معاملے مفاہمت کے 
01 اکتوبر 2020 2020-10-01

انسان کی ذاتی پسند اور ناپسند بھی عجیب چیز ہے، بعض اوقات کوئی شخص بغیر وجہ کے اچھا لگتا ہے، اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے، کہ اچھی کارکردگی کے باوجود بھی انسان دوسروں کو اچھا نہیں لگتا میرا خیال بھی کچھ اسی قسم کا ہے، کیونکہ مجھے پیپلزپارٹی کے بہت سے فیصلوں سے اختلاف ہوتا ہے، مگر مجھے ان کے وزیرداخلہ جنرل نصیراللہ بابر بہت اچھے لگتے تھے، خصوصاً ان کی صاف گوئی اور اندھا دھند بہادری تو بہت ہی اچھی لگتی ہے، میں اس کا مقابلہ وموازانہ خداگواہ ہے، موجودہ وزیر دفاع سے نہیں کررہا، کیونکہ پٹھان موٹا بھی ہوسکتا ہے، اور پتلا بھی، اسی طرح اجمل خٹک مرحوم محض اس لیے مجھے اچھے نہیں لگتے تھے، کہ وہ کبھی کبھار میرے گھر تشریف لے آتے تھے، ان کی شفقت اور محبت اور جنرل پرویز مشرف کے بارے میں سرعام یہ کہنا کہ وہ مجھے منصب اور مراعات کی باتیں کرتے ہیں، مجھے ان کی حق گوئی بہت پسند تھی حالانکہ ان کی پارٹی سے میرے علاوہ اور بھی بہت سارے لوگوں کو اختلاف تھے بلوچستان کے حافظ حسین احمد بھی جو خصوصاً اسمبلی کے اجلاس میں جب منتخب ہوجاتے ہیں، اور اپنی کارکردگی کی وجہ سے کمال پر پہنچ جاتے ہیں، اورحکومتی ارکان کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتے بلوچستان کے بہت سے رہنما خداپرست بننے کی بجائے چونکہ قوم پرست بننے کو اپنی ذاتی مجبوریوں کی وجہ سے زیادہ ترجیح دیتے ہیں لہٰذا مناسب یہ ہے کہ ان کے بارے میں منہ نہ ہی کھولا جائے، قارئین میری بات طلال چودھری سمجھ گئے ہوں گے مجھے ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ بھی اس لیے بہت پسند تھے، کہ وہ دھیمے مزاج کے سیاستدان، جو غصے میں بھی اعتدال میں رہتے، صوبہ سندھ سے ایک سیاستدان ایسے بھی ہیں جنہیں جس جیل میں بند کیا جاتا ہے، وہاں حکومت سے زیادہ وہ جیل کی اصلاح اور قیدیوں کو مراعات کی سوغات دے جاتے ہیں میری اس بات کو ایک ہدایت یافتہ اداکارہ سمجھ سکتی ہیں۔ چونکہ وہ اصولوں کے پابند ہیں لہٰذا نیب سے تو وہ بالکل ہی نہیں ڈرتے، مجھے ایک واقعہ اچانک یاد آیا ہمارے ایک سائنس ٹیچر ہوا کرتے تھے، مولا داد خان، ان کا ایک شاگرد قصائی تھا، اگر شیخ رشید نے کالم پڑھ لیا، تو خطرہ ہے، کہ وہ اس قصائی کا رشتہ اجمل قصائی ہی سے نہ جوڑ دیں، کیونکہ وہ نواز شریف کابینہ میں بھی وزیر رہ چکے ہیں، اور میاں نواز شریف ان پر بہت بھروسہ کرتے تھے، اب مجھے نہیں پتہ کہ نواز شریف صاحب کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے یا شیخ رشید کے اعتماد کو مگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے علاوہ عوام بھی اس معمے کو حل کرسکتے ہیں۔ عجیب اتفاق ہے ، کہ میں ابھی تک بلوچ اور پٹھان سیاستدانوں کی بات کررہا ہوں، چلیں سندھ سے موجودہ صبغت اللہ پیر پگاڑہ اور ان کے والد مرحوم کی بات کرلیتے ہیں، کیونکہ ان کا معاملہ سب سے الگ اور منفرد ہے، ان سے عوام سے زیادہ حکمران پیار کرتے ہیں اور خصوصاً فوجی حکمران تو ان سے والہانہ لگاﺅ رکھتے ہیں اور وہ دوطرفہ باہمی یگانگت واخوت کے جذبے کا اظہار اور چاہت کا شکرانہ وہ سیاستدانوں اور حکمرانوں کے بالواسطہ حق میں بیان دے کر ادا کرتے ہیں، جنرل مشرف کے دور اور جنرل ضیاءالحق مرحوم کے دور کی بات اور تھی، اب ان کی چاہت وپسندیدگی اپنے مریدین تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ 

پنجاب میں جہاں تک میاں برادران جیسے جہاندیدہ ، بندہ شناس یادوں کے یاد کا تعلق ہے، تو مریم نواز نے شاید مجھ سے زیادہ کلمہ حق ادا کردیا ہے، کیونکہ میں تو عوامی آدمی ہوں، اور خصوصاً چینلزپر عوام کیا کہتے ہیں، میں سنتا رہتا ہوں، اور پچھتاتا رہتا ہوں کہ میرا ووٹ تحریک انصاف نے اس دفعہ لاہور کی بجائے ڈیرہ غازی خان کیوں بنادیا تھا، حالانکہ میں تو یہاں لاہور کا رہائشی ہوں، اور پہلے ووٹ بھی یہیں ہی ڈالتا رہا ہوں ، شاید میرے والد محترم مرحوم کا ووٹ بنادیا ہو، مگر وہ تو یہاں آ نہیں سکتے ہیں، خدا نہ کرے کہ وہ انہیں ہی نہ بلوا لیں۔ چلیں چھوڑیں، پیارومحبت کی باتیں ہورہی ہیں، جہاں تک بینظیر مرحومہ کا تعلق ہے، تو پیار و محبت کے کالم میں خاتون کا ذکر کرنا ناپسندیدہ فعل ہے، لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ شاید مولانا فضل الرحمن بینظیر صاحبہ سے بلاول زرداری تک مجھ سے زیادہ تبصرہ کرسکتے ہیں، کیونکہ ان کے چہرے پہ چھائی مسکراہٹیں جب وہ اپوزیشن لیڈرتھے، بھلائے سے بھی ہم سے نہیں بھولتیں جہاں تک میری پسند کا معاملہ ہے، تو میرے پسندیدہ سیاستدان تو امیر العظیم ، فرید پراچہ کی موجودگی کے باوجود زیادہ مولانا سراج الحق ہیں، کیونکہ وہ تینوں مولانا فضل الرحمن سمیت ہمیں بے حد پیارے ہیں اور ان سے بے تحاشہ محبت کرتے ہیں، کیونکہ وہ اسلام کے نام پہ سیاست کرتے ہیں، اصولوں پر نہیں، اسی لیے تو علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا ، کہ 

نہ ہوگردیں سیاست میں 

  تورہ جاتی ہے، چنگیزی !


ای پیپر