امڈتا ہوا سیاسی طوفان
01 اکتوبر 2020 (13:35) 2020-10-01

دیکھ سکو تو دیکھ لو۔وقت تیزی سے آگے بڑھ رہاہے اور سیاسی بحران بھی اسی رفتار سے آگے بڑھے گا۔ اب تو ملک کا منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ نواز شریف جو اقتدارسے نکالے جا چکے اور ان پر زندگی بھر پارلیمان میں جانے پر پابندی لگ چکی وہ لندن میں بیٹھ کر اب حکمرانوں اور مقتدرقوتوں کو کھل کر سیاسی حوالے سے للکار رہے ہیں۔ دوسری جانب ہماری حالت خاصی پتلی ہے۔پاکستان کی معیشت جو گراوٹ کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ملک کے وارثوں نے غریبوں کو برباد کر دیا ہے۔اسلام آباد کی بیوروکریسی اپنی حدود سے باہر نکلنے کے لیے تیار نہیں۔ پاکستان کی سب سے مقبول جماعت کا حال یہ کہ اس نے سب سے زیادہ سیٹیں لی ہیں اورسب سے زیادہ ووٹ لیے ہیں۔مگر حکومت پر غیر منتخب مشیروں کا قبضہ ہے۔پاکستان میں دو سالوں میں ایک کروڑ سے زیادہ لوگ ناقص اقتصادی حکمت عملی سے اپنی نوکریاں کھو چکے ہیں۔ روپے کی ڈی ویلیوایشن سے پاکستان میں اس وقت مہنگائی کا سارا بوجھ غریبوں اور نچلے طبقے کے اوپر آن گراہے سیاست کا حال تو مت پوچھو جو اس وقت خود کو سب سے زیادہ طاقتور اور مقتدرسمجھتے ہیں وہ وہ متنازعہ ہو رہے۔جب خوف اور حجاب اتر جائے تو پھر کیا رہ جاتا ہے۔ بھرم ٹوٹ جائے تو سمجھئے سفر زیرو کی طرف ہے۔اس وقت صورت احوال یہ ہے اسٹیبلشمنٹ، الیکشن کمشن مقننہ عدلیہ پولیس، بیوروکریسی سب متنازع ہو رہے ہیں۔ سوال تو اپنی حدود میں رہنے کا ہے۔ ماضی میں اداروں کے درمیان جب تنازعات ابھرتے تھے تو اسٹیبلشمنٹ صلح صفائی کراتی تھی اب سب سے زیادہ سوال اس کے اوپر ہیں۔۔دو سال پہلے باجوہ ڈاکٹرئن کا چرچا ہوا تھا۔اب اس سے بھی پردہ اٹھ چکا ہے۔۔عاصمہ جہانگیر نے اپنی موت سے پہلے کہا تھا کہ جب سیاست دان باری باری بالاتر قوتوں کے ہاتھوں استعمال ہوتے رہیں گے ان کی یہ درگت بنتی رہے گی۔یہ بات انہوں نے نواز شریف کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد کہی تھی۔ سیاسی منظر نامہ یہ ہے کہ ”پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ“ کے نام سے ایک سیاسی اتحاد منظر عام پر آچکا ہے۔جس میں پاکستان کی گیارہ جماعتیں شامل ہیں۔اس اتحاد نے اپنا 26 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کر دیا۔حکومت کو اقتدار سے نکالنے کے ٹائم ٹیبل بھی جاری ہو چکا ہے۔29ستمبر کو پی ڈی ایم کی سٹینڈنگ کمیٹی قائم ہو چکی ہے۔اس اجلاس میں کئی اہم فیصلے کیے جاچکے ہیں۔ سب سے پہلا جلسہ 11 اکتوبر کو کوئٹہ میں رکھا گیا۔ جب یہ اجلاس ہورہاتھا اس وقت مولانا فضل الرحمان کے بارے میں نیب کی جانب سے ان کو جو نوٹس جاری کیا گیاتھا اس پر بھی متضاد خبریں آئیں جس پر مولانا نے نواز شریف کی تقریر سے سخت رد عمل دیا، جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بات بہت آگے نکل گئی ہے۔ نام لیے بغیر مولانا نے بڑے جارحانہ انداز کی تقریر کی انہوں نے افغانستان میں امریکی شکست کا ذکر کیا وہاں انہوں نے پاکستان سے اپنی وفاداری کا حوالہ اور آئین کا خود پابند رہنے کا کہا اور دوسروں کو بھی آئین پر رہنے کی تلقین کی۔ نواز شریف کے پیامبر سے جو بات شروع ہوئی تھیں۔ اس کی لپیٹ میں احتساب کا ادارہ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ آچکی ہے۔پاکستان ڈیموکریٹک مو و منٹ جس کا آغاز ابھی دھیمے سروں سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا اس میں اچانک تیزی اس وقت آئی جب شہباز شریف کو 28ستمبر کو گر فتار کیا گیا۔ وہ پہلے بھی گرفتار ہوئے تھے۔ مگر اس بار ا یک دم سیاسی درجہ حرارت بلند ہوا۔ پی ڈی ایم کو ہنگامی حالت میں فیصلے کرنے پڑے اس سے یہ بھی ہوا کہ اب نواز شریف لندن سے تحریک کی قیادت وڈیو لنک کے ذریعے کریں گے۔نواز شریف نے شہباز شریف کی گرفتاری میں جو ٹویٹ کیا وہ بڑا جارحانہ تھا ان کا کہنا تھا۔ آج شہباز شریف کو گرفتار کر کے ’اس کٹھ پتلی نظام نے APC کی قرارداد کی توثیق کی ہے‘۔انھوں نے کہا ’شہباز شریف نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ جیل کے اندر ہوں یا باہر، APC میں کیے گئے تمام فیصلوں پر عمل درآمد ہو گا۔ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے ہمیں جھکایا جا سکتا ہے۔‘اس کے ساتھ ہی مریم نواز نے ٹوئٹر پر اپنی تصویر بدل کر نواز شریف اور شہباز شریف کی تصویر لگا دی۔ اب پہلے نواز 

