سادگی کا چونا
01 ستمبر 2018 2018-09-01

ملکی سیاست کے وہ بچے جو سوشل میڈیا کی گود میں جوان ہوئے۔ انہیں نہیں معلوم۔ پاکستان میں سب سے پہلے سادگی کا چونا جنرل ایوب نے 1958 میں قوم کی آنکھوں میں پھیرا تھا۔ شادی بیاہ میں بڑی بھابی دیور کی آنکھ میں سرمہ لگاتی ہے۔ ہمارے جنرل ایوب خان سرد جنگ کا یہ سرمہ امریکہ بہادر کی آنکھ میں لگا کر پرائی شادی میں بھنگڑے ڈال رہے تھے۔ اور پاک سرزمین پر سرخ ریچھ کے شکار کے لیے امریکی ٹام، ڈک اور ہیری کو فضائی اڈے مہیا کر رہے تھے۔ اور ملک دولخت ہونے کی بنیاد رکھ رہے تھے۔ جبکہ دوسری جانب ملکی گلیوں اور نالیوں میں چونا پھینک کر بھولی قوم کو آرے لگا رکھا تھا۔ پاکستان کی تاریخ میں ایک لطیفہ مشہور ہے۔ ایک شخص نے صبح اٹھ کر کھڑکی سے باہر جھانکا تو اس نے دیکھا نالیوں پر چونا پھینکا گیا ہے۔ اس نے اخبار کے دفتر فون کرکے تصدیق چاہی۔ کیا ملک پر مارشل لا نافذ ہو چکا ہے۔ سادگی کا یہ چونا دو مواقعوں پر لگایا جاتا ہے۔ ایک جب مارشل لا لگتا ہے۔ اور دوسرا جب فوج کے نیچے سول حکومت بنتی ہے۔ دکھوں اور ناآسودہ خواہشوں کی ماری قوم سادگی کی اس چونا مار مہم سے بہت جلد متاثر ہوتی ہے۔ یہ قوم اپنے دکھوں اور تکلیفوں کا ذمہ دار بڑے بڑے افسروں، حکومتی عہدے داروں اور سیاستدانوں کو سمجھتی ہے۔ کم از کم مطالعہ پاکستان میں انہیں یہی بتایا گیا ہے۔ چناچہ جب کوئی فوجی آمر یا نیم فوجی سول حکومت سادگی کے نام پر ان افسروں اور حکومتی عہدے داروں کی نام نہاد مراعات واپس لیتی ہے یا انہیں محدود کرتی ہے۔ تو یہ قوم ایک کمینی قسم کی خوشی میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ دفتری اوقات میں ہیر پھیر کرکے جو ایک گھنٹے کا فرق ڈالا جاتا ہے۔ اس گھنٹے کو قوم انقلابی قدم سمجھتی ہے۔ اسی طرح سائیکل کی سواری سب پر بھاری ٹھہرتی ہے۔ وہ ادھیڑ عمر لوگ جو رومان پسندی میں نسیان کی بیماری یعنی بھول جانے کے مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں انہیں یاد دلانا چاہیے کہ ہمارے تیسرے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق بھی سائیکل کے بڑے دلدادہ تھے۔ سادگی کی مہم پر عمل کرتے ہوئے اس فوجی آمر نے پورے روٹ پر کرفیو لگا کر اپنے دفتر تک سائیکل چلائی تھی۔ اور ہمارا میڈیا، اکلوتا ٹی وی اور پوری قوم خوشی اور مسرت کے مارے پاگل ہو گئی تھی۔ سادگی کے چونے میں پاگل پن کی شمولیت مرض کو لا علاج بنا دیتی ہے۔ اوپر سے اینٹی کرپشن کا تڑکا سونے پر سہاگہ ہے۔ پچھلے چار پانچ سال سے ہمارے ایک انقلابی لیڈر قوم کو یہ بتا کر انسپائر کر رہے تھے۔ کہ ڈنمارک کا وزیراعظم سائیکل پر دفتر جاتا ہے۔ حالانکہ اس کے لیے جنرل ضیاء کی مثال ہی کافی تھی۔ ابھی تک اس انقلابی لیڈر کا سائیکل چلانے کا انتظار ہے۔ تاکہ روپے روپے کی ویلیں دے کر قومی خزانے کو بھرا جا سکے۔ سائیکل کے علاوہ گورنر ہاؤسز کو ختم کرنا اور وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی اور لائبریری میں تبدیل کرنے کا پروپیگنڈہ دکھی قوم کی اسی کمینی خوشی کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا جا رہا تھا۔ اب یہ قوم فیس بک پر تاویلیں دے کر اپنے جھلے ہونے کا مزید ثبوت دے رہی ہے۔

