کہاں گئے وہ معاشرتی مدارس
01 ستمبر 2018 2018-09-01

دروازے کی گھنٹی بجی، باپ نے نہایت ہی غصیلی نظروں سے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے پاس بیٹھے بیٹے کو کہا ’’ذرا جاکر دیکھو اس وقت کون بے غیرت آیا ہے دروازے پر‘‘ بیٹا اس معاملے میں باپ سے بھی دو قدم آگے تھا، پاؤں پٹختا دروازے پر پہنچا اور پھر تھوڑی دیر کے بعد آکر باپ سے بولا’’ابو جی !آپ کو فلاں بے غیرت دوست آیا ہے‘‘ باپ کے چہرے کا رنگ اور زیادہ سرخ ہوگیا اور پھر ’’بے غیرت ‘‘ کے ساتھ ایک اور ننگی گالی دیتے ہوئے کہا کہ ’’بھگا اس حرام زادے ،بے غیرت کو‘‘۔کچھ ہی دیر بعد باپ بیٹے میں تو تکرار شروع ہوگئی باپ کا پارہ چڑھ گیااور وہ بیٹے سے بولا ’’ میں بھی بے غیرت ،ڈھیٹ ہوں مگر تم تو بے غیرتی، ڈھیٹ پنے کی انتہا کردی‘‘یہ ہے وہ کلچر ہے جو آج کے معاشرے نے پروان چڑھانا شروع کردیاہے، ظاہر ہے کہ گھر میں اس قسم کی گفتگو کے بعدجب باپ یا بیٹا گلی محلے اورشہر میں نکلتے ہونگے تو پھر اس تلخی یا غیر اخلاقی بات چیت اورگالم گلوچ میں اور زیادہ اضافہ ہوتا ہوگا ۔ مگر آج کل اسے ’’معمولی‘‘ سمجھ کر نظرانداز کردیاجاتاہے نہ تو ماں باپ کو پرواہ ہے اور نہ ہی استاد اس بارے درد سر لینے کو تیار ہے کیونکہ استاد کے منہ سے بھی ایسے ہی ’’پھول‘‘ جھڑتے ہیں۔

باہر کی دنیا تو خیر ہوتی ہی الگ ہے کہ جہاں قسماقسم کے مزاج رکھنے والے افراد کارش رہتا ہے ،مگر آج کا بچہ سکول کے بعد گھر اور اپنے آس پاس کے ماحول سے ہی سیکھتاہے۔ کمپیوٹر سے مغزماری کرے یا پھر ٹیلیویژن سے مستفید ہو ، ہرجگہ ایسے ہی نمونے بکھرے نظرآتے ہیں ۔ کہاں وہ پی ٹی وی کادور کہ جہاں ڈراموں میں بھی حتی الوسع کوشش کی جاتی کہ کوئی کردار دوسرے کو گالیاں نہ دے ، مگرآج کادور .....اف اللہ......بریکنگ نیوز میڈیا نے یہاں بھی اخلاقیات کو وہ تیا پانچہ کیا ہے کہ الامان والحفیظ، ڈراموں میں منظر نگاری کے نام پر جس قدر فحاشی کو فرو غ دیاجاتاہے وہ الگ داستان ہے مگر مزاح کے نام پر جو کچھ بولا اوربکاجاتا ہے وہ الگ کہانی ہے۔ الاماشا اللہ جتنے بھی ٹی وی چینلز ہیں ان کے مزاحیہ ڈراموں میں جس قدر بداخلاقی دکھائی جاتی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ آج سے کچھ عرصہ قبل پاکستانی سٹیج ڈرامے گھر والوں اورخاص طورپر بچوں سے دور رکھے جاتے تھے تاکہ انہیں بداخلاقی کی بیماری سے دور رکھاجائے مگر آج کے کیبل آپریٹر نے والدین کی ان کوششوں کو دور پرے دھکیل دیاہے۔ اب ایسے سٹیج ڈراموں کے دوران ماں بہن کی گالیاں کی فکر نہ تو باپ کوہوتی ہے اورنہ ہی ماں کچھ سمجھانے سکھانے کی کوشش کرتی ہے۔

