نرگسیت کا دیدہ ور
01 اکتوبر 2020 (13:18) 2020-10-01

نرگس کے پھولوں سے منسلک قدیم یونانی کہانی نے ہمیشہ مجھے حیران کیا کہ کہاں دھیمی دھیمی دل موہ لینے والی خوشبو ٗ خوبصورت ترین نرگس کے پھول اور کہاں خود پسندی؟۔ شاید یہی خیال ولیم ورڈزورتھ کو بھی آیا ہو جب 15 اپریل 1802 کو انہیں راستے میں جاتے ہوئے نرگس کا پھول نظر آیا اور وہ سب کام چھوڑ کر کتنی ہی دیر اس کی خوبصورتی کو دیکھتے رہے اور پھر انہوں نے ان فنکارانہ احساسات کو اپنی ایک شہرہ آفاق نظم میں سمو دیا۔ قدیم یونانی اساطیر کے مطابق نارسیسس ایک خود پسند ٗ گھمنڈی ٗ مغرور اور خوابوں کی دنیا میں رہنے والا کردار تھا جس کی نرگسیت کا شکار ہو کر ایک خوبصورت اپسرا ”ایکو“ موت کا شکار ہو گئی۔ تب بدلہ لینے والی دیوی نے نارسیسس کو ایکو کا سچا پیار ٹھکرانے کیلئے سزا دی کہ جہاں ایکو کی موت ہوئی اس غار کے پاس تالاب کے پانی میں نارسیسس اپنا عکس دیکھے گا اوراپنے ہی عشق میں مبتلا ہو جائیگا۔ نارسیسس کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ وہ اسی تالاب کے کنارے بس گیا اور پانی میں اپنا عکس سراہتے ہوئے بھوک کی تاب نہ لاتے ہوئے موت کا شکار ہو گیا۔ جس جگہ تالاب کنارے نارسیس کی موت ہوئی وہیں پر ایک پھول اگا جو نارسیسس کی طرح پانی میں اپنا عکس دیکھ رہا تھا۔ 

کہا جاتا ہے کہ نرگس کا پھول بھی اپنی ہی محبت کا شکار ہوتا ہے۔ یہ پانی میں اپنے ہی عکس کو دیکھتا رہتا ہے اور اسی وجہ سے اس پھول کو قدیم یونانی کہانی کے کردار کے نام پر Narcissus کا نام دیا گیا جسے اردو میں نرگس کا پھول کہا جاتا ہے۔ انگلش میں اسی سے Narcissism کی اصطلاح وجود میں آئی جسے اردو میں نرگسیت کہا جاتا ہے۔ اگر آپ نرگسیت کی علامات دیکھیں تو آپ کو پاکستان کے موجود مسائل کی وجہ بہت آسانی سے سمجھ آ سکتی ہے لیکن کسی پر بھی چلتے پھرتے الزام لگانے سے پہلے اس بات کا تعین بہت ضروری ہے کہ آیا وہ شخص نرگسیت کا شکار بھی ہے یا نہیں۔ نرگسیت کی 9 علامات ہوتی ہیں اور نفسیات دانوں کے مطابق اگر کسی مریض میں 5 علامات ایک ساتھ موجود ہوں تو وہ نرگسیت کا مریض ہوتا ہے اور اسے علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

نرگسیت کے مریض کی پہلی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ بے شرم ہوتے ہیں۔ان کا خیال ہوتا ہے کہ وہ کسی بڑے عہدے کے مستحق ہیں اور کسی بھی قیمت پر انہیں اس بڑے عہدے کو حاصل کرنا ہے چاہے اس کیلئے انہیں کوئی بھی قربانی دینی پڑ جائے اور جب تک انہیں یہ بڑا عہدہ حاصل نہ ہو وہ اپنے چاہنے والوں سے یہ امید رکھتے ہیں کہ انہیں اسی عہدہ کے مطابق پروٹوکول دیا جائے۔یہ لوگ اپنی ہی نظر میں ملک کے مالک ہوتے ہیں ٗ سب مسائل کا حل جانتے ہیں۔ نرگسیت کے شکار لوگوں کی دوسری علامت یہ ہوتی ہے کہ انہیں ہر وقت تعریف کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی ان کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا لے انہیں پھر بھی مزید خوشامد کی ضرورت ہو گی۔

نرگسیت کے شکار لوگوں کی تیسری علامت بہت اہم ہے۔ ایسے لوگوں میں ہمدردی کا فقدان ہوتا ہے۔ انہیں کسی کی پرواہ نہیں ہوتی۔کوئی ان کے گھر مہمان جائے تو کچھ بعید نہیں یہ مہمان کو چھوڑ کر کتے کے ساتھ واک پر چلے جائیں۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ انہوں نے پیدا ہو کر ملک ٗ ماں باپ ٗ دوستوں سب پر احسان کیا ہے۔ انہیں کسی کے جذبات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ ان کی بیوی کیا سوچتی ہے ٗ وہ رہے نہ رہے ٗ چھوڑ کر چلی جائے۔ ان کے بچے جیسے مرضی رہیں بس اپنی زندگی گزاریں انہیں تنگ نہ کریں۔

