صبرکیجئے!
01 ستمبر 2018 2018-09-01

روزانہ کی بنیاد پر کوئی نہ کوئی خبر صاف، شفاف اور سادگی پر مبنی حکمرانی میں الجھاؤ ڈالنے کا سامان کردیتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا ہوجاتا ہے۔ اب بھلا خاور مانیکا کو ناکوں پر روکا جائے تو یہ زیادتی ہے۔ پاکستان کے مستقبل کے لیے پورا خاندان چھوڑ دینے کی قربانی دینے والے کو ستانے والا تبدیل کردینے میں کیا جرم ہے ؟ عثمان بزدار، وزیراعلیٰ پنجاب سرکاری ہیلی کاپٹر پر میاں چنوں نجی تعزیتی دورے پر چلے گئے تو لوگوں نے اعتراض اٹھا دیئے۔ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال جانے پر ایمرجنسی ڈاکٹروں نے بند کردی۔ ایک دوسالہ بچی فوری طبی امداد نہ ملنے سے انتقال کر گئی۔ قصور ڈاکٹروں کا اور تنقید وزیراعلیٰ پر ؟۔۔۔اگر عثمان بزدار اور ملک الموت اکٹھے ہسپتال پہنچے تو یہ محض اتفاق تھا۔ اسی ہیلی کاپٹر میں وہ پاکپتن مزاربھی گئے اور وہاں 18پروٹوکول اور سکیورٹی گاڑیاں ہمراہ ہولیں تو شورمچ گیا۔ باوجودیکہ یہ تو اب سرکاری مزار ہے جیٹ میں اہل خانہ کے ساتھ وزیراعلیٰ نے سفر کرلیا تو ہلچل مچ گئی۔ حالانکہ مقام شکر یہ تھا کہ مری چیئرلفٹ کی طرح انہوں نے دہائی نہیں دی۔ (اسے روکو، روکو ورنہ میں مرجاؤں گا) ۔ مارے خوف کے سرائیکی میں گالیاں دیتے رہے تھے۔ اب اگر وہ سکون سے ہیلی کاپٹر، جہاز کے جھولے لے رہے ہیں تو اعتراض کیسا ؟ اسی دن کے لیے تو نواز شریف کو یہ کہہ کہہ کر اتارا تھا کہ میاں جی اب جانے دو، ہماری باری آنے دو۔ باریاں تو جھولوں پر ہی لی جاتی ہیں ۔ عجب قوم ہے وزیراعظم تاوزیر اعلیٰ، کسی کو ہیلی کاپٹر پر بیٹھا دیکھ نہیں سکتی ؟ کچھ ذمہ داری جہانگیر ترین کی بھی ہے جو ہوائی جھولوں کی عادت ڈال گئے۔ پہلے لمحے سے بے چارے کپتان کے پیچھے سب لگ گئے۔ روز قیامت کو اگر روز قیادت ، پڑھ دیا تو مغالطہ عین فطری تھا۔ اوروں کے لیے حلف برداری کا دن روز قیامت، پڑھنے کا دن تھا۔ لیکن جسے 22سال کے انتظار بعد قیادت ملی اس کے لیے روز قیادت تھا اس سے کیا گلہ، ؟ ادھر دیکھئے تو ڈاکٹر فوزیہ صدیقی فوراً ہی عافیہ صدیقی بارے امید لگا بیٹھیں! قوم کو صبر سے کام لینا ہوگا۔ توقعات تو جب لگائیں اگر عمران خان اور تحریک انصاف کی اپنی حکومت ہو۔ شیخ رشید کا بھتیجا جدی پشتی انصافیوں کی جگہ سیٹ سنبھال لے اور وہ بے چارے اف نہ کہہ سکیں۔ عثمان بزدار نجانے کہاں سے نکل کر پنجاب کی گدی سنبھال لیں۔ انصافی دم سادھے دیکھتے رہ جائیں، 20میں سے 12وزراء مشرفی ہوں !سالہا سال بعد فصل پک کر تیار ہوئی تو اس میں سے بیرسٹر فروغ نسیم، مشرف کے وکیل ! وفاقی وزیر قانون اور دوسرے صاحب جوغداری مقدمے کے وکیل تھے اٹارنی جنرل بن کر ظہور پذیر ہوئے۔ اب فروغ انصاف کی یہ صورت دیکھ کر اکرم شیخ نے سٹپٹا کر استعفیٰ ہی دے ڈالا۔کس کی سرکاری پیروی کیا ہو جب حکومت خود مشرف دفاع کونسل بن کھڑی ہو۔ کونے کھدرے سے زبیدہ جلال بھی یکایک برآمد ہوگئیں برائے وزارت سوتحریک انصاف تو خودبے چاری انصاف کی طلبگار ہے۔ ان کا پارٹی ترانہ تو یہ ہوگا۔ منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے ! شکوہ کریں تو کس سے ؟ مقتدر ہاتھ تو ایسے ہیں کہ۔ جس کو ہو جان ودل عزیز۔ اس کی گلی میں جائے کیوں !حکومتی کرسی پر بیٹھے تو شب وروز بدل چکے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے فرمایا :’آج پاکستان مغرب کا محبوب نہیں رہا‘۔ محبوبیت والی غلط فہمی پالی کیوں۔ ؟ جیسے شیطان کسی بھی انسان کا دوست نہیں ہوتا، بنی نوع آدم کا ازلی دشمن، اسی طرح مغرب کسی مسلمان کادوست نہیں ہوسکتا۔ سارے اہل دین، دہشت گرد قرار دلوالیے۔ ڈرون حملے آپریشن کروا کر علاقے تباہ، آبادیاں دربدر کروادیں، معیشت تباہ حال چھوڑی۔ مطلب پورا ہوا۔ اب طوطا چشم پھر سے اڑ کربھارتی ڈال پر بیٹھا راگ الاپے تو قصور کس کا ! ریاست مدینہ والوں کی بات کرنے والوں نے قرآن اور سیرت پڑھی ہوتی تو یہ غلط فہمی کبھی نہ ہوتی۔ قرآن نے یہ بات اتنی مرتبہ دہرائی کہ دوکے پہاڑے کی طرح ازبر ہوجاتی، اگر پڑھا ہوتا ! یہ امر بہرطوراطمینان بخش ہے کہ عمران خان نے عوامی احساسات وجذبات کی شدت اور حدت کو محسوس کرکے شانِ رسالتؐ پر مضبوط مؤقف کا اظہار کیا ہے۔ مغرب میں لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ ہمارے دلوں میں نبی ﷺ کے لیے کتنا پیار ہے۔ گستاخانہ مقابلے ناقابل برداشت ہیں۔‘ وزیراعظم صاحب!یہ آپ کی سادہ لوحی ہے۔ وہ خوب جانتے ہیں اور جان بوجھ کر اپنی پوری تاریخ میں یہی کرتے چلے آئے ہیں۔ کعب بن اشرف ملعون سے ریجینالڈ اور سلمان رشدی تک۔ آخر رشدی کو ملکہ برطانیہ نے سرکا خطاب دیا اور ہاتھوں ہاتھ لیا (اب امریکہ کی گود میں بیٹھا ہے) تو بلاسبب تو نہیں۔ ان کے ہاں صرف خنزیروں کے فارم ہاؤس ہی نہیں ہوتے۔ سلمان رشدی اور گیئرٹ ولڈرز جیسوں کے باڑے بھی بہ صداہتمام رکھے جاتے ہیں۔ اس میں پورا مغرب یک زبان ہے۔ تہذیب کی دعوے داری میں اجڈ، گنوارہونے کے کریہ، گھناؤنے مظاہر! (اللھم صلی علیٰ سیدالقاھرین علیٰ اعداء الدین ۔ بالآخر ملعون گیرٹ ولڈرز نے خاکوں کا مقابلہ ترک کرنے کا اعلان کردیا۔ موت کی دھمکیاں اور پاکستانی علم الدین، کے عزائم کارگرہوئے۔ دنیا بھر میں مسلمان اور عمران خان عنداللہ بھی سرخرو ہوئے۔ نئی حکومت کو بہت کچھ یوں بھی سننا پڑ رہا ہے کہ طویل عرصہ جدوجہد کے دوران ڈی جے کی دھنوں پر مخلوط ہلا گلا جلسے چلے۔ اب یکایک ریاست مدینہ کا مقدس عنوان تو آپ بول گئے تاہم عید کی نماز تک پر سوالیہ نشان ہی رہے۔ یہ بھاری پتھر چوم کر ایک طرف رکھ دیں تو بہتر ہے۔ ہرقدم سکیورٹی خدشات کا اظہار۔؟
