نیا پاکستان
01 اکتوبر 2020 (13:39) 2020-10-01

نئے پاکستان کی جو تصویر تیزی کے ساتھ ابھر کرسامنے آ رہی ہے وہ نظام نو کی تخلیق کے دو سال بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید محاذ آرائی کا منظر پیش کرتی ہے۔ حکومتی وزراء اور ترجمانوں کی جانب سے مخالفین پر کرپشن کے نت نئے الزامات اور مذمت بھرے بیانات، دوسری جانب اپوزیشن کی حکومت ہٹاؤ تحریک کی کامیابی کی خاطر ملک گیر جلسے اور جلوس اس میں رنگ بھریں گے…… اپوزیشن کی تقریباً تمام اہم جماعتیں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم پر جمع ہو گئی ہیں …… ادھر منگل 29 ستمبر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں منہ زور وزراء پر مشتمل ایک سیاسی کمیٹی بنائی گئی ہے جو اس تحریک کا برسر میدان مقابلہ کرنے کے لئے جارحانہ حکمت عملی بنائے گی…… پاکستان کے سیاسی کلچر میں یہ نئی بات نہیں …… لیکن بدقسمتی کا پہلو یہ ہے سکیورٹی اداروں کواس میں ملوث کیا جا رہا ہے اورنیب جیسے پرویز مشرف کی آمریت کی یادگار ادارے کے مقدمات، الزامات ثابت ہونے سے پہلے گرفتاریوں اور سزاؤں کے ذریعے نظام عدل کا بھرکس نکال کر رکھ دیا گیا ہے…… احتساب اور انتقام میں اگر معمولی سا فرق باقی رہ گیا تھا وہ باقی نہیں رہا …… زرداری خاندان پر ایک کے بعد دوسری فرد جرم عائد کی گئی ہے…… صرف بلاول بھٹو بچا ہوا ہے…… ادھر شریف فیملی کا قائد ملک سے باہر بیٹھا ٹوئٹر بیانات کے ذریعے اپنی جماعت اور اپوزیشن کی تحریک میں نئی جان پیدا کر رہا ہے…… اس کا بھائی اور بھتیجا نیب کی تحویل میں ہیں …… صف اول کے ساتھیوں کے نام طلبی کے نوٹس جاری کئے جا رہے ہیں …… بیٹی مریم نواز باقی رہ گئی ہے…… حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں اس سے خائف ہیں …… کسی وقت دوبارہ جیل میں جا سکتی ہے…… اپوزیشن کا دعویٰ ہے اس سب کچھ کے باوجود حکومت کو ختم کئے بغیر دم نہ لے گی…… جبکہ برسراقتدار جماعت مخالف پارٹیوں اور ان کے لیڈروں کے لئے سرزمین پاکستان کو جہنم زار بنا کر رکھ دینے کے در پے آزار ہے…… حکومت والوں کو اسٹیبلشمنٹ کا سہارہ ہے یعنی ریاست کے طاقتور عناصر کی پشت پناہی پر تکیہ کئے ہوئے ہیں …… نیب کو ہاتھ کی چھڑی سمجھتے ہیں …… اپوزیشن کا انحصار ملک بھر میں منعقد کئے جانے والے احتجاجی جلسوں اور جلوسوں میں عوام کی بھرپور شرکت پر ہو گا…… وزیراعظم عمران خان اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ ساتھ ملانے سے مسلسل گریزاں ہیں …… زعیم حزب اختلاف نوازشریف نے مقتدر قوتوں کے نمائندوں کے ساتھ درپردہ ملاقاتوں پر پابندی لگا دی ہے…… وزیراعظم کے پاس اپوزیشن کی تحریک کو سر اٹھانے سے پہلے اکھاڑ پھینکنے کے لئے نت نئی تدابیر سوچنے کے علاوہ بظاہر کوئی کام نہیں رہا…… باہر بیٹھے نوازشریف اپنی کھوئی ہوئی حکومت واپس لینے کے لئے تمام بیماریوں کو بھول چکے ہیں …… عمران خان کہتے ہیں نواز شریف کو وطن واپس لا کر جیل میں بند کر کے دم لیں گے…… نوازشریف دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ مل کر عمران حکومت کے خاتمے کے لئے کمربستہ ہیں …… انجام گلستاں کیا ہوگا کسی کو کچھ علم نہیں ……

