حقیقت
01 ستمبر 2018 2018-09-01

اک زمانہ تھا جب سوشلزم اور کمیونزم کا سورج پور ی آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا اسکے فروغ میں مصروف چند تنخواہ دار دانشور اسکی’’ فیوض و برکات‘‘ سے عوام کو گمراہ کرنے میں مصروف تھے اور انسانی حقوق کا علم اٹھائے سربکفن تھے انہیں عید قربان پے سنت ابراہیمی کی ادائیگی جانوروں پے ظلم دکھائی دیتی تھی وہ بضد تھے کہ قربانی پر اٹھنے والے اخراجات کو انسانیت کی فلاح پر خرچ کرنا ’’ عین ثواب‘‘ ہے اس غیر حقیقی منطق کے خلاف اس عہد کے علماء کرام اس پروپیگنڈہ کے خلاف سرگرم ہوئے اور انہیں فکری اور علمی میدان میں شکست فاش دی ان میں اک نام عصر حاضر کے عظیم اسلامی مفکر سید ابو اعلیٰ مودودی کا بھی تھا جنہوں نے اپنے وجدان سے ستر کی دہائی میں پیش گوئی کی تھی کہ اک وقت آئے گا جب کمیونزم اپنے انجام کو پہنچ جائے گا وہ اپنے مبارک آنکھوں سے اسکا انہدام تو نہ دیکھ سکے البتہ اسکے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں نے اس کے نظام حامی جرنیلوں کو روس کی گلیوں میں بھیک مانگتے ضرور دیکھا، نرم و نازک شاخ پے بنے گا جو آشیانہ ناپیدار ہوگا یہ نظام اسکی عملی تفسیر دکھائی دیا ۔ان نام نہاد اہل علم کی بات پر کسی نے دھیان نہ دیا اور مسلمان جوق در جوق سنت ابراہیمی ادا کرتے رہے آج کی جدید دنیا میں اس میں نہ صرف روز بروز اضافہ ہورہا ہے بلکہ عالمی معیشت میں یہ سنت اپنا وزن رکھتی ہے صرف سعودی عرب میں دنیا بھر سے آئے حجاج کرا م لاکھوں کی تعداد میں جانور اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہیں دیگر مسلم ممالک میں کی جانے والی قربانی اس کے علاوہ ہے جس میں اونٹ سے لیکر بکرے اور دنبے تک جانور قربان ہوتے ہیں۔

ارض پاک میں ایک سال میں اک محتاط انداز تیس ارب سے زاہد کا کاروبار محض قربانی کی سنت سے وابستہ ہے جس میں تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد اپنی اپنی محنت کے مطابق حصہ پاتے ہیں سماج کے خاطر خواہ طبقہ کا روزگار اس سے منسلک ہے اگر یہ کہا جائے کہ لائیو سٹاک کے کاروبار کی بنیاد بھی قربانی ہے توبے جانہ ہوگا۔مسلم ممالک تو رہے اک طرف دیگر غیر اسلامی ممالک میں جہاں جہاں مسلم آباد ی مقیم ہے وہاں بھی مسلم کمیونٹی اپنی اپنی حیثیت میں اس فریضہ کو انجام دیتی ہے البتہ جانوروں کی تلاش کے علاوہ دیگر مسائل کا انہیں سامنا رہتا ہے البتہ ’’اجتماعی قربانی‘‘کی کاوش سے انہیں اک سہولت ضرور میسر آگئی ہے۔

ہندوستان میں مسلم آبادی کو گائے کی قربانی کیلئے بعض اوقات خون کا دریا پار کرنا پڑتا ہے مقام حیرت یہ ہے کہ بھارت اس خطہ میں اک ایسا ملک ہے جو حلال گوشت کی برآمدگی میں درجہ بندی کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہے لیکن گائے کی قربانی کیلئے اس نے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کررکھا ہے دلچسپ امر یہ ہے کہ برآمد کردہ گوشت میں بیل کا گوشت شامل ہوتا ہے البتہ گائے کے ’’مقدس ‘‘ہونے کا فلسفہ خود ساختہ دکھائی دیتا ہے بھارت ہی کے سماج سے بہت سے اہل دانش اور قلم کا ر معترف ہیں کہ ماضی بعید میں گائے ذبخ کرنے کے اعتبار سے کبھی مقدس نہیں رہی اسکو ’’ مقدس ‘‘ بنانے کا فریضہ ہندوانتہا پسندوں نے انجام دیا ہے۔اگر ہندو عوام وسعت قلبی سے کام لے گائے کا احترام اپنے دل میں رکھتے ہوئے اسکو ذبخ کرنی کی عمومی اجازت مسلمانوں کو دے تو بہت سے مسلمان حلال گوشت کے کاروبار میں شریک ہوکر بھارت کی معیشت میں کلیدی کردار اداکرسکتے ہیں پورے عالم میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی نے حلال گوشت کی مانگ میں بھرپور اضافہ کیا ہے اس قادر مطلق نے جس نے انسان کو تخلیق کیا اسکے رزق کا نہ صرف اہتمام کیا بلکہ اسے حلال کھانے ہی کی ہدایت کی ۔پندرہ سو سال قبل سورہ المائدہ میں اللہ تعالیٰ نے ان تمام جانوروں کو حرام قرار دیا جو گلا گھٹنے سے مرا ہو۔ جو چوٹ سے مرا ہو، جو اوپر سے گر کر مرا ہو، جو سینگ لگ کر مرا ہو جس کو کسی درندے نہ کھایا ہو ، اسی طرح مردار، خون اور سور کا گوشت بھی حرام ہے جسکی تفصیل تفاسیر میں موجود ہے۔