چوتھی علامت یہ ہے کہ انہیں گمان ہوتا ہے کہ ساری دنیا ان سے جلتی ہے جبکہ درحقیقت ان کو سب سے جلن ہوتی ہے۔ کسی کو بڑے عہدے پر دیکھیں تو ان کی خواہش ہوتی ہے میں کسی بھی طرح ٗ کسی بھی قیمت پر اس عہدے تک پہنچ جاؤں۔ انہیں لگتاہے کہ لوگ ان کی خوبصورتی ٗ پہناوے ٗ عہدے سے جلتے ہیں اور اس لئے یہ اکثر پیروں فقیروں کے پاس جانے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے اور اللہ کے نیک بندوں سے دعائیں کرواتے ہیں۔یہ خود کوسمجھا لیتے ہیں کہ میں کیونکہ بہت ہینڈسم اور عظیم انسان ہوں اس لئے پوری دنیا مجھ سے جلتی ہے۔ نرگسیت کے شکار افراد کی پانچویں علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ بدتمیزی کی حد تک گھمنڈی ٗ مغرور اور متکبر ہو تے ہیں۔ ان کے چاہنے والے چاہے ان کیلئے مر جائیں لیکن انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ دوسروں کے جذبات یا مفادات کا لحاظ کئے بغیر ان کا استحصال کرتے ہیں۔

 چھٹی علامت کے مطابق یہ خود پسندی کا شکار ہوتا ہے ٗ انہیں کامل یقین ہوتا ہے کہ میں ایک غیر معمولی انسان ہوں ٗ میں دنیا میں بڑے کام کرنے آیا ہوں۔ساتویں علامت یہ ہوتی ہے کہ نرگسیت کے شکار لوگوں کی ایک تصوراتی دنیا ہوتی ہے اور وہ اپنی ہی دنیا میں سب کچھ حاصل کر لیتے ہیں۔ یہ لوگ خوابوں خیالوں میں ہی ہر بڑے مسئلے کو چٹکیوں میں حل کر لیتے ہیں لیکن جب ان کو حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ان کے چھکے چھوٹ جاتے ہیں اور پھر انہیں اپنی رائے سے مکرنا پڑتا ہے ٗ واپس بھاگنا پڑتا ہے اور مختلف تاویلیں دینی پڑتی ہیں۔ لیکن اس موقع پر بھی چاہے وہ اپنی کہی ہوئی کوئی بات پوری نہ کر سکے ہوں لیکن اپنی نظر میں کامیاب ہی ہوتے ہیں۔ اپنے تصورات میں انہوں نے وہ سب کچھ حاصل کر لیا ہوتا ہے جس کا انہوں نے سوچا ہوتا ہے۔ 

نرگسیت کے شکار لوگوں کی آٹھویں علامت یہ ہوتی ہے میں بہت خاص ہوں اور مجھے وہی سمجھ سکتے ہیں جو خود بہت خاص ہوں گے۔ جو مجھے سمجھ نہیں پا رہے وہ سطحی لوگ ہیں ٗ ان کی عقل محدود ہے۔ اگر آپ کو میری باتوں کی سمجھ نہیں  آرہی اس کا مطلب ہے آپ دماغی طور پر کند ذہن ہیں۔  اس بیماری کے شکار لوگوں کی نویں اور آخری علامت یہ ہوتی ہے کہ ایسے لوگ دوسرے لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔خاص طور پر اپنے ارد گرد قریبی رشتہ داروں ٗ دوستوں کے جذبات کی قطعاً پرواہ نہیں کرتے۔ یہ لوگوں کو ایک ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتے ہیں اور پھر جب ان کا مقصد پورا ہو جاتا ہے تو یہ ان کو ایسے پھینک دیتے ہیں جیسے ان کی کبھی کوئی جگہ ہی نہیں ہوتی ٗ اگر ان کا اپنے کسی بہت قریبی رشتے سے بھی دل بھر جائے یا ان کی اس سے ہم آہنگی نہ ہو رہی ہو تو یہ ایسی کوئی کوشش نہیں کریں گے کہ اس کے جذبات کو سمجھتے ہوئے کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کریں بلکہ یہ اسے ایسے چھوڑ دیں گے کہ وہ خود اور ساری دنیا حیران ہو کر رہ جائے گی۔ 

شاعر نے نرگس کے ہزاروں سال رونے کے بعد دیدہ ور پیدا کیا تھا لیکن نرگسیت کے شکار دیدہ وروں کا علاج ہونے تک اس ملک کی حالت بہتر ہونے کی امید خام خیالی ہے۔ بقول ایک اور شاعر 

 میں ہی میں ٗ سب کچھ ہی میں ٗجھگڑا انا کا کیا ہوا؟

تم ہو تمہی ٗسب کچھ تمہی ٗ ہم خود بھی تم ہو جائیں گے


ای پیپر