کشمیر کو بھارت ہڑپ کر چکا…… گلگت بلتستان کو پاکستان میں ضم کرنے کی تیاریاں جاری ہیں …… قصہ تمام ہوا…… بیان بازی باقی رہ جائے گی…… افغانستان میں البتہ قیام امن کے آثار پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں (کم از کم خبروں کی حد تک)…… انیس برس پہلے موجودہ جنگ امریکہ نے شروع کی تھی…… پاکستان اس کے ایما پر بیچ میں کود پڑا تھا…… ڈکٹیٹر جنرل مشرف نے تمام ملکی وسائل امریکی جنگ کی نذر کر دیئے تھے…… اب واحد سپر طاقت افغان مزاحمتی قوتوں کے ہاتھوں زچ ہو کر وہاں سے نکلنا چاہتی ہے پاکستان پھر اس کی مدد کو آیا ہے…… یہ ہے نئے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حاصل…… اس کے علاوہ سعودی عرب ناراض ہے جو پہلے کبھی نہ ہوا تھا…… چین کا نیم دلانہ تعاون 

حاصل ہے کیونکہ اسے اپنا سی پیک بہت عزیز ہے مگر اس کی تیزرفتاری میں کمی آ چکی ہے…… عمران خان نے خرچہ بچانے کے لئے بیرونی دورے کم کئے ہوئے ہیں …… لیکن باہر سے بھی کوئی بڑا لیڈر یا اہم ملک کا سربراہ نہیں آ رہا…… صدر چین کی آمد کے کئی مرتبہ اعلانات کئے گئے…… ابھی تک قدم رنجا نہیں ہوئے…… نواز کے تیسرے دور میں تین مرتبہ آئے تھے جن میں سے ایک بار عمران کے دھرنے نے اترنے نہیں دیا تھا…… طیب اردوان سے توقع باندھی گئی تھی تاحال پوری نہیں ہوئی…… پچھلے عہد میں پاکستان ان کے لئے دوسرے گھر کا درجہ رکھتا تھا…… سعودی ولی عہد شروع کے مہینوں میں ایک دفعہ آئے …… پُرتپاک استقبال ہوا …… ہمارے وزیراعظم خود ان کی گاڑی ڈرائیو کر کے ایوان حکومت میں لے گئے…… موصوف خوشی خوشی واپس گئے…… خود کو پاکستان کا سفیر کہا اس کے بعد نجانے کیا ہوا منہ پھیر لیا…… جو تھوڑی بہت امداد دی تھی…… قرضہ عنایت کیا تھا اس کا بڑا حصہ واپس لے لیا…… امریکہ جانے کے لئے ہمارے وزیراعظم کو اپنا جہاز دیا…… یہ اس پر نیویارک گئے…… لیکن واپسی پر شاہی سواری دستیاب نہ تھی…… ہزیمت چھپائے نہ چھپتی تھی…… اہل وطن کو بتایا گیا سعودی ولی عہد کے طیارے میں کوئی ”خرابی“ در آئی ہے…… اس لئے کمرشل فلائٹ پر واپس آنا پڑا…… ’او آئی سی‘ سے جس کے بانیوں میں پاکستان پیش پیش تھا یوں سمجھئے کہ ہمیں دیس نکالا مل چکا ہے…… کشمیر پر ہر برس جو قرارداد منظور ہوتی تھی…… قصہ ماضی بن گئی ہے…… وزیراعظم بننے سے پہلے عمران خان نئی دہلی گئے تھے…… مودی سے ملاقات ہوئی…… منصب سنبھالنے کے بعد اسے تین تین ٹیلیفون کئے…… جواب نہ ملا…… کہا گیا بھارت میں انتخابات ہو رہے ہیں …… جیت گیا تو مسئلہ کشمیر کے حل پر آمادہ ہو جائے گا…… اس نے 5 اگست 2019 کے جارحانہ اور غاصبانہ اقدام کے ذریعے ایسا جواب دیا کہ کشمیری عوام غلامی کے اندھے غار میں جا گرے…… جنگ ہم نے نہیں لڑنی…… سرحد پر چھیڑخانی سے وہ باز نہیں آتا…… ہم فٹاف کی بلیک لسٹ سے بچ نکلنے کے لئے غوطے پر غوطا لگا رہے ہیں …… خارجہ پالیسی لچھے دار تقریروں جن سے باہر کی دنیا سے زیادہ اپنے لوگ متاثر ہوتے ہیں آگے بڑھ نہیں پا رہی……