چونے اور سائیکل کے علاوہ سادگی کے آزمودہ نسخوں میں چھوٹی کاروں کا استعمال اور بڑی گاڑیوں کے استعمال پر پابندی بھی شامل ہے۔ جونیجو کی نیم فوجی حکومت نے سب سے پہلے افسر لوگوں کی کار یافتہ مراعات پر پابندی لگا کر ننگی بھوکی قوم کا تن ڈھانپنے کی کوشش کی تھی۔ ضیاء الحق کو معلوم تھا۔ اس قوم کو اسلام اور سادگی کے نام پر کس طرح لولی پاپ دیا جا سکتا ہے۔ چناچہ تڑکے کے طور پر جونیجو کو یہ اجازت بھی دے دی گئی تھی کہ وہ جرنیلوں کو بھی 800 سی سی کی گاڑیوں پر بٹھا دے۔ جرنیلوں اور ججوں کو چھوٹی کاروں پر بٹھانے کی اجازت ابھی تک نئے پاکستان کے معمار کو نہیں ملی۔ یوں سادگی کی اس چونا مار مہم میں ابھی تک پرانے پاکستان کا جونیجو ہی فسٹ آتا ہے۔

سادگی کی موجودہ چونا مار مہم میں گھنٹوں اور چھٹیوں کے ہیر پھیر ، بڑی کاروں اور سرکاری ریسٹ گھروں کی فروخت، فرسٹ کلاس ہوائی ٹکٹوں پر پابندی، مخصوص طیاروں اور مخصوص بیماریوں کے بیرون ملک علاج پر پابندی جیسے رومانی اقدامات کا اضافہ کر دیا گیا۔ قوم کو یہ نوید بھی سنائی گئی ہے۔ وزیراعظم صرف دو ذاتی نوکر رکھیں گے۔ جن کا کام بوٹ پالش کرنا اور چمکانا ہو گا۔ جبکہ پہلے وزرائے اعظم کوئی چھ سو کے قریب ملازمین سے خدمت کرواتے تھے۔ جن میں مٹھی چاپی، سر کی چمپی، ٹانگوں پر لتاڑا، انگلیوں کے پٹاخے نکلوانا، کمر کے دور دراز حصوں پر خارش کروانا ، آنکھوں کی گد نکلوانا، کانوں سے میل نکلوانا، دانتوں میں خلال کروانا ، پنیوں کی تیل مالش کروانا، ناک کے بال کھنچوانا اور جسم کے غیر ضروری بال اتروانا جیسے قومی کاموں کے لیے الگ الگ نوکر رکھے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم ہاؤس کا ایک ملازم وزیراعظم کی جگہ چھینک مارتا تھا۔ ایک ملازم وزیراعظم کے ڈکار لیتا تھا۔ جبکہ گیس اور خراٹوں کے معاملات ملٹری سیکرٹری کی ذمہ داری تھے۔ لیکن موجودہ وزیراعظم کی سخی طبیعت کی وجہ سے وزیراعظم ہاؤس کے کسی ملازم کو نہیں نکالا گیا۔ اور چھ سو ملازم ویلے بیٹھ کر تنخواہیں وصول کریں گے۔ایک اندازے کے مطابق پرانی بڑی گاڑیوں کو بیچ کر ملکی قرضہ اتر جاے گا اور سادگی کی باقی چونا مار مہم سے خزانہ لبا لب بھر جانے کے امکانات ہیں۔اس رقم سے بعد میں نئی بڑی گاڑیاں خریدنے کے روشن امکانات نظر آتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی خرید و فروخت جونیجو کے دور میں بھی ہوئی تھی۔ اس خوش خبری پر قوم خوشی کے شادیانے بجا رہی ہے۔ جنرل ضیاء نے تو صرف اسلام کا نفاذ کیا تھا لیکن ہم تو مجسم قوم مدینہ کی اسلامی ریاست میں داخل ہو چکے ہیں۔

