آئینہ اور بدصورت!
01 اکتوبر 2020 2020-10-01

گزشتہ کالم میں، میں نے ایک ریٹائرڈ پولیس افسرکی کچھ اہم ”خصوصیات“ پر تھوڑی بہت روشنی کیا ڈالی محکمہ پولیس میں چانن ہی چانن ہوگیا، کالم پڑھنے کے بعد کچھ پولیس افسروں نے مجھے فون کرکرکے اُن کی شہرت وخوشامدپسندی، اُن کی منافقت ومنتقم مزاجی کے ایسے ایسے واقعات سنائے جو وقتاً فوقتاً میں آپ کو سناتا رہوں گا، کچھ دوستوں نے اُس پولیس افسر کا نام بھی پوچھا جو اس ریٹائرڈ پولیس افسر کی شہرت پسندی ومنتقم مزاجی کی بھینٹ چڑھ گیا، اُس کا نام مرزا شکیل تھا، وہ بے چارہ اپنے باس یعنی ریٹائرڈ پولیس افسر (آئی جی موٹروے) کی خواہش کے مطابق علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور اور ایگری کلچرل یونیورسٹی فیصل آباد کے پرنسپل یاوائس چانسلر زکو اس بات پر راضی کرنے میں تو کامیاب ہوگیا کہ وہ اپنے اپنے اداروں میں اس کے باس کے خصوصی لیکچرز کا اہتمام کریں، مگر وہ پوری کوشش کے باوجود انہیں اپنے باس کی خواہش کے مطابق اس بات پر راضی نہ کرسکا کہ باس جب طلبہ سے ”خصوصی خطاب “ کرنے تشریف لائیں تو پرنسپل صاحبان یا وائس چانسلرز صاحبان مع اساتذہ اپنے اپنے دفاتر سے باہر آکر اس کے باس کا استقبال کریں، اُنہیں گلدستے پیش کریں، اُن پرپھول نچھاور کریں“ ۔....اس بات کا اُس ریٹائرڈ پولیس افسر نے اس قدر بُرا منایا مختلف طریقوں سے ڈی آئی جی مرزا شکیل کو اذیت دینا شروع کردی، اُس کے قریبی دوستوں کا کہنا ہے یہی اُس کے ہارٹ فیل کی وجہ بنی ،....آئی جی پنجاب انعام غنی پر کرپشن وغیرہ کے جوالزامات ایک ٹی وی چینل پر بیٹھ کر اُنہوں نے لگائے، میراخیال تھا آئی جی انعام غنی اس پر اسی طرح چُپ سادھ لیں گے جس طرح ایک کالم میں سابق آئی جی ڈاکٹر شعیب دستگیر نے خود پر لگنے والے ”کاروباری الزامات“ پر صرف یہ ریمارکس دے کر چُپ سادھ لی تھی کہ ”کالم نویس کو کوئی فیڈ کررہا ہے“ .... آئی جی انعام غنی نے اپنے وکلاءکے ذریعے اِس ریٹائرڈ پولیس افسر کو ایک لیگل نوٹس بھیجا ہے کہ وہ ان الزامات کو ثابت کریں یا اُن سے معافی مانگیں....ریٹائرڈپولیس افسر اس لیگل نوٹس کا کیا جواب دیتے ہیں؟ مجھے اس بارے میں ظاہر ہے کچھ معلوم نہیں، مجھے صرف اتنا معلوم ہے کسی پر کوئی الزام لگے اور وہ اُس پر چُپ سادھ لے تو اِس کا مطلب یہی ہوتا ہے کچھ نہ کچھ سچائی اُس الزام میں ضرور موجود ہے، آئی جی انعام غنی نے چپ نہیں سادھی جس پر ہمارے دلوں میں اُن کے کردار کے حوالے سے موجود وسوسوں میں کمی ہوئی ہے، آئی جی پنجاب بننے کے پہلے ہی روز بڑی محبت سے مجھے اُن کا فون آیا، میں نے چند باتیں اُن سے کیں، یہ بھی عرض کیا ”یہاں کوئی فرشتہ نہیں، میں بھی نہیں، پر اللہ نے آپ کو آپ کی اوقات سے بڑھ کر جس عہدے سے قبل ازوقت نواز دیا ہے یہ سنہری موقع ہے آپ کی شخصیت پر کچھ داغ ماضی میں اگر لگے بھی ہیں اپنے عمل اور کارکردگی سے اُنہیں دھوڈالیں، .... اُن پر ایک ٹی وی چینل پر بیٹھ کر الزامات لگانے والے انتہائی شہرت پسند پولیس ریٹائرڈ افسر نے 2012ءمیں ایف آئی اے میں اُن کی انکوائری کرنے والے ڈاکٹرشعیب کو بہت ایماندار قرار دیا، اُس کی مبینہ ”ایمانداری “ کے بارے میں کسی نے مجھے بتایا اسلام آباد میں ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کی ایک انکوائری ہوئی تھی، اِس کے بائی لاز میں ہیرا پھیری کی گئی تھی، اِس میں بڑی بڑی شخصیات ملوث تھیں، اِس انکوائری میں سرکار کو اکیس ارب روپے کا ”ٹیکہ“ لگنے کا انکشاف ہوا تھا، طاقتور شخصیات نے پہلی انکوائری کو رد کرواکر سرکار سے دوبارہ انکوائری کے احکامات جاری کروالیے۔ ڈاکٹر شعیب کو اِس کا انکوائری افسر مقرر کیا گیا، وہ اُس وقت ایف آئی اے میں تھے، اُن پر الزام ہے مبینہ طورپر اُنہوں نے اِس کیس کے ملزمان کو فائدہ پہنچانے کی بھرپور کوشش کی، اِس معاملے میں وہ اِس حدتک چلے گئے ایف آئی اے کے جن افسران نے پہلے انکوائری کی تھی جس میں سرکار کو اکیس ارب روپے کے ”ٹیکے“ لگنے کا انکشاف کیا تھا، اُنہیں وہ مختلف طریقوں سے ہراساں کرتے رہے، بعد میں یہ معاملہ عدالت میں صرف آٹھ ارب روپے میں رفع دفع ہوگیا، .... اب اِس موقع پر مبینہ طورپر ایماندار اسی ڈاکٹر شعیب کا ایک اور واقعہ بھی مجھے یاد آرہا ہے، جس پر اُس کے عاشق ریٹائرڈ پولیس افسر نے باقاعدہ کالم لکھ کر اپنے ہی محکمے کے منہ پر کالک ملنے کی انتہائی ناکام کوشش کی تھی، اُنہوں نے اپنے کالج میں اُس وقت کے پولیس ٹریننگ کالج سہالہ کے کمانڈنٹ ، موجودہ آئی جی اسلام آباد عامر ذوالفقارپر الزام لگایا وہ ٹریننگ کرنے والی بچیوں کو جنسی طورپر ہراساں کرتے ہیں۔ عامر ذوالفقار کو کتنے ہی برسوں سے ذاتی طورپر میں جانتا ہوں، وہ انتہائی نفیس اور شفیق انسان ہیں، اسلام آباد میں کوئی آئی جی دوماہ سے زیادہ نہیں ٹکا، اُنہیں اِس عہدے پر ایک سال سے زائد عرصہ بیت گیا، اِس ”حکمرانی شہر“ کو قابو کرنا آسان کام نہیں، پر جتنی وہ اپنے والدین کی خدمت کرتے ہیں، عام لوگوں کے مسائل حل کرکے جتنی وہ اُن کی دعائیں لیتے ہیں اُس کا نتیجہ ہے اُن کی ہرمشکل آسان ہو جاتی ہے، اور اُن کے حاسدین ایسی اذیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس کی تمنا بھی عامر ذوالفقار نہیں کرسکتے، کیونکہ وہ ہمیشہ لوگوں کا بھلا ہی چاہتے ہیں، چاہے کوئی اُن کا دشمن ہی کیوں نہ ہو، .... عامر ذوالفقار کے خلاف مذکورہ بالا ریٹائرڈ پولیس افسر نے جب کالم لکھا اُس کی انکوائری بھی ڈاکٹر شعیب نے کی اور اُنہیں صرف اپنے عاشق پولیس افسر کی خواہش یا ایماءپر ”گلٹی“ قرار دے دیا، شرم و حیا والے پولیس افسر کے ساتھ زیادتی ایسے ریٹائرڈ پولیس افسر نے کی جس کی اگر شادی ہوئی ہوتی، اُس کی اولاد ہوتی،شاید اُسے احساس ہوتا اِس قدر بھونڈے انداز میں ایک خاندانی شخص کو بدنام کرنے سے اُس کے بچوں خصوصاً اس کی بیٹیوں واہل خانہ پر اُس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟.... اب جو الزامات اس ریٹائرڈ پولیس افسر نے آئی جی پنجاب انعام غنی پر لگائے آئی جی کو چاہیے اپنے ”لیگل نوٹس“ کو کسی ایسے انجام یا نتیجے پر لے جائیں جہاں اِس شہرت وخوشامد پسند، منافق ، جھوٹے اور خودساختہ ایماندار ریٹائرڈ پولیس افسر کو منہ چھپانے کی جگہ نہ ملے، .... ویسے اُن کے اپنے ہی پسندیدہ حکمرانوں نے اُن کی پوری کوشش اور خواہش کے باوجود اُنہیں آئی جی پنجاب نہ بناکر جو کالک اُن کے منہ پر ملی وہ شاید ساری زندگی مٹ نہ سکے گی، بجائے اِس کالک کا بدلہ وہ کالک ملنے والوں سے لیں، اس کا بدلہ وہ اپنے ہی اُس محکمے کو اور اُس کے کچھ افسران کو مسلسل بدنام کرکے لے رہے ہیں جس سے برسوں وہ وابستہ رہے اور اس کے فائدے میں اپنی پسندیدہ جماعت سے اپنے بھائیوں کے لیے قومی اسمبلی کی نشستوں کے بندوبست وہ کرتے رہے۔ خود کو خودبخود ایماندار قرار دینے میں کوئی اُن کا ثانی نہیں، اُنہیں شاید معلوم نہیں سچے ایمان والے لوگ وہ ہوتے ہیں جو دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالیں۔ یہ ریٹائرڈ پولیس افسر اِس معاملے میں ہم جیسے کمزور ایمان والوں سے بھی گئے گزرے ہیں، .... وہ شکرکریں میں اُن جیسا ”ایماندار“ نہیں ورنہ اُن کے کچھ ایسے عیبوں سے پردہ اُٹھا دیتا آئندہ کسی پر گھٹیا الزام لگانے کی وہ جرا¿ت نہ کرتے ،.... کچھ لوگ جس تھالی میں کھاتے ہیں اُسی میں سوراخ کردیتے ہیں، اپنے محکمے اور اُس کے کچھ افسروں کو بدنام کرکے اپنی ہی تھالی میں جتنے سوراخ یہ ریٹائرپولیس افسر کررہے ہیں، سمجھ نہیں آرہی اتنے سوراخوں کا وہ کریں گے کیا ؟؟!! 


ای پیپر