افغانستان کی دلدل اور خطے کا عدم استحکام!
01 ستمبر 2018 2018-09-01

کیا امریکہ افغانستان کی دلدل میں ڈوب چکا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح افغانستان جہاد میں سوویت یونین ڈوبا تھا جس کا آغاز 24 دسمبر 1979ء کو ہوا تھا جب سوویت یونین نے افغانستان پر جارحیت کا آغاز کیا اور اس کے ایک لاکھ فوجی شمالی سرحد سے افغانستان میں داخل ہوئے، پورے دس برس پر محیط طویل جنگ میں شکست کھا کر، 15 فروری 1989ء کو جب سوویت یونین افغانستان سے نکلا، تو گوربا چوف نے اس ہزیمت پر ایک تاریخی جملہ کہا تھا ’’آج میں نے اپنے ملک کو افغانستان کی دلدل میں ڈوبنے سے بچا لیا ہے‘‘۔ کیا امریکی فوجوں کے انخلا پر ٹرمپ بھی یہی جملہ دہرائے گا؟
اس پر تبصرے سے پہلے 11 دسمبر 2017ء کو جاری ہونے والی رینڈ نامی غیر کاروباری امریکی کمپنی کی رپورٹ دیکھتے ہیں، جس میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ ’’کیا امریکہ یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ موجودہ عالمی نظام کو جاری رکھ سکے اور اپنی قومی دفاعی سٹرٹیجی کا دفاع قائم رکھ سکے؟
ہم جانتے ہیں امریکہ دوسری عالمی جنگ جیتنے والا ملک ہے۔ وہ ملک جس نے عالمی نظام ایجاد اور دوسری عالمی جنگ کی جیت کا رخ جاپان کے دو بڑے شہروں پر ایٹم بم گرا کر بدلا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنگ کا فیصلہ اس کے حق میں ہو گیا اور وہ دنیا کے سامنے جنگ جیتنے والی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ 1945ء میں یالٹا (Yalta) کانفرنس میں امریکہ کے اتحادی ممالک کے ساتھ اختلافات سامنے آئے اور اس کے اگلے برس بریٹن ووڈز کانفرنس میں پیسوں کے عالمی صندوق، عالمی بینک اور مالیات کے دیگر ذرائع پر وہ قابض ہوتا چلا گیا۔ اس کے پیچھے عالمی اقتصادی سر چشموں پر قبضہ اور امریکہ کی خارجہ پالیسی کے غلبے کا خیال تھا۔ امریکہ نے اس بات کا ادراک کر لیا تھا کہ یورپ اور ایشیا میں اس کا عسکری وجود ضروری ہے تا کہ جو ممالک عسکری طاقت رکھتے ہیں ان کے لیے اسلحے کے استعمال اور فوجی کارروائیوں کے حوالے سے حدود وضع کی جا سکیں۔ اس کے بعد 1949ء میں نیٹو ایک فوجی تنظیم کے طور پر سامنے آئی، جس کے ذریعے امریکہ نے یورپ پر تسلط جمانے کی کوشش شروع کیں۔
سوویت یونین کے خاتمے اور سرد جنگ کے اختتام نے امریکہ کو دنیا کی واحد عالمی طاقت کے مقام پر فائز کر دیا۔ جس کے بعد امریکہ عراق کو تاخت و تاراج کرنے کے بعد افغانستان پر چڑھ دوڑا۔ سولہ برس ہو گئے اس جارحیت پسندی کو، جسے افغانستان کے امن اور تعمیر و ترقی کے نام پر دنیا کی واحد سپر پاور آج بھی جاری رکھے ہوئے ہے، اول اول جواز اسامہ بن لادن تھا، اور بعد ازاں جہادی قوتوں کو کچلنا اور افغانستان میں بحالئ امن کا دعویٰ تھا جو آج تک پورا نہیں ہو سکا۔ سولہ سالوں میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اپنی ساری عسکری طاقت آزمائی، ترقی یافتہ جدید ترین ٹیکنالوجی کا تجربہ بھی کر لیا، نیٹو جیسی مضبوط عالمی قوت کا استعمال بھی کر لیا مگر ہوا یہ کہ اسے اپنے مقاصد میں ایک فیصد بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور اب وہ اس دلدل سے نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے جس کا نام افغانستان ہے۔ ان گزرے برسوں میں امریکہ تین ٹریلین ڈالر اس بے مقصد جنگ میں جھونک چکا ہے، اس کے چار ہزار سے زیادہ تربیت یافتہ فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، لا تعداد زخمی اور معذور ہوئے اور ہزاروں نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب ایک محتاط اندازے کے مطابق ان 16 برسوں میں تقریباً 3 لاکھ مظلوم افغانی شہریوں کو فضائی بمباری، ڈرون حملوں، چھاپوں اور دیگر کارروائیوں میں ہلاک کیا گیا ہے۔ امریکی جارحیت کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور اس کی مخالفت کرنے والوں کی تعداد دس لاکھ ہے، جو بگرام اور دیگر امریکی عقوبت خانوں میں اسی طرح قید و بند کا عذاب برداشت کر رہے ہیں جیسے ڈاکٹر عافیہ، امریکہ کی وحشیانہ بمباری عوامی رہائشی علاقوں، مساجد، صحت کے مراکز شادیوں اور جنازوں کے اجتماعات پر آج بھی جاری ہے۔