عرب کے معاشرے میں فال اور جوئے کے تیروں کا رواج تھا جس کے ذریعہ وہ گوشت یا کسی چیز کے حصے حاصل کرتے تھے سورۃ البقرہ میں ’’ خیسرو میسر‘‘ اس کے تحت آتے ہیں اہل عرب گوشت پر جو ا کھیلتے گوشت کی جو ڈھیریاں جیت جاتے انکو بھونتے اور پھر کھاتے اور کھلاتے،شرابیں پیتے اور بسا اوقات اس شغل اور بدمستی میں ایسے ایسے جھگڑے کھڑے کرلیتے جو قبائل کے مابین نسل در نسل چلتے اور سینکڑوں جانیں اسکی نذر ہوجاتیں۔قرآن نے غرباء کو گوشت کھلانے کو فائدہ قرار دیا لیکن جوئے کی بنیاد پر گوشت کے حصول کو حرام ٹھہرایا۔

مقام شکر ہے کہ اللہ نے ہمیں اسلام جیسی نعمت عطا کی ہے ورنہ حشرات وغیرہ کے کھانے کا سن کر ہی کراہت آتی ہے آج کی جدید سائنس نے جن نئی بیماریوں کو دریافت کیا ہے انکا اک بڑا سبب حرام جانور ،درندوں اور حشرات کا کھانا ہے اس کے علاوہ جانوروں کو ذبخ کیے بغیر کھانا بھی اسکی بڑی وجہ ہے ماہرین کا خیال ہے ذبخ کیے بغیر جانور کو موت کے گھاٹ اتارنے کابڑا نقصان خون کا جانور کے جسم سے مکمل عدم اخراج ہے جوبہت سی بیماریوں کا باعث بنتا ہے ان بیماریوں کی تحقیق اور علاج پر بھاری بھر سرمایہ خرچ کیا جارہا ہے اس کے مقابلہ میں حلال گوشت کھانے والے مسلمان ان مخصوص جلدی بیماریوں سے بھی محفوظ رہتے ہیں جسکی بڑی وجہ انکی حلال خوراک ہے اگرچہ مغربی ممالک میں حلال فوڈز کے بارے میں اک شعور تو ضرور موجود ہے مغرب کی نسل نو اس جا نب متوجہ بھی ہے اور مسلم برادری سے متعلقہ نوجوان حلال فوڈز کے بارے میں زیادہ حساس بھی ہیں۔ اگرمسلم اہل دانش اور طب کے ماہرین قرآن و سنت کی روشنی میں حلال فوڈز کی جانب اہل مغرب کو متوجہ کرسکیں اور اسکے فوائد کی روشنی میں نسل نو کو حلال کھانے پر آمادہ کریں تو یہ نہ صرف انسانیت بلکہ دین کی بھی خدمت ہوگی۔ بھاری بھر پراسرار بیماریوں کی موجودگی میں حلال فوڈز کی اہمیت دو چند ہوگئی کیونکہ یہ صحت کے معیاری اصولوں کے عین مطابق بھی ہے۔

اہل مغرب اور غیر مسلم قربانی کے فریضہ کی ادائیگی کا بخوبی علم رکھتے ہیں حلال فوڈز ان کیلئے اجنبی نہیں۔

مقام حیرت یہ ہے کہ ہندوستان کی وہ سرزمین جہاں مسلمانوں نے قریباً ایک ہزار سال تک حکومت کی ہے اس دیش ہی میں مسلمانوں کے لیے فریضہ قربانی کی ادائیگی ’’گاو کشی ‘‘کے ذریعہ ناممکن بنایا جارہا ہے اور ان سے یہ بنیادی حق چھینا جارہا ہے جو خود ساختہ بھارت کے ’’ جمہوری چہرہ ‘‘ پر طمانچہ کے مترادف ہے باوجود اس کے مسلمانوں کی غالب اکثریت اب وہاں کی بڑی سیاسی قوت بننے جارہی ہے۔ اگر کمیونزم اور سوشلزم بھاری بھر دعوؤں کے باوجود اپنی مو ت خود مرچکا ہے تو خودساختہ ہندوازم جو اک ریاست تک محدود ہے کی طویل عمری کی بھی اک مدت مقرر ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ کالایا ہوا اسلامی نظام اک آفاقی حقیقت ہے جس سے کسی کو انکارنہیں۔اس میں اک فریضہ قربانی کی ادائیگی کا بھی ہے ہندوستان کے انتہا پسند ہندو

آخر کب تک اس حقیقت سے آنکھیں چراتے رہیں گے۔ کیا گیتا میں دیئے گئے کرشن جی کے وعظ اور محبت بھرے خیالات اور بول میں اہل مقبوضہ کشمیر اور مسلمانان ہند کا کوئی حصہ نہیں ہے؟


ای پیپر