وزیر اعظم کا دورہ جی ایچ کیو
01 ستمبر 2018 2018-09-01

وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے اہم ارکان نے گزشتہ سے پیوستہ روز جی ایچ کیو کا دورہ کیا جہاں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان کا استقبال کیا۔ وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے ارکان کو ملک میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز، آپریشن ردالفساد، کراچی کی صورتحال اور خوشحال بلوچستان پروگرام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر وزیر اعظم نے پاک فوج کی آپریشنل تیار یوں، پیشہ وارانہ مہارتوں کو سراہا۔ جی ایچ کیو کے دورے پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان کو اندرونی و بیرونی سطح پر چیلنجوں کا سامنا ہے۔ قوم کے تعاون اور قومی حکمت عملی سے چیلنجوں پر قابو پالیں گے‘‘۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ حکومت پاک فوج کو اپنی صلاحتیں بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن وسائل مہیا کرے گی۔ پاکستان نے آگے بڑھنا ہے اور اقوام عالم میں پاکستان ایک مثبت ترقی یافتہ ملک بن کر ابھرے گا۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ’’ملک کی حفاظت کے لئے پاک فوج قوم کی توقعات پر پورا اترے گی۔ ہر قیمت اور قربانی دے کر مادروطن کا دفاع یقینی بنایا جائے گا۔‘‘نئی حکومت اور پاک فوج کے درمیان اس قدر خوشگوار تعلقات اور پاکستان کو مل کر آگے لے جانے کا عزم دہرانے کے بعد بھی دشمنان پاک وطن کی درفنطنیاں جاری ہیں۔ اہل مغرب کو تو پاکستان کے ساتھ خدا واسطے کا بیر ہے۔ وہ کسی قیمت پر بھی پاکستان کو اور پاکستانی عوام کو پھلتا پھولتا اور ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے ہاں جمہوریت کا تسلسل قائم ہے ۔ مشرف مارشل لاء کے بعد یہ تیسری دفعہ انتقال اقتدار ممکن ہوا۔ جمہوریت کی یہ پختگی دیکھ کر ان کے تو ہوش اڑ گئے۔ پہلے تو انہوں نے عام انتخابات کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں عالمی اخبارات نے 25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے اپنی رپورٹس میں دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے انتخابی مہم جس جارحانہ انداز میں کی ہے ، وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ عمران خان ’’امپائرز‘‘ کوکس حد تک خوش رکھ سکیں گے اور عمران خان یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ ان کے پاک فوج کے ساتھ تعلقات بہتر ہیں۔شائع کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ انتخابی مہم کے دوران عمران خان نے لوگوں کی توجہ تو حاصل کرلی اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ کیا ان کے فوج کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں۔اخبار کے مطابق عمران خان نے انتخابی مہم جارحانہ توانائی کے ساتھ چلائی ہے اور اپنے ووٹرز کو یہ پیغام دیا ہے کہ میچ کی آخری بال تک ہمیں آرام سے نہ بیٹھنے کا عزم کرنا ہو گا۔
صرف غیر ملکی میڈیا ہی نہیں بلکہ ہمارے اپنے لوگ بھی نئی حکومت اور فوج کے ٹکراؤ کے خود ساختہ مفروضے پر