کچھ عرصہ قبل امریکی نگران ادارے Sigar کی جانب سے افغانستان کی موجودہ صورت حال کے بارے میں کانگریس کے علاوہ پینٹاگان کو بھی ایک خط بھیجا گیا، اس میں امریکی فوج کی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے تشویش ظاہر کی گئی کہ ’’ افغانستان امریکہ کے کنٹرول سے نکلتا جا رہا ہے، سیگار کے مطابق صرف 2017ء میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں تین گنا اضافہ ہوا ہے ، بد امنی بڑھتی جا رہی ہے اور امریکی فوجیوں کا جانی نقصان بھی بڑھ چکا ہے جبکہ افغان فوجیوں کی ہلاکتیں معمول بن چکی ہیں‘‘۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ افغان کٹھ پتلی حکومت عوام کو تحفظ دینے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے، جب گزشتہ برس نئی امریکی حکمت عملی کا اعلان کیا گیا تو فضائی حملوں میں اضافہ ہو گیا، صرف اکتوبر کے مہینے میں 653 مرتبہ افغانستان کے مختلف مقامات پر بمباری کی گئی، مگر اس کے باوجود افغان حکومت کی طاقت میں اضافہ نہ ہو سکا اور آج حالات یہ ہیں کہ امریکہ خود طالبان کو سیاسی مذاکرات کی پیش کش کر رہا ہے۔ جنرل نکلسن نے 25 نومبر 2017ء کو ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے اپنی شکست کا اعتراف ان الفاظ میں کیا : ’’ہمیں افغانستان میں بہت سی مشکلات کا سامنا ہے، پیش رفت کے سارے راستے مسدود ہیں، افغانستان کی جنگ انتہائی خراب ترین کیفیت میں ہے، مزید فوجیوں کے آنے سے بہتری کا امکان نہیں بلکہ ہمارے خلاف مجاہدین کی مزاحمت میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ہماری کامیابی کسی موت سے نہیں بلکہ حالات سے وابستہ ہے، اگر حالات سازگار ہو گئے تو ہم کامیاب بھی ہو سکتے ہیں‘‘۔ اس کی تائید کرتے ہوئے نیو یارک کی بیرونی تعلقات کی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں سولہ سال کی جنگ کو بے فائدہ قرار دیتے ہوئے مجاہدین کے ساتھ حقیقی مذاکرات کی کوششوں کے آغاز پر اصرار کیا اور اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ ’’امریکہ جتنا بھی مخالفین کے خلاف طاقت آزمائی کرے، اس سے جنگ میں شدت تو آئے گی مگر حاصل کچھ نہ ہو گا جبکہ افغان جنگ کا واحد حل مجاہدین کے ساتھ مذاکرات ہے‘‘۔ اس سے قبل امریکہ کے مرکزی انٹیلی جنس ادارے کے سابق سربراہ، وزیر دفاع اور افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں‘‘ امریکہ اور نیٹو افغانستان میں شکست کھا چکے ہیں، یہ ایک ناکام جنگ ہے‘‘۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اسے امریکی جنرلز ، خفیہ ادارے، پینٹاگون اور خود امریکی صدر ناکام مان چکے ہیں، یہ جنگ امریکی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ ہے، جس کی دلدل میں امریکہ بری طرح ڈوب چکا ہے، اب وہ اس سے نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے، افغانستان کے ستر فیصد حصے پر جہادیوں کا قبضہ ہے اور کابل کی کٹھ پتلی حکومت کا یہ حال کہ عید کے روز صدارتی محل پر راکٹ برسائے گئے اور حکومت بے بسی سے دیکھتی رہ گئی۔ یہی وجہ آج امریکی تھینک ٹینک اور دفاعی تجزیہ کاروں کے علاوہ خود پینٹاگون سے بھی اس خوفناک اور بے فائدہ جنگ کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے طالبان کو مذاکرات کی پیشکش کی مگر طالبان اس پر آمادہ نہیں، اس کے برعکس خطے میں بدلتے ہوئے اتحادوں کی نئی تشکیل میں، طالبان کا جھکاؤ روس کی جانب دکھائی دیتا ہے۔ چین، پاکستان،ایران ، ترکی اور روس کے امکانی اتحاد نے امریکی برتری اور تسلط کے خلاف ایک نئی طاقت کے آغاز کا اشارہ دے دیا ہے، جو دنیا کی واحد سپر پاور کے خطے میں مفادات کے لیے ایک ایسا خطرہ بن کر سامنے آ سکتا ہے جو اسے ہرگز بھی قبول نہ ہو گا۔ امریکہ کے پاکستان مخالف بیانات اور بھارت کی جانب جھکاؤ اس کے خطرناک عزائم کی نشاندہی ہے۔ افغانستان کے حوالے سے ٹرمپ کی سٹرٹیجی اسی پالیسی کی عکاس ہے جسے وہ ایشیا میں نافذ کرنا چاہتا ہے تا کہ خطے کے اقتصادی اور سٹرٹیجک وسائل پر اس کا قبضہ قائم رہ سکے۔ خصوصاً چین اور روس کا ایشیا میں رسوخ اس کے لیے قابل قبول نہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ افغانستان کو میدان کارز ار بنائے ہوئے ہے جس کا براہ راست اثر پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے برداشت کر رہا ہے۔ انہی مقاصد کے حصول کے لیے امریکہ نے داعش کو افغانستان میں داخل کیا ہے تا کہ جہادیوں کے علاوہ چین، روس، پاکستان اور ایران کو لگام ڈال سکے۔
مگر کیا اسے اپنے خطرناک عزائم میں کامیابی نصیب ہو گی یا پھر وہ بھی ایک دن افغانستان سے ہاتھ ملتے ہوئے رخصت ہو جائے گا۔ یہ کہتا ہوا ’’آج میں نے اپنے ملک کو افغانستان کی دلدل میں ڈوبنے سے بچا لیا‘‘۔


ای پیپر