شہری پر تشدد کرنے کا معاملہ، عمران شاہ کو بھی سر عام تھپڑ مارے جائیں گے: چیف جسٹس

01 ستمبر 2018 (12:51)

کراچی :تحریک انصاف کے رکن اسمبلی عمران علی شاہ کی جانب سے شہری پر تشدد سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عزت کا کوئی معاوضہ نہیں ہوتا، عمران شاہ کو بھی سرعام اسی طرح 4 تھپڑ مارے جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق عمران علی شاہ تشدد ازخود نوٹس کیس کی آج ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس نے عمران شاہ کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ’ شہری کو تھپٹر کیوں مارا، انسان تھا یا جانور؟ سماعت میں چیف جسٹس نے عمران شاہ کو اپنے رو برو بلایا اور سخت الفاظ میں سرزنش کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ’آپ نے کیا سوچ کر شہری کو تھپڑمارا؟ کوئی جانور کو بھی اس طرح نہیں مارتا۔‘

چیف جسٹس نے عمران شاہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ناقابل معافی جرم ہے، نہیں چھوڑیں گے، آپ عوام کے نمائندے ہیں، اس طرح تشدد کریں گے؟ میں باہر آتا ہوں، مجھے مار کر دکھائیں۔ اس پر عمران شاہ نے اظہار ندامت کرتے ہوئے کہا کہ سوری سر، میں شرمندہ ہوں۔

چیف جسٹس نے کہا کیا سوری؟ میں نے بچپن میں ملازم کو بیلٹ سے مارا تھا، میرے والد نے بھی مجھے دو بار سبق سکھانے کے لیے مارا تھا۔ چیف جسٹس نے عدالت میں موجود متاثرہ شہری داﺅد چوہان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ معاوضہ لے کر بیٹھ گئے، کیوں معاف کیا،عزت کا کوئی معاوضہ نہیں ہوتا۔

داﺅد چوہان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نامزد گورنر میرے گھر پر چل کر آئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عمران شاہ نے کتنے تھپٹر مارے تھے؟ عمران شاہ نے چیف جسٹس کے سوال پر جواب دیا کہ 3 سے 4 تھپٹر مارے تھے جس پر چیف جسٹس نے برہم ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کو بھی سر عام اسی طرح 4 تھپڑ مارے جائیں گے، ابھی وہ کلپ چلاتے ہیں سب کو عدالت میں دکھاتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ویڈیو چلانے کے لئے آلات منگواتے ہوئے سماعت کچھ دیر کے لئے ملتوی کر دی۔

خیال رہے کہ دو ہفتے قبل تحریک انصاف کے نو منتخب رکن اسمبلی عمران علی شاہ نے سٹیڈیم روڈ کے قریب ایک شہری کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کا چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیا تھا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

مزیدخبریں