ریاست کے اندر ریاست اور سویلین قیادت……!
01 اکتوبر 2020 (13:29) 2020-10-01

20 ستمبر کو پیپلز پارٹی کی میزبانی میں اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی کے انعقاد اور اس میں مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد میاں محمد نوازشریف کے کلیدی خطاب جسے "کشتیاں جلاتی، پل توڑتی "تقریر کا ٹایٹل دیا گیا ہے کے بعد ملکی سیاسی حالات کے منظر نامے میں تیزی سے تبدیلیاں ہی نہیں آئی ہیں بلکہ ملکی و قومی سطح کے بعض معاملات و مسائل پر وسیع تر بحث و مباحثے اور غور و فکر کے دروازے بھی وا ہو گئے ہیں۔ اس سے ایسے معاملات جن پر پہلے دبے الفاظ میں اظہارِ خیال کا سلسلہ جاری رہتا تھا اب کسی نہ کسی صورت میں کھل کر اظہارِ خیال ہونے لگا ہے۔ ان میں دو معاملات یا نکات انتہائی اہم ہیں جن میں سے ایک کا تعلق میاں محمد نوازشریف کی تقریر سے براہ راست بنتا ہے تو دوسرے کا تعلق کسی حد تک میاں محمد نواز شریف کی تقریر سے بالواسطہ اور وزیرِ اعظم جناب عمران خان کے انداز حکمرانی سے براہ راست جڑتا ہے۔ ان پر پچھلے ہفتے عشرے کے دوران جہاں مختلف سیاسی حلقوں کی طرف سے خیال آرائی کا سلسلہ جاری ہے۔ ان میں ایک نکتہ یہ کہ کیا میاں محمد نواز شریف کو اپنے خطاب میں مستقل ریاستی اداروں کو یہ کہہ کر دعوتِ مبارزت دینی چاہیے تھی یا نہیں کہ ہمارا مقابلہ (ہماری جنگ) ان قوتوں سے ہے جو عمران خان کو لے کر آئے ہیں اور اس کے ساتھ ریاست کے اندر ریاست یا ماورا   ریاست کے سلسلے کو بھی ہم نے ختم کرنا ہے۔ دوسرا اہم نکتہ یا معاملہ جو زیرِ بحث ہے اور جس کا تعلق وزیرِ اعظم عمران خان سے انداز حکمرانی سے براہ راست جڑتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا وزیرِ اعظم عمران خان اتنے ہی بے اختیار اور بے نیاز ہیں کہ وہ اپوزیشن قیادت کے ساتھ مل بیٹھ کر گلگت  بلتستان کی آئینی اور انتظامی حیثیت کے تعین جیسے اہم قومی معاملے پر گفتگو اور مشاورت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور یہ معاملہ بھی انہوں نے آرمی چیف پر چھوڑ رکھا ہے یا پھر وہ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین سے اتنی نفرت کرتے ہیں کہ انہیں ان کے ساتھ مل بیٹھنا اور قومی مسائل پر ان سے گفتگو کرنا گوارا نہیں۔ یقینا یہ دو نکات اہم ہیں اور ان پر باری باری اظہارِ خیال کیا جا سکتا ہے۔ 

جہاں تک میاں محمد نواز شریف کی طرف سے ریاست کے اندر ریاست یا ماوراء ریاست ہونے کے معاملے کی مخالفت کے مؤقف کا تعلق ہے، میاں محمد نواز شریف کے اس مؤقف سے اصولاً کسی کو اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔ آئین پاکستان میں مستقل ریاستی اداروں کے حقوق و فرائض اور ان کی آئینی ذمہ داریوں کی سر انجام دہی  کے بارے میں واضح شقیں موجود ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے اس بات کی کوئی 

گنجائش نہیں رہتی کہ کوئی ادارہ یا مقتدر شخصیت اپنے آئینی اور قانونی اختیارات کی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے دوسرے اداروں کے معاملات میں دخل دے یا اُن پر حاوی ہونے کی کوشیش کرے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے اور اب شاید کچھ زیادہ ایسے ہونے لگا ہے۔ یقینا ایسا نہیں ہونا چاہیے لیکن اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ سیاسی قیادت اپنے آپ کو اس اہل ثابت کرے کہ وہ تمام قومی معاملات کا بہتر طریقے سے سامنا کر سکتی ہے۔ وہ ان معاملات و مسائل کو بہتر طریقے سے Handle کرنے کے لیے تجاویز ہی نہ دے بلکہ پورا لائحہ عمل اور روڈ میپ بھی دے جو وسیع تر قومی مشاورت سے ترتیب دیا گیاہو۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ مختلف  مسائل و معاملات یا ایشوز کے بارے میں جو لائحہ عمل دیا جا رہا ہو اس کا ان معاملات کے بارے میں پاکستان کے دیرینہ  قومی مؤقف سے انحراف کا کوئی پہلو نہ نکلتا ہو، نہ ہی کسی کے لیے بطورِ پراکسی استعمال ہونے کا تاثر سامنے آتا ہو اور نہ ہی محض نمبر ٹانکنے کا شوق ظاہر ہوتا ہو۔ سنجیدگی، اہلیت، قابلیت، سمجھ بوجھ، گہرائی میں جا کر معاملات کو سمجھنے اور پرکھنے کی صلاحیت، حاضر دماغی، حب الوطنی  جیسی صفات اور اس کے ساتھ متعلقہ فورمز جن میں پارلیمنٹ، کابینہ، قومی سلامتی کمیٹی یا کوئی دیگر فورم شامل ہو ان معاملات و مسائل کو زیرِ بحث لا کر ان کے بارے میں مشاورت اور فیصلہ سازی کو بروئے کار لایا گیا ہو۔ افسوس سے یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ آمرانہ دور میں مان لیا کہ فوجی حکمران اپنی من مانی کر سکتے ہیں یا کرتے رہے ہیں لیکن جمہوری ادوار میں بھی ان بنیادی اور ضروری باتوں کا کم ہی خیال رکھا جاتا رہا ہے یا اب بھی رکھا جا رہا ہے۔ وزیرِ اعظم جناب عمران خان کو یہ کریڈٹ بہرکیف جاتا رہا ہے کہ ماضی کے برعکس ان کے دورِ حکومت میں کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہو رہے ہیں  لیکن جہاں تک پارلیمنٹ کے اہم ترین فورم سے مشاورت یا اس میں قومی معاملات و مسائل کو زیرِ بحث لانے اور وہاں وزیرِ اعظم کے بہ نفسِ نفیس موجود ہونے کا تعلق ہے اس حوالے سے جنابِ وزیرِ اعظم کو نہ ہونے کے برابر کریڈٹ دیا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں نتیجہ یہی سامنے آتا ہے کہ غیر متعلقہ اداروں یا مقتدر شخصیات کی مداخلت کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ 

