ہو گا مگر کیا اس سے پہلے برہان وانی کی شہادت کے موقعے پر اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف ایک تاریخی خطاب نہیں کر چکے، کیا بہت پہلے ذوالفقار علی بھٹو شہید نے اپنے تہلکہ خیز موقف سے دلوں کو نہیں گرما دیا تھا۔ مان لیجئے کہ اب اقوام عالم کے دل جذباتی اور تہلکہ خیز تو ایک طرف رہیں مدلل باتوں سے بھی نہیں پگھلتے کہ یہ دل معاشی اور اقتصادی مفادات کے ہاتھوں میں بند ہیں ورنہ فلسطین سے متحدہ عرب امارات تک مُودی کو اعزازات سے نہ نوازا جا رہا ہوتا، ہاں، افراد اور قوموں کے ذہن بدل جائیںاور دل نرم پڑجائیں وہ میرے رب کے ہاتھ میں ہے، وہی ہے جو سمندروں کو کاٹ کر محفوظ راستے بنانے والا ہے۔

جمعہ ایک طویل عرصے ہمارا یوم احتجاج ہے مگر عمومی طور پر یہ احتجاج نماز جمعہ کے بعد ہوتے ہیں تاکہ نمازیوں کی اکثریت ساتھ مل جائے مگر بارہ بجے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ تعلیمی اور کاروباری کے ساتھ ساتھ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے ملازمین نے کم از کم لاہور میں یک جہتی کے مظاہرے کو شاندار بنا دیا۔ ہمارے کچھ دوست کہتے ہیں کہ جمعے کو احتجاج کرنا، سائرن بجانا، کھڑے ہوجانا اور کام روک دینا دراصل یہودیوں کی رسم ’ثبت‘ ہے جو اپنے ہم مذہبوں کے قتل عام کی یاد میں مناتے ہیں، اس کی تفصیلات باآسانی گوگل کی جا سکتی ہیں، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مودی کو بار بار ہٹلر سے تشبیہ دینا دراصل بااثر یہودیوں کی توجہ اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہے۔ ہم مسلمان ہیں او رہمیں اپنے اطوار اور شعائر میں ہنود و یہود سے مماثلت کی طرف نہیں جانا چاہئے بلکہ جب بھی مشکل ہو تو قرآن اور حدیث سے رجوع کرنا چاہئے۔ جمعے کے روز جس عمل کی نماز جمعہ کی باجماعت ادائیگی اورنبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پاک کی کثرت کے بعد بڑی فضیلت آئی ہے وہ سورة کہف کی تلاوت ہے۔ مستند احادیث کے مطابق ایک جمعے کو اس کی تلاوت دوسرے جمعے تک پڑھنے والے اور جس کے لئے پڑھی جائے اس کے لئے نور ہی نور بھر دیتی ہے۔