آگے چلئے ،ہم نے تو نہیں دیکھا مگر سناکرتے ہیں کہ ماضی میں بزرگوں کی بیٹھک ہوا کرتی تھی جہاں نوجوان جاتے ہوئے جھجھکتے تھے، کیونکہ انہیں ادب ،احترام کا پاس ہوا کرتاتھا ،انہی محافل میں بچوں، نوجوانوں کو سکھایاجاتاتھا کہ اگر کسی بڑے یابزرگ کے ساتھ ایک چارپائی پر بیٹھنے کااتفاق ہوجائے تو کوشش کرنا کہ پائینتی کی طرف ہی بیٹھنا اور سرہاندی کی طرف ا س بزرگ یا بڑے کو ہی بٹھانا۔ دوسری بات کہ بزرگوں، بڑوں کی طرف پیٹھ کرکے نہیں بیٹھنا ،مگر آج زمانہ اس قدر تیز رفتار ہوگیا کہ نہ تو سکھانے والوں کے پاس وقت ہے اور نہ ہی سیکھنے والوں کو اس کی ضرورت ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ معاشرہ سے جنم لینے والی اچھائیاں کم ہوتے ہوتے برائیوں میں گم ہوکر رہ گئی ہیں اور جو گنے چنے اچھے لوگ باقی ہیں وہ بھی اب اس قدر خاموش تماشائی بن چکے ہیں کہ ان کاوجود بھی برائیوں میں گھر ادکھائی دیتاہے۔

وہ سکول جہاں بچوں کو الف ب ،اے بی سی کے علاوہ اخلاقیات کادرس دیاجاتا تھا آج پیسہ کمانے کاذریعہ بن چکے ہیں، نفسیات دانوں کاخیال ہے کہ بچہ گھر میں رہ کر اپنے بڑوں سے اورسکول میں اپنے استاد سے جو کچھ سیکھتا ہے وہ ساری زندگی اس کے ذہن پر نقش رہتاہے ۔یقیناًاس تناظر میں جب اسے گھر اور سکول کے ماحول میں بداخلاقی کی یکسانیت دکھائی دیتی ہے تو وہ اسے ’’ایڈاپٹ ‘‘ کرلیتا ہے اور پھر جب وہ گلی محلے اور بازار ،شہر میں نکلتا تو وہاں بھی اسے ویسا ہی کلچر دیکھنے کو ملتا ہے تو یقیناًاس کے ذہن پر کچھ بھاری پن محسوس نہیں ہوتا ۔ماضی کو ہی آگے لئے چلتے ہیں کہ پاکستانی معاشرہ کو جو گھن مسلسل کھائے جا رہاہے وہ ہے خود نمائی اور دکھاوا ،اس گھن کی وجہ سے ہمارے ہاں کا ٹوٹ پھوٹ اورشکست وریخت کا شکار خاندانی نظام بری طرح متاثر ہوا ۔ اب مشترکہ خاندانی نظام خال خال دکھائی دیتا ہے کہ بڑے ہوتے بچے بزرگوں کی بات کو اہمیت دینے کی بجائے اپناآپ منوانے کے چکر میں رہتے ہیں اسلئے اب مشترکہ فیملیوں کاوجود کم کم ہی نظرآتا ہے ہاں ابھی یہ نعمت دیہاتوں میں کہیں نہ کہیں پائی جاتی ہے۔

کہاجاتا تھا کہ اتفاق میں برکت ہے یقیناًیہ برکت بڑوں، بزرگوں کی وجہ سے واضح نظرآتی تھی مگر آج جب بزرگوں سے دامن چھڑانے کارواج عام ہے تو پھر برکت کہاں رہنا تھی ۔ایک محفل میں جانے کا اتفاق ہوا ، چونکہ خاندانی محفل تھی اس لئے گھومنے پھرنے کی مکمل آزادی کے پیش نظر صورتحال کاجائزہ لیتے رہے، ایک بات شدت سے محسوس ہوئی کہ نوجوان نسل نے بزرگوں سے اس قدر دوری اختیار کر لی کہ ان کے پاس تک بیٹھنا گوارہ تک نہیں کرتے۔ ہم نے ایک خاتون کو رنجیدہ دیکھاتو وجہ پوچھ لی جواباً انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی ایک ایسا جملہ کہہ گئی ہے جو سیدھادل پر تیز بن کرلگا ہے، ان کی بیٹی نے والدہ کو کہا کہ ’’گھر میں کیا آپ کی نصیحتیں کم ہوتی ہیں جو یہاں بھی اپناوعظ لے بیٹھیں، پتہ نہیں ابا جی آپ کو کیسے برداشت کرتے ہیں‘‘سوچنے سمجھنے کوکچھ نہیں صرف اتنا عرض کرناہے کہ آج کی نوجوان نسل نے خود اس منزل تک پہنچنا ہے جسے بزرگی کہاجاتا ہے ، ابھی سوچ لیجئے کہ آنیوالے کل جب آپ کی نوجوان اولاد آپ کے کہے ہوئے جملے دہرائے تو پھر دل پر کیابیتے گی؟؟ سوچئے گاضرور


ای پیپر