کورونا کی وبا پھیلی…… دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح ہمیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا…… اس سے حکومت بطریق احسن نبردآزما ہوئی ہے…… اب اس کی دوسری لہر بھی سروں پر آن کھڑی ہوئی ہے…… توقع رکھنی چاہئے اس بلائے جان سے بھی نجات حاصل کرنے کے لئے موثر پالیسی اپنائی جائے گی…… مگر اس ملک اور قوم کا اصل مسئلہ معیشت کی بحالی ہے…… جو ہو نہیں پا رہی…… نواز حکومت ترقی کی شرح نمو پونے چھ فیصد پر چھوڑ کر گئی تھی…… اب صفر سے ایسی نیچے جا گری ہے کہ گراف اٹھ نہیں پا رہا…… ترسیلات زر میں قدرے اضافہ ہوا ہے…… مگر برآمدات بڑھ رہی ہیں نہ درآمدی پالیسی صنعت کاری کے فروغ میں کام آ رہی ہے…… بیرونی سرمایہ کار آ نہیں رہے اندرون ملک کا پیداواری عمل زرعی ہو یا صنعتی آگے کی جانب بڑھ نہیں رہا…… سرکاری شعبے میں نیا اور قابل قدر پروجیکٹ لگ نہیں رہا…… عمران خان تعمیراتی دنیا میں انقلاب یا بڑی تبدیلی لانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے…… نئی صنعتوں کے لئے پھلنے پھولنے کے لئے راستے ہموار ہوں گے…… ارادہ نیک ہے دیکھئے کیا رنگ جماتا ہے…… مگر یہ جو سرکار والا تبار کے DEVELOPMENT PROJECTSہیں ان کا برا حال ہے…… ایک بھی شروع نہیں ہوا یا چل نہیں پا رہا…… شہباز شریف کی پیروی کرتے ہوئے پشاور میں بی آر ٹی کا منصوبہ شروع کیا گیا…… کئی سال لگ گئے…… لاگت میں اصل تخمینے سے کہیں زیادہ اضافہ ہوا…… بڑی اللہ امین کے بعد دو ماہ قبل جو شروع ہوا…… اپنے اوپر دادوتحسین کے ڈونگرے برسائے گئے مگر بسوں کو آگ لگنا شروع ہو گئی…… ٹھپ پڑا ہے…… شجرکاری کی مہم کا بار بار چرچا کیا جاتا ہے…… اربوں پودے لگانے کے دعوے ہیں …… صوبہ خیبرپختونخوا اور اب پنجاب میں کتنا سبزہ ہوا ہے کتنے جنگلات اُگ کر ہماری فضاؤں میں شادابی اور تازگی پیدا کریں گے اس سوال کا جواب ندارد…… شہباز شریف نے حالیہ گرفتاری کے اگلے روز یعنی پرسوں اپنی وکالت خود کرتے ہوئے اپنے دور کے کامیاب ترقیاتی منصوبوں پر مشتمل کتابی دستاویز پیش کی…… اورنج ٹرین بھی چلنے والی ہے…… مگر اب اس طرح کے کام خواب و خیال کی دنیا بن گئے ہیں …… اس لئے کہ بیوروکریسی مسلسل خوف کا شکار ہے…… نیب کی تلوار اس کے سر پر لٹک رہی ہے کوئی بڑا افسر کسی نئے کام کی ذمہ داری لینے پر آمادہ نہیں ہوتا…… پولیس کا محکمہ ایسی افراتفری کی نذر ہو گیا ہے کہ پہلے کسی نے سوچا نہیں تھا کہ امن عامہ قائم کرنے والی یہ فورس اس قدر انتشار اور بے یقینی کی کیفیت سے گزرے گی…… نتیجہ یہ برآمد ہو رہا ہے کہ نیا پاکستان چمڑی ادھیڑ کر رکھ دینے والی مہنگائی کی زد میں ہے…… بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہے اور بجلی و گیس کے بلوں نے عام آدمی کا برا حال کر رکھا ہے…… ایسے میں اپوزیشن کا اتحاد لوگوں کو باہر نکلنے کی دعوت دے گا…… سڑکوں پر آنے کی ترغیب دے گا…… بڑے جلسے کرے گا اور حکومت پر عرصہ حیات تنگ کرنے کی خاطر اسلام آباد تک مارچ کرنے کا عزم باندھے گا تو آپ اسے کیونکر روک پائیں گے…… کیا شیخ رشید کے الفاظ میں جھاڑو پھیر دیں گے…… جیلیں بھر دیں گے…… گویا آپ کے ڈر اور خوف کے مارے لوگ گھروں میں بیٹھ جائیں گے…… ایسا نہیں ہوگا……


ای پیپر