سعودی شہری کی چھوٹی سی غلطی ، لاکھوں روپے سے محروم 
01 اکتوبر 2020 (12:58) 2020-10-01

ریاض : سعودی شہری نے غلطی سے ایک انجانے شخص کے اکائونٹ میں 70 ہزار ریال منتقل کر دیئے۔ متعلقہ شخص نے 20 ہزار ریال واپس کرکے باقی رقم سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ 

سبق ویب سائٹ کے مطابق جس شخص کے اکائونٹ میں رقم منتقل ہوئی اس نے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ20 ہزار ریال اپنے بھائی کو ٹرانسفر کیے تھے۔ جہاں تک باقی ماندہ رقم کا تعلق ہے تو وہ اکاؤنٹ سے اس کی لاعلمی میں کسی کارروائی کے بغیرنکل گئے۔ نہیں پتہ کہ کس نے یہ رقم نکالی اور کسے منتقل کی۔

 یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کے اکاؤنٹ میں مبینہ رقم کیسے آئی اور کیسے نکلی۔عدالت نے اکائونٹ ہولڈر کو حکم دیا کہ وہ باقی ماندہ رقم 50 ہزار بھی اسی طرح واپس کردے جس طرح اس نے بیس ہزار ریال واپس کیے ہیں کیونکہ مدعی نے یہ رقم اکاؤنٹ میں غلطی سے منتقل کی تھی۔   فیصلے کے خلاف کورٹ میں اپیل دائر کردی گئی۔ معاملہ ایک بار پھر عدالتی بنچ کے حوالے کر دیا گیا۔ اپیل کورٹ نے ترسیل زر کی حقیقت دریافت کرنے کے لیے سعودی عریبین مانیٹری اتھارٹی ساما سے رجوع کیا۔

 ساما نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مدعی کا یہ دعوی درست ہے کہ اس نے 70 ہزار ریال اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیے تھے۔ ریکارڈ کی جانچ  سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ اے ٹی ایم کے ذریعے رقم اکاونٹ ہولڈر نے بھائی اور دیگر افراد کو منتقل کی گئی ہے۔  ایگزیکٹیو کورٹ نے حکم دیا ہے کہ پانچ روز کے اندر باقی ماندہ  50 ہزار ریال واپس کی جائے ورنہ اکاؤنٹ ہولڈر کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

سعودی وزارت تجارت کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق کہا گیا ہے کہ شہری اپنی ٹرانزکشن کرتے ہوئے اپنے تمام کوائف  ، اکاوئنٹ نمبر اور جس کو رقم ٹرانسفر کی جارہی ہے اس کی تمام تفصیلات کو چیک ضرور کرلیں  


ای پیپر