اس ضمن میں ایک اور پہلو بھی ایسا ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ پاکستان کی سلامتی، دفاع اور سرحدوں کی حفاظت کا پہلو ہے۔ اس میں پاکستان کی خارجہ پالیسی، کشمیر کا مسئلہ، بھارت کے ساتھ تعلقات اور ایک طرح کی حالتِ جنگ کی کیفیت، افغانستان کا مسئلہ، پاکستان کا ایٹمی پروگرام، امریکہ، چین اور روس جیسی عالمی طاقتوں سمیت اسلامی ممالک سے پاکستان کے تعلقات اور پاکستان کی کمزور معیشت ایسے نازک معاملات و مسائل ہیں  جنہیں گہرے غور و فکر، سوچ و بچار، ماضی کے تجربات اور مستقبل کی منصوبہ بندی کی روشنی میں جانچتے پرکھتے ہوئے فیصلہ سازی کا عمل بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ کوئی سویلین قیادت خاص طور پر نااہل حکومت یہ سب کچھ اکیلے نہیں کر سکتی۔ ظاہر ہے اس کے لیے تمام سٹیک ہولڈر کا آن بورڈ لیا جانا ضروری ہے، وہاں اگر سیاسی قیادت اپنی دانشمندی، اپنی اہلیت و قابلیت، مسائل کو حل کرنے کی اپنی صلاحیت اور سب سے بڑھ کر اپنی اتھارٹی اور حیثیت کا لوہا نہیں منوا سکتی تو پھر ماتحت اداروں یا مقتدر شخصیات کا حاوی ہونا لازمی امر ہے۔ پاکستان کی گزشتہ چار پانچ عشروں کی تاریخ کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ واقعی ایسا ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہو رہا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ریاست کے اندر ریاست یا ماورائے ریاست کا سلسلہ اُسی وقت ختم ہو سکتا ہے جب سویلین قیادت اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو مضبوط ہی نہ بنائے بلکہ اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کو بہ طریق احسن سر انجام دینے کے اہل بھی ثابت کرے۔ پھر یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان کے دفاع کے معاملات ہوں یا پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہو، دہشت گردی کے عفریت کا مقابلہ کرنا ہو یا مشرقی یا مغربی سرحد کو محفوظ بنانا ہو، کشمیر کا مسئلہ ہو یا افغان تنازعہ ہو اور ان کے ساتھ ارضی و سماوی مصائب کے معاملات ہوں ان سب کے ساتھ پاکستان کی مسلح افواج کا تعلق کسی نہ کسی صورت میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان کے بارے میں کوئی فیصلہ کرتے ہوئے عسکری قیادت کی رائے کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح خارجی پالیسی کے معاملات بھی کچھ ایسے ہی ہیں جہاں ڈپلومیسی کے ساتھ انتہائی سوجھ بوجھ اور قومی مؤقف کو سامنے رکھتے ہوئے معاملات کو آگے لے کر چلنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے انتہائی قابل، محبِ وطن اور قومی مفاد کو ہر چیز پر فوقیت دینے والے ذہین افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب وزیرِ خارجہ کی مسند پر کسی نا اہل شخصیت یا کسی ایسی شخصیت کو بیٹھا دیا جائے جسے اپنے منصبی فرائض کی بہ طریق احسن سر انجام دہی کی بجائے دیگر معاملات سے دلچسپی ہو یا پھر سرے سے کوئی وزیرِ خارجہ ہی مقرر نہ کیا جائے تو پھر یہی ہوگا جو برسوں سے ہوتا آ رہا ہے کہ قومی سلامتی سے متعلقہ اداروں کی خارجہ پالیسی کے معاملات میں مداخلت سامنے آئے گی اس لیے کہ خارجہ پالیس اور قومی سلامتی کے معاملات آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ (جاری ہے)


ای پیپر