سورة کہف قرآن پاک کی اٹھارہویں سورة ہے جو مکہ میں نازل ہوئی ،میں نے ایک سو دس آیات پر مبنی اپنے رب کی قدرت پر ایمان بڑھادینے والا اس سے بڑھ کر کوئی بیان نہیں دیکھا، آپ بھی عربی متن کے ساتھ ساتھ اس کے ترجمے کی تلاوت کر کے دیکھئے کہ اس میں اصحاب کہف، حضرت خضرعلیہ السلام اور ذوالقرنین کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ اصحاب کہف کا واقعہ بتاتا ہے کہ اگر کفار کا غلبہ بے پناہ ہو اور ایک مومن کو ظالم معاشرے میں سانس لینے تک کی مہلت نہ دی جا رہی ہو تب بھی اسے باطل کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہئے اور راستہ تلاش کرنا چاہئے۔ اس سے آگے’ قصہ خضر وموسی‘ ہے جو میری عقل و فہم میں موجود بدترین خطرات پر میرے رب کی قدرت ، فراست اور تدبیر کو ظاہر کرتا ہے۔ میں یہی سمجھتا ہوں کہ نریندر مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی بھارتی آئین میں خصوصی حیثیت ختم کر کے بڑا ظلم ،بڑا نقصان کیا ہے اور بالخصوص پینتیس اے کا خاتمہ خود کشمیریوں کو کشمیر کے اندر اقلیت اور غلام بنا دے گا تو مجھے خضر علیہ السلام کے دست غیب سے ہونے والے اقدامات نظر آتے ہیں کہ وہ غریب کی کشتی میں سوراخ کر دیتے ہیں، سنگ دلوں کی بستی میں گرتی ہوئی دیواربلامعاوضہ بنا دیتے ہیں اور والدین کے اکلوتے بیٹے کو موت کو نیند سلا دیتے ہیں۔سچ ہے کہ اللہ کی مشیت کا کارخانہ جن مصلحتوں پر چل رہا ہے وہ ہماری نظر سے پوشیدہ ہیں اسی لئے بات ، بات پر ہم حیران ہوتے ہیں کہ یہ کیوں ہوا حالانکہ اگر پردہ اٹھ جائے تو ہم پکار اٹھیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ درست ہو رہا ہے اور پھر اس کے بعد ذوالقرنین کا قصہ ہے جس میں سبق ہے کہ ذرا ذرا سی سرداریوں پر فخر سے پھول جانا حماقت ہے، ذوالقرنین جیسا بڑا فاتح اور فرماں روا دنیا کی سب سے مستحکم دیوار تحفظ بنا کر بھی یہی سمجھتا ہے کہ اصل بھروسے کے لائق یہ دیوار نہیں بلکہ اللہ عزوجل کی ذات ہے۔ اللہ کی مرضی جب تک ہو گی ہر دیوار دشمن کا راستہ روکتی رہے گی، جب مرضی نہیں ہو گی اس دیوار میں رخنوں اور شگافوں کے سوا کچھ نہیں رہے گا۔

جناب عمران خان کہتے ہیں کہ اگر کشمیر میںمسلمان نہ ہوتے تو دنیا کا رویہ مختلف ہوتا اور میں کہتا ہوں کہ ترکی کے سوا کیا مسلمان دنیا کا رویہ ہمارے لئے بھروسے کے قابل ہے، یقینی طور پر بھروسے کے قابل صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ خضر اور موسی کے واقعے کے مصداق مجھے یہی لگتا ہے کہ کشتی میں سوراخ ہوچکا، ایک بے فائدہ دیوار بن چکی اور برہان وانی سمیت بہت سارے بچے ، جوان مارے جا چکے، ہمارے موقف کی تائید کرنے والے، ہمارے ساتھ کھڑے ہونے والوں کی تعداد بہت کم ہے، میں بطور پاکستانی یقینی طور پراپنی محدود وعقل و فہم کے مطابق خود کو خسارے میں سمجھتا ہوں مگرپھر سورة کہف سے رجوع کرتا ہوں اورایمان رکھتا ہوں کہ ہمیں جمعے کے جمعے یہودیوں سے مماثلت والے احتجاج کے بجائے اللہ اور اس کے رسو ل کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا چاہئے۔ اللہ، انسان کو وہی دیتا ہے جس کے لئے وہ مساعی کرتا ہے، ہمارا کشمیریوں سے تعلق لاالہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کی بنیاد پر ہے تو پھر ہمیں طریقہ بھی وہی استعمال کرنا چاہئے۔ کیا ہی بہتر ہو کہ ہم ظاہری اور مادی کوششوں کے ساتھ ساتھ اجتماعی طور پر جمعے کے جمعے سورة کہف کی تلاوت کریں، اپنے ایمان کو بھی مضبوط کریں اور دنیا کو بھی پیغام دیں، رب کی حکمت پر بھروسے کا وہ پیغام جو سورة کہف میں بہت ہی موثر انداز میں دیا گیا ہے۔


ای پیپر