جس طرح جنرل ایوب نے قوم کو سادگی کا چونا لگا کر سرد جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا تھا۔ اسی طرح جنرل ضیاء نے قوم کو سادگی اور اسلام کا لولی پاپ چوسنے پر لگا کر ہاٹ وار میں امریکہ کی جنگ لڑی تھی۔ جنرل مشرف یہی خدمت وار آن ٹیرر میں سر انجام دیتا رہا۔ ان تاریخی حوالوں سے یہ ثابت ہوتا ہے۔ جب آپ کو سنجیدہ قومی ایشوز پر بات کرنے اور پالیسیاں بنانے کی اجازت نہ ہو۔ ان ایشوز کو قوم سے چھپانا مقصود ہو۔ تو پھر آپ کو سرکاری گاڑیاں بیچنے، سرکاری ریسٹ ھاؤسز بیچنے، فرسٹ کلاس میں سفر نہ کرنے، ہفتے اور اتوار کی چھٹی کرنے، خصوصی طیارہ استعمال نہ کرنے، اور سادگی اختیار کرنے جیسے مخولیہ نان ایشوز پر لگا دیا جاتا ہے۔ اس سے ہلچل بھی نظر آتی ہے۔ مثالیت پسند نابالغ بھی خوش رہتے ہیں۔ اور سنجیدہ ملکی و معاشی و علاقائی و بین الاقوامی مسائل کی جانب نظر بھی نہیں جاتی۔ اور اسٹیبلشمنٹ ان ایشوز پر اپنا ہولڈ قائم رکھتی ہے۔ صاف نظر آنے لگا ہے۔ حکومت کی یہ تبدیلی اسی لیے کی گئی ہے تاکہ ایک تو اسٹیبلشمنٹ اس حکومت سے اپنے وہ تمام مالی و ادارہ جاتی مطالبات منوا سکے جو نواز حکومت پورے نہیں کر رہی تھی۔ جیسے ریلوے، سی پیک، بجٹ کے علاوہ فنڈز، اختیارات پر قبضہ، یمن، ایران، سعودی عرب، بھارت، افغان، امریکہ اور دہشت گردی پر پالیسیاں ، اب یہی دیکھ لیں۔ پہلے ہفتے ہی بھارت کے ساتھ امن مذاکرات اور امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے معاملات کو لے کر حکومت اور وزیراعظم کی ساکھ اتنی خراب کر دی گئی ہے کہ اب کون سا ملک ہے جو سول حکومت کے ساتھ بات چیت کرے گا۔ یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ان معاملات پر اگر گفتگو کرنی ہے تو رائٹ فورم اسٹیبلشمنٹ ہے۔ اور ہمارے وزیراعظم کو پہلے ہفتے ہی یہ بھی معلوم ہو گیا ہے وہ کونسی قوت ہے جو وزیراعظم سے بالا بالا ہی فیصلے کر لیتی ہے اور سویلین محکموں سے اس کا اعلان بھی کروا دیتی ہے اور وزیراعظم کو محض قومی و بین الاقوامی شرمندگی اور خجالت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب ہمارے کچھ دوستوں کی آنکھوں سے سادگی مہم کا چونا اترے گا۔ تو انہیں معلوم ہو گا پان میں چونا تیز ہے۔ اور زبان کٹ رہی ہے۔


ای پیپر