بات کرتے پائے گئے ہیں۔ معروف صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ نئی حکومت اور فوج میں فی الفور تو تصادم کا خدشہ نہیں مگر ہو سکتا ہے کہ ایک سال بعد ان کی راہیں جدا ہو جائیں۔ اب نہ جانے کس خیال کے تحت سہیل وڑائچ نے یہ پیش گوئی کی ہے ، کوئی پتہ نہیں۔ اسی طرح لاہور سے تعلق رکھنے والی خاتون تجزیہ نگار گل بخاری نے اس شک کا اظہار بھی کیا کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد عمران خان ملکی فوج کے اشاروں پر چلیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین نہیں کہ وہ (عمران خان) آزادانہ طور پر فیصلے کر سکیں گے، بالخصوص خارجہ پالیسی اور داخلی سکیورٹی کے حوالے سے۔‘‘ اس الیکشن میں ناکام ہونے والی سیاسی پارٹیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ فوج نے الیکشن کے عمل میں مداخلت کی ہے۔ تاہم ملکی الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔عمران خان کے دورہ جی ایچ کیو کے موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ یقین دلایا کہ فوج حکومت کی پالیسی کے مطابق اس کی رہنمائی میں کام کرے گی۔ آرمی چیف کا کہنا تھاکہ پاکستان میں یہ تاثر ہے کہ آرمی حکومتوں کے امور میں مداخلت کرتی ہے لیکن میں یہ یقین دلاتا ہوں کہ جو پالیسی بھی سویلین حکومت دے گی فوج مکمل طورپر اس کا ساتھ دے گی اور اس کی پیروی کرے گی۔ فوج اور آرمی چیف نے وزیراعظم اور کابینہ کے سامنے دل کھول کر رکھا تھا۔جس طرح سابق حکومت کا اداروں سے دور ہونے کا تاثر تھا امید ہے کہ اس حکومت میں ایسا کچھ نہیں ہوگا بلکہ اندرونی اور بیرونی تمام ایشوز پر وزیراعظم عمران خان تمام اداروں کی مشاورت کے بعد پالیسی بیان دیا کریں گے اور وہ پاکستان کی طرف سے ہی بات کیا کریں گے۔ وزیر اعظم کی جی ایچ کیو میں میٹنگ کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ پوری دنیا کو بتایا جاسکے کہ حکومت اور تمام ادارے نہ صرف ایک پیج پر ہیں بلکہ کتاب بھی ایک ہے۔سابقہ حکومت کی پالیسی کی سب سے خراب بات یہ تھی کہ ان کی پالیسی میں سب سے زیادہ ان کی ذات ملوث تھی۔دیگر ممالک سے تعلقات میں ان کا کاروبار آڑے آتاتھااور ان کی پالیسیز میں ان کا بزنس بہت زیادہ ملوث تھا۔ عمران خان کا کسی معاملے میں نہ توکوئی کاروباری دلچسپی ہے اور نہ ہی انہوں نے اپنی فیملی کیلئے راج دہانی بنانی ہے اس لئے دونوں حکومتوں کافرق واضح ہے اور عمران خا ن کی حکومت صرف اورصرف پاکستان کے معاملات کو آگے لیکر جائے گی۔حقیقت یہ ہے کہ کرپٹ مافیا نے نئی حکومت کو ناکام اور بدنام کرنے کے لئے گٹھ جوڑ کر لیا ہے۔لیکن دورہ جی ایچ کیو سیاسی اور عسکری قیادت میں ہم آہنگی کی طرف اہم قدم ہے۔ سول ملٹری قیادت کا ایک پیج پر ہونا خوش آئند ہے۔ عمران خان کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر شور مچانے والے سابقہ حکومت کے بلنڈرز پر خاموش رہے۔
آخر کیوں ایسی باتیں ہو رہی ہیں۔ کیا نئی حکومت کو وقت دیں تاکہ نئی حکومت کی کارکردگی عوام کے سامنے آجائے اور کارکردگی کی بنیاد پر صائب رائے دی جاسکے۔پوزیشن جماعتیں دس سال اقتدار میں رہی ہیں وہ قومی مفاد میں صبر کریں اور نئی حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنے سے گریز کریں۔ پاکستان کے نئے وزیراعظم عمران خان اور وفاقی و صوبائی وزراء بھی سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے کی بجائے باوقار انداز اپناتے ہوئے اپنی توجہ عوامی خدمت پر مرکوز رکھیں۔ مطمئن عوام ہی نئی حکومت کے استحکام کا ضامن بن سکتے ہیں۔


ای پیپر