ریاست مدینہ کو کم دشمن درپیش نہ تھے۔ سیدنا عمرؓ وعلیؓ تو شہید کئے گئے تھے۔ تاہم نہ نماز سے رکے۔ (تمام نمازیں انہی کی امامت میں ہوتیں) نہ ہٹو بچو منظر بنے۔ اوقات کار نوتا پانچ بجے اور ہفتہ اتوار کی چھٹی۔ ہفتہ یہود کی عبادت اور اتوار عیسائی عبادت کا دن۔ البتہ ہمارے جمعے کے دن دفاتر، سکولوں کالجوں کے باہر ایک بجے تک آمدورفت ہی کے مناظر ہوتے ہیں۔ داخلہ خارجہ پالیسی پر ریاست مدینہ۔ ؟ یہودومنافقین یک جان دوقالب رہے۔ اور والئؐ ریاست کو ان پر شدید ہونے کا حکم رہا۔ قرآن کفر کے مفادات کے تحفظ اور دوستی کی بناپر جسے منافق قرار دیتا ہے۔ رینڈ کارپوریشن کی ڈکٹیشن کے تحت کفر اسے ماڈریٹ کہہ کر اس پر پیسہ اور محبت نچھاور کرتا ہے۔ فلاحی مملکت۔ ؟ تری آواز مکے اور مدینے ۔!لوٹی ہوئی دولت سیاستدانوں، بیوروکریٹس، جرنیلوں کی واپس لائیں۔ (مشرف آئے نہ آئے ہمارا مال لوٹائے ) کچھ ملکی معیشت کی ٹوٹی کمر کو پلستر لگائیں۔ باقی عوام کے آنسو پونچھنے کے تولئے خریدیں۔ قرضے نہ لینے کا عزم بہت خوب۔ ریاست مدینہ کے بڑوں کے پیٹ پر فاقوں سے پتھر بندھے تھے۔ انہی مقدس، دنیا وآخرت کے وی وی آئی پی ہاتھوں نے خندق کھودی تھی۔ کدال کی ضرب سے نکلتی چنگاریوں میں قیصر وکسرٰی کے محلات کا وعدہ ملا تھا جو نہ خواب تھا نہ سراب۔ جہاں نبی ﷺ اور صحابہؓ کا خون اور پسینہ ٹپکا، اسی سرزمین میں بدترین دشمن، بنوقریظہ کے یہودی اپنی سازشوں سمیت دفن ہوئے تھے۔ ایٹمی پاکستان کو کم چیلنج درپیش نہیں۔ ریاست مدینہ کا خواب دیکھنے والے اقبال کو نصابوں میں تو بحال کر دیجئے۔ ایک نسل اس پیغام کو وصول اور قبول کرے گی تو شاید سیرت وکردار میں کوئی تبدیلی واقع ہو۔ قائداعظم۔؟ ایک سو تقاریر سچائی کے ساتھ خلافت راشدہ اور قرآن کا نظام لانے پر کیں۔ عمر نے وفانہ کی ورنہ اس کے اخلاص کی گواہی مولانا اشرف علی تھانوی نے دیتے ہوئے اپنے مریدین کو تحریک پاکستان کا ساتھ دینے پر مامور کیا۔ دجالی دور میں تو مسلم دنیا یوں یہودونصاریٰ وہنود دبوچے ہوئے ہیں کہ حرم میں حق کی آواز بلند کرنے والے علماء ہزاروں کی تعداد میں جیلوں میں ہیں۔ شیوخ سفرالحوالی، سلمان العودہ، عودالقرنی جیسے علمائے حق (جن کے لاکھوں متبعین سوشل میڈیا پر ہیں) سمیت۔ تازہ ترین احمد بن حنبل ؒ کا بیٹا حق گوئی کی پاداش میں شیخ صالح الطالب ، امام کعبہ ہیں۔ یہ اسیری ، مشک اذفرچیز کیا ہے اک لہو کی بوند ہے، مشک بن جاتی ہے ہوکر نافۂ آہو میں بند!(مفاداتی سیاست کی اسیری نہیں حق گوئی کی پاداش میں اسیری) 30اگست لاپتگان ، ریاستی اغواشدگان کا دن تھا۔ تاہم لواحقین امیدیں نہ لگائیں۔ یہ مگرمچھوں کے آنسو بہانے کا عالمی دن ہے۔ مظلوموں کو نگلتے بھی جائیں گے۔ ) اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ ان گھناؤنے جرائم پر گرفت کا دن تو آئے گا۔ سکرینوں پر حقائق سامنے لائے جائیں گے۔ پھر اس دن اللہ جیسا باندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں۔(الفجر)


ای پیپر