شریف اکیلے اپنے بیانے پر قائم تھے اب مریم نواز نے شہاز شریف کی گرفتاری کے بعد اپنی ماں مرحومہ کلثوم نواز کی طرح پارٹی کی ڈرائیونگ سیٹ کو سنبھال لیا ہے۔ اور ان کی طرف سے کی جانے والی پریس کانفرنس میں سی پیک کے سربراہ کا احتساب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا۔اگر اس ملک میں انصاف ہے تو گرفتار شہباز شریف کو نہیں عاصم باجوہ کو ہونا چاہیے“ محاذ پر محاذ کھل رہے۔ اس ماحول میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اہم بات یہ کی کہ پاکستان میں ابھی صحافت آزاد نہیں ہے۔ کسی کو ’یکطرفہ خبریں اور سلیکٹڈ پیغام‘ چلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فیض آباد دھرنا کا فیصلہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہیں آیا 

تھا۔اس کے بعد ان کے خلاف جوڈیشل کمیشن میں ریفرنس بھیجا گیا جس سے قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس خارج ہو گیا۔قاضی فائز عیسیٰ نے از خود نوٹس کے فیصلے میں بھی وزارت دفاع کو ان فوجی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بارے میں کہا تھا جنہوں نے اپنے ’حلف‘ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی معاملات میں مداخلت کی تھی موجودہ منظر نامے میں ان کے اس فیصلے کابڑا چرچا ہے۔ جلتی پر تیل کا کام نیب کر رہی ہے۔شہباز شریف کی گرفتاری سے دو روز قبل سپریم کورٹ میں یہ ریمارکس بھی سامنے آئے کہ ”سلیکٹو احتساب پریشانی کا باعث ہے،نیب منظور نظر لوگوں کو چھوڑ دیتا ہے،احتساب کا عمل پسند ناپسند پر نہیں قانون کے مطابق ہونا چاہئے،“ ان ریمارکس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے نیب کا اصل ٹارگٹ مسلم لیگ ن اور خاص طور پر شریف فیملی ہے۔ مریم نواز کے دعوے کے مطابق ان کا خاندان 1933سے کاروبار میں ہے۔ اب نیب نے شاہد خاقان عباسی کو بھی ایک ملازمت دینے پر طلب کیا اور مریم نواز کے شوہرصفدر اعوان کو بھی بلا لیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ مسلم لیگ ن کے جنرل سیکرٹری کی طرف سے پارٹی گائیڈ لائن کے طور پرنواز شریف کا پیغام جاری کیا ہے کوئی بھی پارٹی رہنما بغیر نواز شریف کی اجازت سے کسی ایجنسی یا فوج کے کسی افسر سے نہیں ملے گا۔ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ حا لات کس طرف جارہے ہیں۔یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کی فوج کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کے بارے میں بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ ان بیانات سے ملک کے سیاسی ماحول میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔ اب جو ماحول بن گیا ہے اس سے حکومت کے لیے سب اچھا نہیں اب کوئی”با با رحمتے“ بھی نہیں جن کی وجہ سے عدلیہ کے فیصلوں پر بڑے سوالات اٹھے تھے۔  عمران خان نے اپوزیشن کی تحریک کا مقابلہ کرنے اور اسے ڈیفیوز کرنے کا کام شیخ رشید،شہزاداکبر،اسد عمر،شفقت محمود اور بابر اعوان کو سونپا ہے۔ یہ کام بھٹو نے بھی کیا تھا۔ اپوزیشن کی تحریک ایک امڈتا ہوا طوفان ہے۔ جس کو حکومت سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہی جس ملک میں سیاسی افراتفری ہو وہاں فارن انویسٹر نہیں آتے۔ اس تحریک کا موازنہ ایم آرڈی کی تحریک سے نہیں بلکہ قومی اتحاد سے کیا جائے گا۔ ایم آرڈی کی تحریک ایک صوبے کی تحریک ثابت ہوئی تھی۔ 1977 کی نسبت یہ عوامی سپورٹ میں حکومت سے آگے اور پارلیمنٹ میں بھٹو کی پیپلز پارٹی کے مقابلے میں پاکستان قومی اتحاد سے موجودہ اپوزیشن آگے ہے۔ ذرا سمجھ داری سے طاقت، جبر اور نیب کا استعمال حکومت کو کہیں لے نہ ڈوبے۔


ای پیپر